Topics
برائی یابھلائی کا جہاں تک تعلق ہے کوئی عمل دنیا میں برا
ہے نہ اچھا ہے دراصل کسی عمل میں معنی پہنانا اچھائی یا برائی ہے معانی پہنانے سے
مراد نیت ہے عمل کرنے سے پہلے انسان کی نیت میں جو کچھ ہوتا ہے وہی خیر و شر ہے۔
ہستی کے تابع
انسان کا ہر عمل،ہر فعل،ہر حرکت،کسی ایسی ہستی کے طابع ہے
جو ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتی۔
اللہ کا وصف
اللہ کا وصف یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کو تخلیق کرتا ہے تو اس
تخلیق سے اربوں،کھربوں تخلیقات وجود میں آتی ہیں۔
انسان کےلئے تخلیق
جب ہم کسی چیز میں اللہ کی صفات تلاش کرتے ہیں تو ہمارے
اوپر یہ منکشف ہوتا ہے کہ کائنات میں جو کچھ ہے یا زمین میں جو کچھ موجود ہے سب
انسان کے لیئے تخلیق کیا گیا ہے۔
جھوٹ سچ
یہ ایک مسلمہ ہے کہ خیرات کرنے والے لوگ کبھی مفلس نہیں
ہوتے زندگی کے اعمال میں جھوٹ کی تھوڑی سے آمیزش بھی قول و فعل میں تضاد پیدا کر
دیتی ہے سچ ایک ایسی حقیقت ہے جو زمین کے ایک ایک ذرہ کو منور کرتی رہتی ہے اور
زمین کا ایک ایک ذرہ پکار کر اعلان کرتا ہے کہ یہ انسان سچ کا پیامبر ہے۔
دوستی کا وصف
ماوراء ہستی اللہ سے جتنی محبت کی جائے وہ ہستی اسی مناسبت
سے دس گناہ بندے کیطرف متوجہ ہو جاتی ہے دوستی کا وصف قربت ہے نہ کہ دوری دوست کو
دوست سے نہ خوف ہوتا ہے اور نہ غم۔
ڈر
ڈر اور خوف دو انسانوں کے درمیان ایک انسان اور درندہ کے
درمیان ایک انسان اور سانپ کے درمیان دوری اور بعد کھڑی کردیتے ہیں اس کے متضاد محبت
سے قربت پیدا ہوتی ہے،
روحانی آدمی
ایک مذہبی روحانی آدمی کے اندر سکون ہوتا ہے، قناعت ہوتی ہے
وہ ایسے کام کرتا ہے جن کاموں سے اس کی نوع اور انسانی برادری کو آرام ملتا ہے اس
کے اندر ایسی غیر مرئی قوتیں پیدا ہو جاتی ہیں جن قوتوں میں عوام الناس کی فلاح
مضمر ہے۔
انصاف
انصاف پسند شخص کے اندر خدا کا عدل ہوتا ہے۔ عدل ، انصاف،
مروت اور رحم دلی کے نتیجےمیں ماورا ہستی کے اندر داخل ہوجاتی ہے۔
روحانی واردات و کیفیات
روحانی واردات و کیفیات اگر حقیقت پر مبنی نہ ہوں تو اس بات
کا گمان یقین بن جاتا ہے کہ شیطان آدم زاد کو نچلے گڑھے میں پھینک دیتا ہے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
روحانیت
تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے
لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔