Topics
جب
ہم کسی چیز کے اندر اللہ کی صفات تلاش کر تے ہیں تو ہمارے اوپر یہ منکشف ہو جا تا
ہے کہ کا ئنات میں جو کچھ بنا یا گیا ہے یا زمین میں جو کچھ موجود ہے سب انسان کے
لئے تخلیق کیا گیا ہے ۔
انسان چو کچھ کرے
استغنا
سے مراد یہ ہے کہ آدمی جو کچھ کر ے اس عمل کے ساتھ اللہ کی خوشنو دی ہو ، اور اس کےطر ز فکر اور اس عمل سے اللہ کی مخلوق کو کسی
طر ح نقصان نہ پہنچے ۔ ہر بندہ خود خوش رہے اور نو ع انسانی کے لئے مصیبت اور آزار
کا سبب نہ بنے ۔
دوست
کوئی دوست اس وقت کام آسکتا ہے جب اللہ چاہے۔
عقل و شعور
اللہ ہی اپنی مرضی سے عقل و شعور بخشتا ہے آدمی کے اندر فکرو
گہرائی عطا کرتا ہے۔
نادان لوگ
لوگ نادان ہیں کہتے
ہیں کہ ہماری گرفت حالات کے اوپر ہے انسان اپنی مرضی اور منشا کے مطابق حالت میں
ردوبدل کر سکتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے انسان ایک کھلونا ہے حالت جس قسم کی چابی اس
کے اندر کر دیتے ہیں اسی طرح یہ کودنا، ناچنا شروع کر دیتا ہے۔
اللہ کا نظام
اللہ کا ایک نظام
ہے جو مربوط ہے ہر نظام کی دوسرے نظام کے ساتھ وابستگی ہے اس نظام میں نہ کہیں
اتفاق ہے نہ کہیں حادثہ ہے نہ کوئی مجبوری
ہے۔
کامل یقین
کسی چیز کے اوپر کامل یقین کا ہو جاتا اس وقت ممکن ہے جب وہ
چیز یا عمل جس کے بارے میں ہم نہیں جانتے
کہ یہ کس طرح واقع ہوگی بغیر کسی ارادے، اختیار اور وسائل کے پوری ہوتی رہے۔
نفس
جان ، نفس نقطہ یاروح تخلیق کرنے والی ہستی کے وجود کا ایک
حصہ ہے تخلیق کرنے والی ہستی کی تجلی کا
ایک وصف ہے اور تجلی کاوصف قدرت اور رحمت
ہے۔
تخلیقی صفات
انسان کے اندر جب تخلیقی صفات کا مظاہرہ ہوتا ہے یا اللہ اپنے فضل و کرم سے تخلیقی صلاحیتوں کا علم بیدار
کر دیتا ہے توبندے کے اوپر یہ بات منکشف ہو جاتی ہے کہ کوئی بے رنگ خیال جب رنگین
ہو جاتا ہے تو تخلیق عمل میں آ جاتی ہے اللہ بحیثیت خالق در ائےبے رنگ ہے۔
اطلاع
حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے تقاضوں کی بنیاد اطلاع ہے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
روحانیت
تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے
لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔