Topics

علم کا تعین

 

علم کا تعین دو درجوں میں ہوتا ہے۔ ایک درجہ یہ ہے کہ اس علم کی بنیاد زر پرستی، جاہ طلبی اور دنیاوی عزت و وقار ہوتا ہے اور علم حق کی تعریف یہ ہے کہ علم حق میں ماسوا اللہ کے اور کچھ نہیں ہوتا۔

 

کردار

انسان کا کردار اس کی طرز فکر سے تعمیر ہوتا ہے۔ طرز فکر میں اگر پیچ ہے تو کسی بندے کا کردار بھی پر پیچ بن جاتا ہے۔ طرز فکر سادہ ہے تو بندے کی زندگی میں سادگی کارفرما ہوتی ہے

 

تصوف

تصوف ایسے عمل کو جس عمل کے پیچھے کاروبار ہو جس عمل کے پیچھے کوئی ذاتی غرض وابستہ ہو نا قص قرار دیتا ہے اور یہی انبیاء کی بھی طرز فکر ہے۔

 

جن

جن لوگوں کے قلب میں اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا مشاہدہ کرسکیں ان کے اندراتنی سکت نہیں ہے کہ فرشتوں کی آواز سن سکیں ان کی آنکھوں میں اتنی چمک نہیں ہے کہ وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دیدارکرسکیں وہ سب لوگ ذریت ابلیس میں آتے ہیں۔

 

قومیں

جو قومیں اپنی زندگی )روح( سے دور ہوجاتی ہیں وہ قومیں مر جاتی ہیں۔

 


 

من حیث القوم

مسلمان من حیث القوم جب تک اپنی روح کے ساتھ وابستہ رہے، دنیا میں عروج پاتے رہے۔ اور مسلمان من حیث القوم جب اپنی روح سے دور ہوئے تو مردہ قوم بن گئی۔

 

قناعت

خوف اور غم اس وقت تک پیچھا نہیں چھوڑتے جب تک آدمی کے اندر قناعت موجود نہ ہو۔

 

شہود

 اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین اس وقت کامل ہوتا ہے جب آدمی کے اندر وہ قوت متحرک ہو جائے جس قوت کا نام تصوف نے شہود رکھا ہے۔

 

باطنی نگاہ

 آدمی مذہبی فرائض پورے کرنے کے بعد اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی یا دوسروں کی زندگی میں تصرف کر سکے۔ اس کی باطنی نگاہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا مشاہدہ کرنے لگے۔

 

فرض

اگر فرض کی ادائیگی میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ یقین قائم نہ ہو تو یہ فرض کی ادائیگی نہ ہو گی اور بندہ بالآخر نقصان اور خسارے میں ہو گا۔

 

قدرت

پرندوں کا غول جب زمین پر اس ارادے سے اترتا ہے کہ ہمیں یہاں دانہ چگنا ہے۔ اس سے پہلے کہ ان کے پنجے زمین پر لگیں قدرت وہاں دانہ پیدا کر دیتی ہے۔


Bare Bachon Ke Liye

خواجہ شمس الدین عظیمی


روحانیت تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔