Topics
محبت انسان کی سب سے بڑی رفیق اور ہمدرد ہے جو پیدائش کے
پہلے دن سے اپنا کردار شروع کردیتی ہے عمر کے کسی حصے میں اگر وقتی طور پر محبت نہ ملے تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ بندہ محبت سے
محروم ہو گیا اس لئے کہ کوئی نہ کوئی چاہنے والا موجود رہتا ہے۔
چاہت
ہر آدمی یہ چاہتا
ہے کہ میں کسی کو چا ہوں اور کوئی مجھے چاہے کوئی آدمی چاہت میں ملاوٹ پسند نہیں کر تالیکن جب وہ کسی
کو چاہتا ہے خود غرضی اس کے اوپر مسلط ہو جاتی ہے وہ محبوب کو محکوم رکھنا چاہتا
ہے خود محکوم ہونا نہیں چاہتا۔
ناخوش
جو چیز موجود ہے اس کے لئے خود کو محدود کر لینا نا دانی ہے
وسائل کی قدرو قیمت اس حد تک ہو کہ وسائل استعمال کے لئے بنائے گئے ہیں تو
آدمی خوش رہتا ہے اور جب کوئی انسان وسائل
کی قیمت اتنی لگا دیتا ہے کہ اس کی اپنی قیمت کم ہو جائے تو آدمی ناخوش ہو جاتا
ہے۔
انسان
انسان اپنے جیسے انسانوں سے توقعات توڑ کر اللہ سے توقعات
قائم کر کے جدوجہد کرے تو محدودیت سے نکل جاتا ہے اور وہ ایسے لامحدود دائرے میں
محفوظ ہو جاتا ہے جہاں خوف اور غم نہیں ہے۔
اتباع سنت
حضور پاک ﷺکی مجموعی زندگی میں سے چند اعمال کو اختیار کر کے اتباع
سنت کادعوی کرنے والوں کو اللہ کبھی معاف نہیں کرے گا۔
خوشی
خوشی ایک فطری عمل ہے جب کہ ناخوش ہونا غمگین ہونا غیر فطری
عمل ہے نا خوش انسان خود اپنے آپ سے دور ہو جاتا ہے جب کہ خوش رہے والا انسان اپنی
ذات میں انجمن ہوتا ہے اور دوسرے لوگ بھی اس کے گردیده ہو جاتے ہیں۔
نیکوکاری
نیکوکاری یہ ہے کہ بندہ اپنے خالق کو پہنچالے اور محروم
القسمت لوگ وہ ہیں جو اپنے خالق کو نہیں پہچانتے، خالق کا عرفان حاصل کرنے کے لئے پہلے
خود اپنی ذات کا عرفان ضروری ہے۔
قدرت
قدرت چاہتی ہے کہ ہم قدرت کی نشانیوں پر غور کر کے نیکو کار
کی زندگی بسر کریں اس لئے نیکوکاری قدرت کی حسین صفت ہے، خدا چاہتاہے کہ اس کی صفت
میں بد نمائی نہ ہو۔
توبہ
توبہ ہی ہر طرح کے فتنہ و فساد اور خوف ودہشت سے محفوظ ہونے
کا حقیقی علاج ہے۔
خوف وغم
خوف وغم کا ہو نادوزخ
ہے اور اس سے نجات پا لینا جنت ہے۔
مشیت
مشیت ایزدی ایک ایسی حقیقت ہے جس کے بارے میں بجز صبر و شکر
کے کوئی چارہ نہیں۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
روحانیت
تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے
لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔