Topics

عرس مبارک

 

حضور قلندر بابا اولیاء کا یوم وصال ۲۷جنوری  بہ مطابق ۲۷ صفر ۱۳۹۹ ہجری ہے۔ شمسی و قمری دونوں تواریخ میں یوم وصال ۲۷ ہی ہے۔ اسی مناسبت سے ہر سال شمسی کیلنڈر کے مطابق ۲۷ جنوری کو آپ کا عرس منایا جاتا ہے۔ ہر انگریزی مہینے کے ۲۷ تاریخ کو تمام عقیدت مند آپ کے لیے خصوصہ دع بھی کرتے ہیں۔ آپ کے چاہنے والوں میں یہ دن حضور قلندتبابا اولیا کی ستائیسویں کے نام سے منایا جاتاہے۔ سالانہ عرس کی تقریب کا اہم حصہ ۲۷ جنوری کی شب خانوادہ سلسلہ عظیمہ خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کا خصوصی خطاب ہوتا ہے جس میں آپ سالکان کو معاشرے کا کارآمد اور موثر حصہ بننے کی طرف راغب کرتے ہیں ۔ آپ نے ان خطابات میں متوسلیں و سالکین کو اس بات سے آگاہ کیا ہے کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن ، چھپا اور کھلا دشمن شیطان ہے۔ عرس سے پہلےایک روزہ روحانی ورکشاپ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

حضو قلندر بابا ولیاء کا پہلا عرس مبارک

حضور قلندر بابا اولیاء کے پہلے عرس مبارک کی روحانی کیفیات سے سرشار یہ تحریر ایک عقیدت مند پر گزرنے والی کیفیات کا عکس جمیل ہے۔ یہ تحریر ان سب کے لیے ایک تحفہ ہے جو پہلے عرس مبارک میں شامل نہ ہو سکے ۔ ایک عقیدت مند کی یہ تحریر ہمیں ماضی کی آنکھ سے عرس کا منظر دکھانے میں ہمارے اذہان کے پردوں پر متبرک نقش بنائے گی اور ہم حضور بابا صاب کے فیوض و برکات سے بہرہ ور ہوں گے۔

آئیے اس تحری کی مدد سے ماضی میں سفر کرتے ہوئےپہلے عرس مبارک میں شرکت کریں۔

 

کراچی ملک کا سب سے بڑا اور سب سے پُر شکوہ شہر ہے۔ بیشمار خوبیاں ہیں جو اس شہر کو دیگر شہروں سے ممتاز کرتی ہیں اور اہل وطن کی زبان میں اسے ‘‘عروس البلاد’‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن فی الحقیقت اس شہر نگاراں کیلئے فضیلت کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے علوم و اسرار کے وارث، اللہ کے دوست، بانی طریقۂ عظیمیہ، ابدالِ حق، حامل علم لدنی، حضور قلندر بابا اولیاءؒ نے اسی شہر کو اپنے قیام اور پھر اپنے خاکی جسم کی آخری آرام گاہ کیلئے منتخب کیا۔ جیسے لاہور کا طرۂ افتخار داتاؒ کی نگری ہونا ہے ، اسی طرح کراچی کا سرمایہ ناز حضور قلندر اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کا شہر ہونا ہے۔

قلندر بابا اولیاء نے ۲۷ جنوری ۱۹۷۹ کو ظاہر بین نگاہوں سے پردہ فرمالیا تھا۔     چنانچہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے متعلقین ، متوسلیں اور عقیدت مند حضرات ن آپ کا پہلا عرس مبارک ۲۷ جنوری ۱۹۸۰ کو نہایت عقیدت و احترام اور پروقار سادگی کے ساتھ منایا۔اس مقدس تقریب میں شرکت کرنے والے ایک عقیدت مند کن کیفیات سے سرشار ہوئے۔ انہیں وہ وقارئین ، روحانی ڈائجسٹ کے لیے ان الفاط میں بیان کرتے ہیں۔

"واللہ! کیا عالم ہے، رحمتوں کا نزول ہو رہا ہے، تجلیات کی بارش ہو رہی ہے۔ فیوض و برکات کی روشنی چاروں طرف پھیل رہی ہے۔ سخی حسن سے آگے شہر کے ہنگاموں سے دور قلندر بابا اولیا کی بارگاہ تک لے جانے والے خاموش  اور پر سکون راستہ پر آج غیر معمولی چہل پہل ار گہما گہمی  نظر آرہی ہے۔ آج بابا رحمۃ اللہ علیہ کا پہلا عرس  منایا جارہا ہے۔ بچے، نوجوان ، بوڑھے ، عورتیں اور مرد جوق در جوق اپنے مرکز عقیدت  و ارادت پر جمع ہور ہے ہیں۔ دل جذ و شوق سے معمور ہیں۔ ہاتھوں میں شگفتہ پھولوں کے ہار ہیں۔ ہونٹوں پر سلام ہے اور آنکھوں میں عقیدت کی قندیلیں روشن ہیں ۔ ہر ایک کی آرزو ہے کہ آگے بڑھ کر اپنے بابا رحمۃ اللہ علیہ کے قدموں میں جھک جائے ار نذرانہ عقیدت پیش کرے۔"

"مزار مبارک کے دونوں جانب دور تک شامیانے نصب ہیں ۔ جن کے سایہ تلے ایک جانب خواتین اور دوسری جانب حضرات درود شریف آیت کریمہ  کے ورد اور تلاوت  قرآن پاک میں مشغول ہیں۔ ادھر مزار شریف کے احاطے میں بے شمار ہاتھ فاتحہ کے لیے بلند ہیں۔ ان اٹھے ہوئے ہاتھوں کے پیچھے ہزاروں آرزوئیں ہیں ، تمنائیں ہیں، حسرتیں ہیں، مرادوں سے جھولیا ں بھری جارہی ہیں۔قلندر بابا اولیا کے کا دریائے رحمت جوش پر ہے۔ کبھِی دل کا درد آنسو بن کر آنکھوں سے چھلکتا ہے کبھی حال دل لبوں کی حرکت سے عیاں ہوتا ہے اور دھیمی آوازوں میں صدائیں بلند ہوتی ہیں " بابا رحمۃ اللہ علیہ" ہم آج آپ کے در پر حاضر ہیں۔ آپ خدا شناس ہیں؛ولی ہیں؛خدا کے دوست ہیں، آپ دعا کریں کہ ہمارے اوپر بھی اللہ تعالیٰ کی لا محدود رحمتوں کا نزول ہو جائے۔

"چادریں چڑھائی جا رہی ہیں ، بابا رحمۃ اللہ علیہ کے قدموں میں پھول نچھاور کیے جارہے ہیں، منتیں مانی اور مرادیں مانگی جارہی ہیں، اس یقین کے ساتھ کہ اللہ کے اس جلیل القدر  دوست کا فیض عام ہے اور برکات لا محدود ہیں۔کچھ جو عقیدت کے ہاتھوں زیادہ وارفتہ  ہیں جھک کر حضور بابا رحمۃ اللہ علیہ کو نذرانہ عقیدت پیش کررہے ہیں اور اس مقدس مقام کی خاک کے ذرے اپنی پلکوں سے چن رہے ہیں۔ کچھ جو بابا رحمۃ اللہ علیہ  کا دامن تھام کر عرفان کی اعلا ترین منزلوں تک پہنچنے کے تمنائی ہیں۔ مزار مبارک کے نزدیک با ادب  دو زانو، آنکھیں بند کیے مراقبہ میں بیٹھے اپنی روحوں کو بابا رحمۃ اللہ علیہ کے انوار سے منور کر رہے ہیں۔"

غرض ہر طبع کا شخص موجود ہے اور کیوں  نہ ہو کہ یہی وہ مقدس بارگا ہے جہاں مظلوم کی داد رسی اور ظالم کیپُرسش ہوتی ہے۔ یہاں دوستی کو اخلاص کا گوہر ملتا ہے اور دشمنی کا لبادہ چاک ہوجاتا ہے۔ خستہ حال غنی بنتے ہیں اور دولت کے بوجھ تلے دبے ہوئے دل سکون کی وسعتوں سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ اپنے بندے کی دوستی کے طفیل اللہ تعالیٰ دعائیں قبول کرتے ہیں، دعائیں مقبول اور ہر حاضری دینے والا پیکر مہر و محبت اور مجسمۂ خلوص و ایثار بن کر لوٹتا ہے۔ یہ وہ پاکیزہ دربار ہے جہاں پہنچ کر تمام منفی جذبات دم توڑ دیتے ہیں اور اذہان رحم و کرم کی بارش میں دُھل کر شفاف ہوجاتے ہیں۔ 

یہ جذب و شوق م یہ فیوض و برکات ، یہ محبت  کی وارفتگی  کچھ عرس کے دن کے لیے مخصوص نہیں۔

بابا رحمۃ اللہ علیہ کے حضور تو ہر روز ان کی روحانی اولاد اور دیگر عقیدت مند حاضر ہوتے ہیں ۔ یہاں کی ہر صبح، ہر شام اور ہر شب سکون قلب کی پیام بر اور امن و سلامتی کی امین بن کر اتر آتی ہے۔ مسلسل فیوض و برکات روحانی  کی بارش ہوتی ہےاور قلوب  عرفان حق اور وجدان و یقین  کی روشنی سے معمور ہو جاتے ہیں۔

حضو قلندر بابا ولیاء کا دوسرا عرس مبارک

حضور قلندر بابا اولیا کے دوسرے عرس مبارک پر حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کی یہ نادر تحریر روحانی ڈائجسٹ کی زینت بن چکی ہے۔ عقیدت اور سچی محبت میں ڈوبی  یہ تحریر پیش خدمت ہے۔

آواز دوست:  جنوری کا مہینہ اپنی تمام تر رعنائیوں ، مسرتوں، خوشیوں،  رنج و الم داغ مفارقت روح کی بیتابی آتا رہا ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

کائنات ایک ایسی  حرکت ہے۔ جوایک لمحہ کو بھی رک جائے تو یہ رنگ رنگ خوشبو فضائے بسیط میں تحلیل ہو جائے گی۔

جنوری کے آخری عشرے میں کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو نم ناک نہ ہوئی ہو ، کوئی دل  ایسا نہ تھا جس کیحرکت عارضی طور پر نہ رک گئِ ہو۔ آب و گل کی دنیا سکتہ کے عالم میں تھی اور عالم بالا میں ایک جشن کا سماں تھا۔ ۲۷ جنوری ۱۹۷۹ کی رات جب کہ دن رات کے کنارے ایک دوسرے سے آملنے کے لیے بے قرار تھے، قلندر بابا اولیاء      کو خالق حقیقی نے اپنی آغوش میں سمیٹ لیا۔

نورانی لوگوں کی باتیں بھی روشن اور منور ہوتی ہیں۔ زندگی میں ان کے ساتھ ایک لمحے کا تقرب سو سالہ طاعت بے ریا سے افضل ہے اور عالم قدس میں چلے جانے کے بعد ان کی یاد ہزار سالہ طاعتِ بے ریا سے اعلیٰ اور افضل ہے کہ ایسے مقربِ بارگاہ بندوں کے تذکرے سے آدمی کا انگ انگ اللہ تعالیٰ کی قربت کے تصور سے رنگین ہوجاتا ہے۔

لازوال ہستی اپنی قدرت کا فیضان جاری و ساری رکھنے کے لیے ایسے بندے تخلیق کرتی رہتی ہے جو دنیا کی بے ثباتی کا درس دیتے ہیں۔ خالقِ حقیقی سے تعلق قائم کرنا اور آدم زاد کو اس سے متعارف کرانا ان کا مشن ہوتا ہے۔ 

آئیے! ہم دل دارِ دل نواز کی باتیں کریں.............

اس لئے کہ انسان دوستی کا تقاضہ ہے کہ انسانیت نواز، پاکیزہ کردار، عارف حق حضور قلندر بابا اولیاءؒ کی آواز کی لہریں زیر نظر کتاب '' تذکرہ قلندر بابا اولیاءؒ '' کے صفحات پر بکھیر دی جائیں، اس طرح کہ ایک مرقعہ تصویر سامنے آجائے۔ 

فرمایا قلندر بابا اولیاءؒ  نے :

نوع انسان میں مرد عورتیں بچے بوڑھے سب آپس میں آدم کے ناطے خالق کائنات کے تخلیقی راز و نیاز ہیں۔ آپس میں بھائی بہن ہیں‘ نہ کوئی بڑا ہے نہ چھوٹا۔ بڑائی صرف اس کو زیب دیتی ہے جو اپنے اند رٹھاٹھیں مارتے ہوئے اللہ کی صفات کے سمندر کا عرفان رکھتا ہو۔ جس کے اندر اللہ کی صفات کا عکس نمایاں ہو‘ جو اللہ کی مخلوق کے کام آئے‘ کسی کو اس کی ذات سے تکلیف نہ پہنچے۔"

نیکی کی تبلیغ کر نے والا خود نیک ہوتا ہے ۔بالکل اسی طر ح بدکردار آدمی دل کا خود برا ہو تا ہے  تب اس سے بدی یا دوسروں کی بربادی کے کام رونما ہو تے ہیں ۔ غصہ کی آگ پہلے غصہ کر نے والے کے  خون میں ارتعاش  پیدا کرتی ہے اور اس کے اعصاب متاثر ہو کر اپنی انرجی (Energy) ضائع  کردیتے ہیں  یعنی  اس کے اندر قوت حیات ضائع ہو کر دوسروں کو نقصان  پہنچاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نوع انسانی کے لئے کسی قسم کے بھی نقصان کوپسند نہیں فر ما تے ۔

 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

''جو  لوگ غصے پر کنٹرو ل حاصل کر لیتے ہیں، اللہ ایسے احسان کر نے والے بندوں سے محبت کر تا ہے ''

شمع پہلے خود جلتی ہے اور جب وہ اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ آگ کی نظر کر کے خود کو فنا کر دیتی ہے تو شمع کے اس ایثار پر پر وانے جا ں نثار ہو جا تے ہیں ۔

جو خود عارف نہیں ہے وہ کسی کو عارف  کیسے بنا سکتا ہے۔ جو خود قلاش اور مفلوج الحال ہے وہ کسی کو کیا خیرات دے گا!یہ کیسا المناک اور خوفنا ک عمل ہے کہ ہم دو سروں کو نقصان پہنچا کر خوش ہو تے ہیں جبکہ آدم وحوا کے رشتے کے پیش نظر ہم خود اپنی جڑ کا ٹتے ہیں۔ درخت ایک ہے، شاخیں اور پتے لا تعداد ہیں۔ اگر کوئی شاخ خود اپنے درخت کی جڑ پر ضرب لگا ئے تو یہ کیسی نا دانی کی بات ہے کہ وہ خود کس طرح محفوظ رہ سکتی ہے۔ خوشی  ہمارے لئے معراج تمنا ہے تو ہم اپنے ہم جنسوں کو تکلیف پہنچاکر کیسے خوش رہ سکتے ہیں ۔ 

ہر انسان دو سرے انسان سے ہم رشتہ ہے ۔ ہر انسان دو سرے انسان سے اس لئے متعارف ہے کہ اس کے اندر زندگی بننے والی لہریں ایک دو سرے میں ردوبدل ہو رہی ہیں ۔ پر مسرت محفل میں جہاں سینکڑوں ہزاروں افراد آلام سے بے نیاز خوشیوں کے لطیف جذبات سے سر شار ہیں، وہاں  ایک فر د کی المناکی ساری محفل کو مغموم کر دیتی ہے ۔۔۔آخر ایسا کیوں ہے ؟

اس لئے کہ پو ری نوع کے افراد زنجیر کی کڑیوں کی طر ح ایک دو سرے کے ساتھ وابستہ و پیوستہ ہیں۔ ایک کڑی کمزور ہو جائے تو  زنجیر میں جب تک دوسری کڑی ہم رشتہ نہ ہو جا ئے زنجیر نہیں کہلا ئے گی ۔

 قرآن کاارشاد ہے :’’متحد ہو کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور آپس میں تفر قہ نہ ڈالو ۔‘‘

اتحاد و یگانگت ماضی کو پر وقار ، حال کو مسرور اور مستقبل کو روشن اور تابناک بناتی ہے ۔مصور ایک تصویر بنا تا ہے۔ پہلے وہ خود اس تصویر کے نقش و نگار سے لطف اندوز ہو تا ہے۔ مصور اگر خود اپنی بنا ئی ہو ئی تصویر سے مطمئن نہ ہو تو دوسرے کیوں کر متا ثر ہو نگے۔ نہ صرف یہ کہ دوسرے لوگ متا ثر نہیں ہوں گے بلکہ تصویر کے خدوخال مذاق کا ہدف بن جا ئیں گے اور اس طرح خود مصور بے چینی ، اضطراب و اضمحلال کے عالم میں چلا جا ئے گا۔ ایسے کام کریں کہ آپ خود مطمئن ہوں ، آپ کا ضمیر مر دہ نہ ہو جا ئے ۔ اور یہی وہ راز ہے جس کے ذریعے آپ کی  ذات دوسروں کے لئے راہ نما ئی کا ذریعہ بن سکتی ہے ۔ 

ہر شخص کو چا ہئے کہ کا رو بار حیات میں پوری پو ری جدو جہد اور کوشش کر ے لیکن نتیجہ پر نظر نہ رکھے ۔نتیجہ اللہ کے اوپر چھوڑ دے اس لئے کہ آدمی حالات کے ہاتھ میں کھلونا ہے۔حالات جس طرح چابی بھر دیتے ہیں، آدمی  اسی طر ح زندگی گزارنے پرمجبورہے ۔ بے شک اللہ قادر مطلق اور ہر چیز پر محیط ہے ۔ حالات پر اس کی گر فت ہے ۔وہ جب چا ہے اور جس طر ح چا ہے حالات میں تغیر واقع ہو جا تا ہے ۔ 

تمہیں کسی کی ذات سے تکلیف پہنچ جا ئے تو اسے بلا توقف معاف کردو اس لئے کہ انتقام بجا ئے خود ایک صعوبت ہے ۔ انتقام کا جذبہ اعصاب کو مضمحل کر دیتا ہے ۔تم اگر کسی کی دل آزاری کا سبب بن جا ؤ تو اس سے معافی مانگ لو قطع نظر اس کے کہ وہ تم سے چھو ٹا ہےیا بڑا اس لئے کہ جھکنے میں عظمت پو شیدہ ہے ۔

 قرآن پاک کی روشنی میں آدمی نا قابل تذکرہ شے تھا۔ اس کے اندر اللہ نے اپنی رُوح پھونک دی پس وہ دیکھتا، سنتا  اورمحسوس کر تا انسان بن گیا ۔‘‘

رو ح کیا ہے ؟رو ح امرِ رب ہے۔ امرِ رب یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے ’’ہو ‘‘ اور وہ ہو جا تی ہے ۔ 

جس فر د کے دل میں شک جا گزیں ہو، وہ عارف کبھی نہیں ہو سکتا، اس لئے کہ شک شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے جس کے ذریعے وہ آدم زاد کو اپنی رُوح سے دور کر دیتا ہے ۔روحانی قدروں سے دوری آدمی کے اوپر علم و  آگا ہی اور عرفان کے دروازے بند کر دیتی ہے ۔ 

اللہ والوں کے اوپر رحمتوں کا نزول ہو تا ہے تجلیات کی بارش ہو تی ہے۔ ان کے فیوض و بر کات کی روشن اور منور چا در ایک عالم پر سایہ فگن رہتی ہے ۔ 

اللہ والوں کے اوپر رحمتوں کا نزول ہو تا ہے تجلیات کی بارش ہو تی ہے۔ ان کے فیوض و بر کات کی روشن اور منور چا در ایک عالم پر سایہ فگن رہتی ہے ۔ ۲۷ جنوری ۱۹۸۱ حضور بابا صاحب رحمۃ اللہ علیہ قبلہ و کعبہ کے عرس مبارک کا دن ہے۔ تمام ارادت مند، معتقدین اور متوسلیں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس پرشکوہ  اور سعید موقع پر دامے ، درمے ، قدمے ، سخنے شریک ہو کر رسول خدا کے وارث اسمائے الٰہیہ کےرموز کے عارف ابدال حق ، حضرت قلندر بابا اولیاءرحمۃ اللہ علیہ کے فیضان کرم سے مستفیض ہوں۔

حضور قلندر بابا ولیاء رحمۃ اللہ علیہ کا تیسرا عرس مبارک

 

 

اللہ والوں کے اوپر رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔تجلیات کی بارش ہوتی ہے۔ ان کے فیوض و برکات کی روشن اور منور چادر ایک عالم پر سایہ فگن رہتی ہے۔۲۷ جنوری ۱۹۸۱ء حضور بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ قبلہ و کعبہ کے عرس مبارک کا دن ہے۔تمام ارادت مند معتقدین اور متوسلین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس پُرشکوہ اور سعید موقع پر دامے درمے ، قدمے شریک ہو کر رسولِ خدا کعے وارث اسمائے الٰہیہ کعے رموز کعے عارف ابدالِ حق حضرت قلندر بابا اولیا رحمتہ اللہ علیہ کعے فیضان کرم سے مُستفید ہوں۔]۴۴[

حضور قلندر بابا اولیا رحمتہ اللہ علیہ کا تیسرا عرس مبارک:

                ۲۷ جنوری ۱۹۸۲ بروز بدھ شادمان ٹاؤن کراچی میں ابدال ِ حق  ، امام سلسلہ عظیمیہ حضور قلندر بابا اولیا رحمتہ اللہ علیہ کعے تیسرے عرس مبارک کی تقریب سعید منعقد ہوئی۔ تیسرے عرس مبارک پر ابو ابراہیم اسد طارق کی یہ تحریر روحانی ڈائجسٹ کی زینت بن چکی ہے۔ یس تحریر میں انہوں نے جہاں عرس مبارک کے دوران خود پر گزرنے والی کیفیات بیان کی ہیں وہیں یہ تحریر ہمیں ماضی کی آنکھ سے عرس کا منظر دکھانے میں ہمارے اذہان کے پردوں پر متبرک نقش بنائے گی اور ہم حضور بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے فیوض و برکات سے بہرہ ہوں گے۔ آئیے یس تحریر کی مدد سے ماضی میں سفر کرتے ہوئے عرس مبارک میں شرکت کریں ۔ ان کی ڈائری سے متعلقہ منتخب پہلی تحریر پیش ِ خدمت ہے۔

                "۲۶ جنوری ۱۹۸۲ ء  : اس لئے بڑی خواہش ہے کہ اس عرس میں شرکت کروں۔ پتہ نہیں کہ عرس کے موقع پر کیا کیا ہوتا ہوگا۔بہرحال دیکھنا چاہیئے اور پھر وہاں بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کے عقیدت مند بھی آئیں گے۔ ان سے بھی بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کے بارے معلومات ہوں گی۔ میں تو بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کو روحانی ڈائجسٹ کے حوالے سے جانتا ہوں کہ وہ اس رسالے کے بانی تھے، سرپرست تھے، سرپرست ہیں۔ ان کی تصنیف "لوح و قلم " کائناتی حقائق ، روحانیت اور علم و آگہی کے موضوعات پر دنیائے تصوف کا نادر ترین شاہکار ہے۔ اس  میں سچائی اور ہمہ گیری اتنی ہے کہ میں جو روحانیت کی الف، ب سے بھی آگاہ نہیں "لوح و قلم" میں ایک پراسرار دل چسپی محسوس کرتا ہوں ۔ پراسرار اس لئے کہ میں اس تحریر کو بار بار پڑھ کر بھی نہیں سمجھ پاتا مگر میرے اندر کا انسان اسے یوں قبول کرتا ہے جیسے وہ اسے سمجھتا بھی اور اس کے ایک ایک لفظ کو سمیٹتا بھی ہے۔ شاید یہ کہنا مناسب ہوگا کہ میرا شعور اس مضمون میں استعمال کیے گئے الفاظ کے معانی کی حدود سے آگے نہیں جا سکتا۔ چناں چہ تشنہ کام رہ جاتا ہے لیکن میرا لاشعور الفاظ کے نہ صرف معانی سمجھتا ہے بلکہ مفہوم سے بھی متاثر ہوتا ہے اور سرشار بھی۔ "لوح و قلم" کے مضامین کے موضوعات ہیں اور وہ اس لئے نہ سرف قابل فہم ہوتے ہیں بلکہ قابلِ قبول بھی ہوتے ہیں۔ بہرحال اتنا کچھ لکھ کر بھی میں سمجھتا ہوں کہ "لوح وقلم" کے متعلق اظہار نہیں کر سکا کیوں کہ اظہار کے لئے "شعور" اور "لاشعور" کی جو اصطلاحات استعمال کر رہا ہوں، وہ بھی لفظی اور معنوی حدود کی پابند ہیں۔ اور پابندی، اظہار کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

بہرحال "لوح و قلم" بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کے عرفان و آگہی کی سب سے بڑی اہم سند ہے۔ اسی "لوح و قلم " نے مجھے بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کی جانب متوجہ کیا ہے۔ ایک پُلُطف بات یہ ہے کہ محمد  عظیم برخیا رحمتہ اللہ علیہ کی رباعیات سے میں شروع ہی سے متاثر تھا، کیوں کہ ان میں بھی انسان، دوسری مخلوقات، کائنات کے حقائق اور ہمہ گیری ملتی ہے۔ مگر پھر پتہ چلا کہ یہ محمد عطیم برخیا صاحب ہی قلندر بابا اولیا رھمتہ اللہ علیہ ہیں تو ان رباعیات کے معنوں میں اور بھی وسعتیں محسوس ہونے لگیں۔ بس اسی طرح بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کی ہمہ گیر شخصیت میرے لئے توجہ اور دل چسپی اور پھر عقیدتوں کا مرکز بنتی چلی گئی۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ یہ درخشاں سورج برسون میرے شہر میں دمکتا رہا اور میں اس سے بے خبر ، بے واسطہ رہا۔ شاید یہی احساس ِ محرومی ہے کہ جو مجھے اس عرس میں شرکت کے لئے اکسا رہا ہے۔ میں نے بابا جی کو دیکھا تو نہیں ہے مگر اس عرس کے بہانے میں ان کے حضور حاضری تو دے سکتا ہوں۔ مجھے اس عرس میں جانا چاہیئے دوپہر روحانی ڈائجسٹ والوں نے جو کارد بھیجا ہے، اس کا جملہ مجھے عرس مبارک میں شرکت کے لئے اکسا رہا ہے کہ:

                "نورانی لوگوں کی باتیں  بھی نورانی ہوتی ہیں۔

                ان کے ساتھ ایک لمحے کا تقرب سو سالا اطاعت بے ریا سے افضل ہے۔"

میں ضرور جاؤں گا اور بزرگوار خداداد خاں صاحب کو ساتھ لے جاؤں گا کیوں کہ وہ بابا تاج الدین رحمتہ اللہ کے معاملے میں بہت خوش عقیدہ ہیں۔ شام کو پروفیسر ڈاکٹر محمد ایوب قادری بھی بتا رہے تھے کہ عرس کے سلسلے میں انہیں بھی کارڈ موصول ہوا ہے۔ صوفیائے کرام پر ڈاکٹر صاحب کی معلومات سند کی حیثیت رکھتی ہیں ان کا بھی ارادہ ہے کہ عرس مبارک میں شرکت کریں۔

مجھے روحانی ڈائجسٹ والوں کی طرف سے جو کارڈ موصول ہوا ہے اس کے مطابق عرس مبارک کے پروگرام یہ ہیں۔

بعد نماز :                                                                    ختم درود شریف اور آیتِ کریمہ

بعد نماز عصر :                                                             قرآن خوانی

اور پھر بعد نماز مغرب:                                               فاتحہ اور تقسیم لنگر

اس کارڈ کے مضمون میں بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کی ایک رباعی بھی شامل ہے

جس میں بابا جی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

                "دنیا کی زندگی کے یہ چند روز غنیمت ہیں، نہیں معلوم کب ختم ہو جائیں، اس لئے ان ہی دنوں میں کچھ حاسل کر لینا چاہیئے نہیں معلوم آج کا دن کل نصیب ہو یا نہ ہو۔"

مجھے ایسا لگتا ہے کہ کچھ کر لینے کی تاکید بابا جی رحمتہ اللہ علیہ نے مجھ کو ہی کی ہے، کیا وہ میرے جذبات و کیفیات سے آگاہ ہیں؟ شعور اور لاشعور کے پل صراط پر چلتے ہوئے ایسے محسوسات کہ معانی کی تعبیر پہنانا کتنا مشکل کام ہے ۔ بہر حال بابا جی رحمتہ اللہ علیہ مجھے  بلا رہے ہیں، میں ضرور حاضر ہوں گا۔ ان شاء اللہ

۲۷ جنوری ۸۲ء صبح چار بجے :        بزرگوار خداداد خان صاحب نے بھی اشتیاق کا اظہار کیا ہے۔ وہ بھی میرے ہم راہ بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کے عرس میں جائیں گے۔ وہ بتا رہے تھے کہ عرس سے متعلق پوسٹر تو کئی دنوں پہلے پورے شہر میں جا بجا لگے ہوئے ہیں۔ پہلا  پوسٹر انہوں نے کراچی کینٹ اسٹیشن پر ۲۴ جنوری کو پڑھا۔ مگر انہیں پتہ نہیں تھا کہ بابا جی رحمتہ اللہ علیہ ناگ پور والے باب تاج الدین رھمتہ اللہ علیہ کے نواسے ہیں۔ میں نے انہیں بتایا تو انہیں بڑا اشتیاق پیدا ہو گیا۔ وہ اپنے ایک دوست کہ بھی ہم راہ لے جائیں گے۔ انہیں میں نہیں جانتا۔

                سب سے زیادہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس وقت مجھے بابا جی رھمتہ اللہ علیہ سے گہری قلبی وابستگی کا احساس ہو رہا ہے۔ یہ وابستگی اتنے  غیر محسوس طریقے سے ہو گئی ہے کہ آج سے پہلے مجھے کبھی اس کا اندازہ بھی نہ تھا۔ عجیب سی سر خوشی میرے وجود میں سماتی جا رہی ہے۔ بابا جی مجھے بہت اچھے اور بہت اپنے محسوس ہو رہے ہیں۔ میں اپنے ان آحساسات کی بالکل توجیہ نہیں کر سکتا۔ ماین جا رہا ہوں۔ خانقاہ عظیمیہ ، بارگاہِ قلندریہ کو جا رہا ہوں۔

                ۲۷ جنوری ۸۲ء ]گیارہ بجے شب[:                 اس دن کے گیارہ بجے تھے جب میں برکات ِ حیدری سے آگے سخی حسن کے بعد شادمان ٹاؤن پہنچا۔ اکیلا تھا جگہ بھی میرے لئے نئی تھی مگر شادمان ٹاؤن کے اسٹاپ پر ہی ایک بڑا گیٹ بنا ہوا تھا۔ کاغذ کی رنگ برنگی جھنڈیوں اور تروتازاہ سابز شاخوں سے سجے اس گیٹ پر لگے ہوئے بینر پر "عرس مبارک" لکھا تھا۔ گویا یہ دربار عالیہ کو جانےوالے راستے کا نشان تھا اور نشان مجھے مل گیا تھا۔ اس بڑے سے گیٹ سے گزرتا ہوا میں ستھری اور کشادہ روڈ پر آگے بڑھ گیا ۔ دونوں اطراف میں کھبوں سے کاغذ کی رنگ برنگی جھنڈیاں لگی ہوئی تھیں جن کے ساتھ رنگ برنگے چھوٹے چھوٹے بلب بھی تھے جو شاید شام کو روشن ہونے تھے۔ روڈ پر اور بھی لوگ تھے جو تیز تیز قدم اٹھائے آگے چلے جاتے تھے۔ اپنی سرشاری میں مگن رکشے اور کاریں بھی پاس سے گزر رہی تھیں جن میں بچے ، بوڑھے، عورتیں سب عجیب سی سر خوشی کے ساتھ دربار عظیمیہ کی طرف رواں تھے۔ روڈ آگے جا کر سیدھے ہاتھ کو مڑی تو یہاں کی رونق قابلِ دید تھی۔ دور تک شامیانے لگے ہوئے ، ایک طرف کاروں اور اسکوٹروں کی پارکنگ، سامنے ہی بڑا سا گیٹ۔

                اس گیٹ سے گزر کر جیسے ہی میں اگے بڑھا، شامیانوں میں گھرا بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کا مزار مبارک نظر آگیا۔ محبت اور عقیدت کی مٹھاس سی رگوں میں اترنے لگی۔ مزار مابرک بھی خوب سجا ہوا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہاں سے خوشبوئیں پھوٹ رہی ہوں۔ عجیب سا سحر میرے حواس پر طاری ہوتا جا رہا تھا۔ یہ تمام کیفیات میرے لیے انجانی تھیں۔ میرے احساسات سے عقیدتوں کے سوتے پھوٹنے لگے تھے مگر مجھے پتہ نہ تھا کہ ایسے موقع پر کیا کرنا چاہیئے۔کہ ایک دم سے کوئی میرے سامنے سے گزر گیا اور میں چونک پڑا۔وہ ایک پٹھان نوجوان تھا جو ایک بھاری سی فرشی دری اٹھائے ساتھ والے شامیانے کی طرف جا رہا تھا اور میں مزار مبارک کے عین دروازے کے سامنے کھڑا تھا۔ میں کس طرح یہاں تک پہنچ گیا تھا مجھے پتہ نہ تھا۔ میرے ارد گرد بے شمار لوگ چل پھر رہے تھے۔کچھ لوگ آستانے مین مزار مبارک کے پاس بیٹھے نظر آرہے تھے۔ مگر میں نے ہمت نہیں پائی کہ اندر جا سکوں۔ شاید اس لئے کہ میں ایسے آداب سے آگاہ نہیں تھا لیکن قربت کی تمنا نے مجھے راہ دکھائی اور میں مزار مبارک کے دائیں جانب جالیوں سے لگ کر کھڑا  ہو گیا۔ بے اختیار میری زبان فاتحہ پڑھنے لگی۔ مجھ پر عجیب سی رقت طاری ہو گئی تھی۔ میرا خیال ہے کہ میں تقریباً آدھ گھنٹے تک ان ہی کیفیات میں وہاں کھڑا رہا۔ ماحول سے بے خبر۔ پھر جب میں چونکا تو یہ کیفیت تھی کہ ایک ناقابل فہم طمانیت اور بے نام سی سر خوشی میرے مزاج میں شامل ہو چکی تھی۔ میں خود کو بے حد پرسکون محسوس کرنے لگا تھا۔ یہ سکون ایسا ہی تھا جو اس وقت حاسل ہوتا ہے جب کسی گھرانے کا کوئی بڑا کسی چھوٹے کے سر پر ہاتھ رکھ دے یا فرطِ شفقت سے اس کی پیٹھ تھپتھپادے۔

                میں اب ماحول کی طرف متوجہ ہوا۔ مزار مبار کے دائیں طرف جو شامیانے اور قناطیں لگی تھیں ان میں مرد حضرات ا جا رہے تھے ۔ قریب گیا تو اندر دریاں بچھائی جا رہی تھیں اور ان پر سفید چادریں۔ جہاں دریاں بچھ چکی تھیں یہاں سب طرح کے لوگ تھے۔ ان ہی شامینوں کے پیچھے گاڑیوں کی پارکنگ کا انتظام تھا۔

                مزار شریف کی بائیں جانب بھی شامیانے اور قناطیں لگی تھیں۔ وہاں بھی دور ہی سے وہی دریوں اور چادروں والا انتظام نظر آرہا تھا۔ ان شامیانوں میں خواتین کی امد رفت دیکھ کر سمجھ گیا کہ وہ حصہ خواتین کے لئے مخصوص ہے ۔ ان شامیانوں سے ذرا ہت کر پانی کا حوض ہے یا یوں کہہیے کہ ٹینکی ہے جس میں نلکے لگے ہیں۔ پہلے تو میں سمجھا کہ شاید پینے کا پانی کا انتظام ہو مگر ہر نلکے کے ساتھ  وہ مخصوص چھوٹی نشستیں بنی دیکھیں جو مسجدوں میں وضو کرنے والوں کے لئے ہوتی ہیں۔ چناں چہ آس پاس مسجد موجود ہونے کا خیال ایا اور یہ خیال بھی درست ثابت ہوا۔ کیوں کہ ٹینکی سے ذرا آگے ایک بہت بڑا چبوترہ دیکھا جو قبلہ رخ تھا۔

                میں مردانہ شامیانوں کے پاس کھرا تھا کہ اپنے پیچھے شامیانے کے سرے پر چند نوجوانوں کو دیکھا کہ ایک بڑی سی میز اٹھائے لاتے ہیں۔ پھر میز کے ساتھ ہی چند کرسیاں لگا دی گئیں۔ لڑکوں کی لگن کے ساتھ اس مشغولیت نے تجس پیدا کر دیا تھا۔ اب دو صاحبان نے وہ بنڈل کھولے جو وہ اپنے ساتھ لا رہے تھے اور کچھ کتابیں نکال کر میز پر رکھنے لگے۔ ذرا سی دیر میں اس میز نے اسٹال کی شکل اختیار کر لی۔ میں بھی وہیں  جا کھڑا ہوا۔ یہ دراصل روحانی ڈائجسٹ کا اسٹال تھا۔ دو لڑکے ضیاء اور زبیر اس اسٹال کے زمہ دار لگتے تھے۔ دونوں لڑکوں نے پھرتی کے ساتھ روحانی ڈائجسٹ کے پرانے شمارے میز پر سجا دیئے تھے۔ میں نے رسماً دو شمارے اٹھا کر دیکھے، وہ سب میرے پڑھے ہوئے تھے۔ البتہ ورق گردانی کرتے رباعیات کے صفحے پر میں رُک گیا۔ بابا جی رحمتہ اللہ علیہ گویا تھے:

 

 

مٹی میں ہے دفن آدمی مٹی  کا

پتلا ہے وہ   ایک پیالہ  بھری مٹی کا

میخوار پیئں گے جس پیالے میں عظیم

وہ پیالہ بنے گا کل اسی مٹی کا

                یہ رباعی اپنے معنوں میں بابا جی رھمتہ اللہ علیہ کی حیثیت کا اظہار کر رہی تھی کہ آج وہ واقعی ایسا ساغر ہیں جس سے پینے والے شراب معرفت پی رہے ہیں اور اس ماحول میں تو پورا ماحول ہی اس رباعی کی تشریح نظر آرہا ہے۔ بہرحال۔ روحانی ڈائجسٹ بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کے روحانی مشن کا سب سے اہم واسطہ ہے۔

                اسٹال اور شامیانوں کے اگے گیٹ کے ساتھ دربار کے احاطے کے اندر چند کمرے بنے ہوئے نظر آئے۔ اس طرف گیا تو پتہ چلا کہ بیرونِ شہر سے ائے ہوئے زائرین کے ٹھہرنے کا انتظام ہے۔ وہاں موجود زائرین  میں عورتیں، مرد اور بچے سب شامل تھے۔ ان کمروں سے اگے ایک شامیانہ لگا تھا جس کے پاس ہی پانی کی ٹینکیاں بھی رکھی تھیں۔ ان سے آگے جو شامیانے لگے تھے وہاں کچھ پک رہا تھا۔ دو قطاروں مین دیگیں چڑھی ہوئی تھین۔ اس طرف گیا تو پتہ چلا کہ لنگر کا سلسلہ ہے۔ کچھ لوگ دیگون مین گھوٹا لگا رہے تھے اور قریب گیا تو پتہ چلا کہ حلیم ہے۔ لنگر عطیمیہ مین حلیم، سبحان االلہ۔ اس سے زیادہ سبحان اللہ یہ کہ پینٹ، شرٹ پہنے اور سر پر اونی ٹوپی اوڑھے ایک چھوٹے قد کا پڑھا لکھا نوجوان بھی دکھائی دیا جو نہ جانے کد دھن میں مگن گھوٹا لگانے میں مصروف تھا۔ دھوئیں سے آنکھیں سُرخ ہو رہی تھیں مگر وہ نہایت اطمینان کے ساتھ بڑی دل جمعی سے اپنے کام میں مصروف تھا کہ کسی نے پیچھے سے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ یہ بزرگوار خدادا خاں صاحب تھے۔ ان سے اور ان کے دوست سید بابا سے علیک سلیک ہی ہو رہی تھی کہ اذان ظہر سنائی دی۔

                نماز ظہر کی جماعت اسی چبوترے پر ہوئی۔ خاسے لوگ تھے۔ نماز کے بعد تمام لوگوں کے ساتھ ہم بھی مردانہ شامیانے میں چلے ائے۔ درود شریف اور آیت کریمہ کا ورد شروع ہوا۔ لوگ آنے لگے اور محفل میں شامل  ہوتے گئے۔ نہایت روح پرور منظر تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے سب ایک ہوں رنگ رنگ کے، بھانت بھانت کے ہر عمر کے لوگ تھے مگر سب ایک تھے۔ سایہ عظیمیہ میں سب ایک تھے۔ خلوص اور یگانگت کے ساتھ ایک تھے۔31/2 بجے کے قریب جب میں شامیانے سے باہر آیا تو دیکھا باہر بھی بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کے عقیدت مندوں اور زائرین کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا تھا۔ شامیانوں میں بھی دوپہر کی نسبت زیادہ افراد تھے۔ خصوصاً خواتین کا ایک ہجوم تھا جو شامیانے سے اُبلا پڑ رہا تھا۔ آستانہ چارون طرف سے خواتین سے گھرا ہوا تھا۔ ممکن ہے اندر مزار مبارک کے پاس بھی خواتین ہوں۔ زبانیں خاموش تھیں مگر ذہن مرکز عقیدت پر مرکوز تھے۔

                یہ سوچتا ہوا میں پانی پینے کی نیت سے شامیانے کے پاس ٹینکی کی طرف گیا تہ وہاں کچھ صاحبان کرسیوں پر بیٹھے کچھ باتیں کر رہے تھے۔ ان میں وہ اُونی ٹوپی والا نوجوان بھی تھا۔ گفتگو کا موضوع لنگر تھا۔ پتہ چلا کہ لنگر کے حلیم کی گھوٹائی میں بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کے  عقیدت مند حصہ لیتے ہیں۔ لوگ اتے جاتے ہیں اور خدمت اور شوق کے طور پر جب چاہیں گھوٹائی کرتے رہتے ہیں۔ پھر دوسروں کو موقع دیا جاتا ہے اور بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کی مھبت اور شفقت حاسل ہو جاتی ہے۔ میں نے لنگر والے شامیانوں کی طرف نظر ڈالی تو  واقعی ایسا تھا۔ گھوٹا لگانے والوں میں نوجوان بھی تھے ، ادھیڑ عمر بھی اپنے اپنے شوق ، اپنی اپنی محبت، اپنے اپنے زور کے مطابق گھوٹا لگا رہے تھے۔ ایک ہٹتا تو دوسرا لگ جاتا ۔ عقیدت اور شوق کے اس مظاہرے نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اتنے میں میری نظر ایک فوٹو گرافر پر پڑی جو لنگر والے شامیانے میں فوٹو گرافی کرتا پھر رہا تھا۔ شکل و صورت سے پنجابی لگتا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ جب سے میں دربار ایا ہوں میں نے زیادہ تر نوجوانوں ہی کو دیکھا ہے۔ جو نہایت تند ہی اور عقیدت کے ساتھ انتظامات میں مصروف ہیں ۔ ان میں ملک بھر سے ہر صوبے کے نوجوان شامل ہیں۔ نوجوان نسل کی بابا جی رحمتہ اللہ علیہ سے اس درجہ عقیدت قابلِ ذکر ہے۔ کون کہتا ہے کہ نوجوان نسل گمراہ ہے جو نسل اپنی ذات کا عرفان حاصل کرنا چاہتی ہے ، جو نسل روحانیت کے حصول کے لئے سرگرداں ہے۔ وہ گم راہ کیسے کہلا سکتی ہے۔ بہر حال یہ عالمگیر مسئلہ ہے مگر سوچنے والوں کو منفی سمتوں کے ساتھ ساتھ اس نسل کی مثبت خصوصیات کی حوصلہ افزائی بھی کرنی چاہیئے۔

                میں ان ہی خیالات میں گُم تھا کہ پینٹ شرٹ میں ملبوس ، نظر کی عینک لگائے، چھریرے بدن، دبی رنگت والا کلین شیو ڈ ایک نوجوان ان بیٹھے ہوئے صاحبان کی طرف آیا۔ اُونی ٹوپی والے نے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے صاحب سے ان کا تعارف کرایا تو میں چونک گیا۔ آنے والا نوجوان بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کا صاحب زادہ تھا۔ جن صاحب سے ان کا تعارف کرایا گیا تھا وہ روحانی ڈائجسٹ کے منیجر تھے۔ ان دونوں کی رسمی سی گفتگو سے پتہ چلا کہ صاحب زادے انجینرئنگ میں ڈپلومہ ہیں اور  شپ یارڈ میں ملازم ہیں۔ اتنے میں اذان عصر ہو گئی اور لوگ اس طرف متوجہ ہونے لگے۔

                نماز عصر میں نمازیوں کی تعداد ظہر سے بہت  زیادہ تھی۔ نماز کے بعد لوگ مزار مبارک کی طرف بڑھے اور پھر تو عجیب سماں بندھ گیا۔ چادریں چڑھائی جا رہی ہیں، پھولوں کے ہار ڈالے جا رہے ہیں، ہر شخص مزار مبارک کعے قریب ہونے کو بے تاب ہے۔ باہر جالیوں کے اردگرد بھی عقیدت مندوں کا جم گھٹا ہے۔ دل جزب و شوق سے معمور ہیں، لبوں پر سلام اور آنکھوں میں  عقیدتوں کے انسو ہیں۔ ذہن رھم و کرم کی بارش میں دھل کر شفاف ہو رہے ہیں اور عقیدتیں چہروں پر دمکنے لگی ہیں۔ رحمتوں کا نزول ہو رہا ہے ۔ تجلیات کی بارش ہو رہی ہے۔ فیوض و برکات سے مالا مال کیا جا رہا ہے۔ دھونڈنے والوں کو روشنی مل رہی ہے۔ جالیوں سے لگی خواتین کا بھی یہی حال ہے اور پھر بے شمار ہاتھ فاتحہ کے لئے بلند ہو گئے۔

                محبتوں اور عقیدتوں نے رب العالمین کے آگے ہاتھ پھیلا دیئے، سینکروں ہاتھ دینے والے کے آگے پھیل گئے اور پھر شکر، خوشی، طمانیت اور جذب کے حوالے گزر گئے، دل کھینچنے لگے، ذہن بدلنے لگے، چہرے دمکنے لگے، لب ہلنے لگے، رحمتیں نازل ہونے لگیں ، آرزوئیں اور تمنائیں پوری ہونے لگین، حسرتیں مٹنے لگیں، مرادوں سے جھولیاں بھرنے لگیں، دکھ سمٹنے لگے، سکھ بکھرنے لگے۔ دل خوشیوں سے بھر گئے۔ اللہ کیا شان ہے۔ دربار عطیمیہ کی!۔۔ کیا مقام ہے ابدال حق کا! کیا مرتبہ ہے اللہ کے دوست اور نبی ﷺ کے وارث کا!

                پھر نماز مغرب تک قران خوانی ہوتی رہی۔ شامیانوں مین جگہ نہیں تھی۔ باہر کرسیوں پر بھی لوگ بیٹھے تھے۔ کچھ مزار مبارک کو گھیرے کھڑے تھے کچھ چل  پھر رہے تھے۔ ویسے جو احاطہ دربار میں داخل ہوتا تھا ، سب سے پہلے سیدھا مزار مبارک کی طرف جاتا تھا۔ لوٹتا تھا تو عجیب سی سر خوشی عجیب سی طمانیت لیے۔

                نماز مغرب کی اذان کے ساتھ ہی بتیاں روشن کر دی گیئں۔ رنگ برنگی روشنیاں، ماحول اتنا خوبسورت ہو گیا کہ بیان سے باہر ۔ مزاج میں عجیب سے ملاھت اور وارفتگی پیدا ہو گئی تھی۔ نماز مغرب میں نمازیوں کی تعداد زیادہ تھی  بڑا پُر رونق اور روھ پرور منظر تھا۔

                نماز کے بعد لوگ فاتحہ کے لیے شامیانوں میں اگئے۔ مگر ان شامیانوں میں جگہ کہاں تھی، باہر تک لوگ پھیلے ہوئے تھے۔ میں بہ مشکل جگہ بناتا ہوا اندر پہنچا تو دیکھا کہ لوگ ایک صاحب کو گھیرے کھڑے ہیں۔ ہر ایک ان کے قریب ہونے کو بے تاب ہے۔ ایک ایک فرد آگے بڑھتا ہے، مصافحہ کرتا ہے، معانقہ کرتا ہے۔ وہ حضرت بڑی شفقت کعے ساتھ محبت کے ساتھ ایک ایک سے ہاتھ ملاتے ہیں، گلے لگاتے ہیں، سیاہ ٹوپی، سیاہ شیروانی، سفید پاجامہ، مختصر سی ریش، عینک لگائے عمر کوئی پچاس پچپن سال، نہایت باوقار اور پاکیزہ صورت۔ وہ سب کی توجہ کا مرکز تھے۔ مجھے یاد ایا کہ ان ہی حضرت نے تمام نمازوں میں امامت بھی کی تھی۔ ان کو میں نے انتظامی کاموں میں لوگوں کو ہدایت دیتے بھی دیکھا تھا۔ میں نے ایک صاحب سے ان کا معلوم کیا تو پتہ چلا کہ جناب خواجہ شمس الدین عطیمی ہیں۔ رواں رواں کھل اٹھا۔ فرط شوق میں میں بھی آگے بڑھا مگر عقیدت مندوں کا ایک ہجوم تھا کہ چاروں طرف سے انہیں گھیرے کھڑا تھا۔ خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب روحانی ڈائجسٹ کے مدیر اعلا ہیں اور روحانی ڈائجسٹ بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کے روحانی مشن کا اہم ترین واسطہ ہے۔

                میں بھی عطیمی صاحب سے شرف باریابی حاصل کرنے کے لئے آگے بڑھا اور ادھر اُدھر گھستا ہوا ان کے دائیں طرف پہنچا۔ وہاں ایک نوجوان جو بڑا خوش الحان تھا بلند آواز میں حضور غوث پاک رحمتہ اللہ علیہ کی منقبت سنا رہا تھا۔ عجب سماں تھا۔ وہیں پروفیسر ایوب قادری صاھب بھی کھرے دکھائی دیئے۔ نہ جانے وہ کب تشریف لائے تھے۔ علیک سلیک ہوئی۔ وہ بھی ماحول سے خاصے متاثر دکھائی دیتے تھے۔ اتنے  میں عطیمی صاحب اسی طرح لوگوں میں گھرے گھرے باہر کی طرف چلے گئے اور حسرت دل ہی میں رہ گئی ۔ سوچا کہ چلو ذرا رش کم ہو جائے تو عظیمی صاحب کو سلام کر لیں گے۔

                اسی ماحول میں ایک حضرت اور نظر آئے جن سے لوگ نیاز حاصل کر رہے تھے۔ پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ محسن صاحب ہیں۔ دربار عطیمیہ کے سجادہ نشین۔ سروقد شخصیت، چہرے پر استغراق ہویدا، انداز میں خلوص کی چاشنی، کتابی چہرہ،غزالی انکھیں جو سرور و مستی  میں دعوت نظارہ دے رہی تھیں۔ حسن ِ اخلاق کے اس پیکر سے مصافحہ کیا تو بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کے فیض کی لہریں اپنے اندر منتقل ہوتی ہوئی محسوس ہوئیں، جسم ایک سرور کیف سے بادلوں کی طرح ہلکا محسوس ہونے لگا۔

                جناب محسن کے پہلو مین داڑھی اور سر کے بالوں سے بے نیاز ایک صاحب براجمان تھے۔ ان کے گیروے رنگ کے تہبند اور کھدر کے کُرتے سے وقیری کا عکس جھلک رہا تھا لیکن وضع داری اور لباس کے رکھ رکھاؤ سے صاف نظر آرہا تھا کہ فقیرانہ بھیس میں یہ مرد آزاد اپنے پیچھے امارت اور شان و شوکت کی زندگی چھوڑ کر آیا ہے۔ عینک کے دبیز اور موٹے شیشے اور ان کے اوپر فراخ پیشانی پر سلوٹیں اس مرد ِ آزاد کے اندر دریائے غور وفکر کی نشان دہی کر رہی تھیں۔ نمود و نمائش کی ہر چیز سے بے نیاز۔ بندہ علم و آگہی کے میدان کا شہسوار لگ رہا تھا۔ رعب اور دبدبے کا علام یہ تھا کہ ان سے مصافحہ کی سعادت بھی حاصل نہ کر سکا۔ بہرحال ایک صاحب سے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ یہ جناب ڈاکٹر عبدالقادر قلندری ہیں۔ سہیون شریف سے تشریف لائے ہیں۔ حضرت لعل شہباز قلندر کے منظورِ نظر اور بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کی روحانی اولاد ہیں۔

                کچھ دیر بعد پروفیسر قادری کے ساتھ میں باہر آیا تو گہما گہمی اور بڑھ چکی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے نور کی بارش ہو رہی ہو اور ہر فرد نکھرا نکھرا اور خوش خوش ہو۔ رنگ برنگی روشنیوں نے بھی رونقیں بڑھا دی تھیں۔ مزار مبارک تو بوعہ نور بنا ہوا تھا۔ بزرگوار خان صاحب اور سید پاپا کو ایک طرف کھڑا پایا۔ تو ہم ان کی طرف بڑھے اور پھر جگہ بناتے ہوئے کرسیوں پر جا بیٹھے۔بات سے بات نکلی اور پھر موضوع بن گئی۔ باباجی رحمتہ  اللہ علیہ، تاج الدین بابا ناگ پوری رحمتہ اللہ علیہ اور پھر حضرت غوث پاک رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق گفتگو ہونے لگی۔ جس میں آس پاس بیٹھے ہوئے دوسرے لوگ بھی شامل ہو گئے۔ اسی دوران کسی نے آ کر بتایا کہ لنگر شروع ہو چکا ہے۔شامیانے  کی طرف چلیں، مگر محفل اپنے موضوع اور ماحول کے لحاظ سے اتنی قیمتی تھی کہ کوئی بھی نہ اٹھا۔ ویسے بھی شامیانے کے دروازے پر اتنا ہجوم ہو گیا تھا کہ ہمارے لئے یہی مناسب تھا کہ تھوڑا انتظار کریں۔

                اتفاقاً میری نظر مزار مبارک کی جانب اٹھی اور موقع دیکھ کر میں " ابھی حاضر ہوا" کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔بزرگوار خان صاحب نے بھی شاید میرا ارادہ بھانپ لیا تھا لہذا وہ بھی میرے ساتھ  اٹھے۔ دراصل اس وقت مزار مبارک کے پاس ہجوم نسبتاً کم تھا اور حاضری کے لیے موقع مل سکتا تھا۔ دربار عظیمیہ میں داخل ہوئے تو اندر مزار مبارک کے پاس پہلے ہی سے عقیدت مند بیٹھے تھے۔ کوئی فاتحہ پڑھ رہا تھا۔ کوئی با ادب دو زانو بیٹھا تھا اور آنکھیں بند کیے اپنی روح کو بابا رحمتہ اللہ علیہ کے انوار سے منور کار رہا تھا۔ کوئی سر جھکائے رحم و کرم کی بھیک مانگ رہا تھا۔ کوئی منتیں مرادیں مانگ رہا تھا۔ کوئی بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کا دامن تھام کر عرفان کی اعلا ترین منزلوں تک پہنچنے کی تمنا میں مراقبے میں بیٹھا تھا، کوئی پھول نچھاور کر رہا تھا، کوئی آنکھوں میں آنسو لیے مزار مبارک پر نظریں جمائے زہنی طور پر نہ جانے کن کیفیات میں مبتلا تھا۔ کچھ اُٹھے ہوئے ہاتھوں کے پیچھے آرزوئیں ، تمنائیں، حسرتیں مچل رہی تھیں۔ کچھ وارفتگان مزار مبارک کی چادریں چھو کر اپنے ہاتھ چوم رہے تھے، آنکھوں سے لگا رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے فیوض و برکات کی روحانی بارش ہورہی ہو اور دل عرفان ِ حق اور وجدان و یقین کی روشنی سے معمور ہورہے ہوں۔ جن کی مرادیں بر آئی تھیں انہوں نے مزار مبارک پر چادریں چڑھائی تھیں۔ جھلمل کرتی طرح طرح کے رنگوں کی خوب صورت چادریں جن پر کلمات بھی لکھے تھے ، دوپہر کی نسبت زیادہ ناطر آرہی تھی۔ ہم دونوں ہی مزار مبارک کے ایک پہلو میں جگہ بنا کر بیٹھ گئے۔ مجھے ایسا لگا جیسے خوشبوؤں نے اپنی گود میں لے لیا ہو۔آنکھیں خود بخود بند ہونے لگیں۔ذہن میں روشنی ہی روشنی پھیل گئی۔ اس روشنی میں اپنائیت اور شفقت کی مٹھاس تھی۔مجھے اپنا وجود ہلکا محسوس ہونے لگا۔ میرے حواس جیسے میرا ساتھ چھوڑنے لگے۔ میں بلند و بالا فضاؤں میں پروا ز کر رہا تھا اور روشنیوں کے بڑے بڑے دائروں سے گزرتا  چلا جا رہا تھا کہ نہ جانے کہاں۔ نہ جانے کتنی دیر بعد مجھے اپنے وجود کا احساس ہوا ایسا لگ رہا تھا جیسے میری زندگی میں کوئی دکھ باقی نہ رہا ہو۔ عجیب سا ہلکا پن تھا۔ آسان تھی۔آزادی تھی۔ میں اپنے آپ کو بہت خوش پا رہا تھا۔ ایک بے خود مسرت سے میرا دل بھر گیا تھا۔ پھر مجھ پر جیسے رقت طاری ہو گئی۔ رفتہ رفتہ میرے حواس بحال ہونے لگے ایسا لگنے لگا جیسے مجھے کوئی مضبوط سہارا مل گیا ہو۔ دل کو بڑی تقویت مل رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے کسی نے یہ احساس دلایا ہو کہ جن مین سب مسائل اور دکھ سمجھتا ہوں یہ سب صرف تبدیلیاں ہیں۔ حالات کی تبدیلیاں، واقعات کی تبدیلیاں مجھے ان کا کوئی تردد نہ کرنا چاہیئے۔ میں تو انسان ہوں۔ رب کائنات سے بہت قریب ہوں۔ وہ مجھے عزیز رکھتا ہے اور فرماتا ہے کہ اس کے دوستوں کو کوئی خوف نہیں ہوتا۔ مجھے اپنے رب کی رضا پر راضی رہنا چاہیئے۔ وہ خود ہی سارے مسئلے حل کر دے گا۔

                بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کی لوح و قلم کے مضامین میرے ذہن میں چکرانے لگے۔ یک دم میں نے آنکھیں کھول دیں۔ مجھے کچھ بھی نظر نہ آیا۔ بس روشنی ہی روشنی حد ِ نظر تک پھیلی ہوئی تھی۔ میں نے فوراً آنکھیں بند کر لیں۔ پھر جیسے بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کی شبیہ میری نظروں کے آگے جھلملانے لگی تھی مگر بہت واضح نہیں تھی۔ بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کو صاف صاف دیکھنے کی کوشش میں میرا شعور جاگنے لگا۔ میرے ذہن میں سوال آیا کہ بابا جی رحمتہ اللہ علیہ اب کیسے ہیں؟ یہ دیکھوں، مگر اس شعوری کوشش نے میری آنکھیں کھول دیں۔ میری نظریں بابا جی رھمتہ اللہ علیہ کے مزار مبارک پر پری تھیں۔ دوسرے ہی لمحے میرے ذہن نے بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کی یہ رباعی اس طرح دہرائی جیسے بابا جی رحمتہ اللہ علیہ  نے جواب دیا ہو کہ

                جس پردے میں دیکھتا ہوں پردا ہے الگ                      جس نقش میں دیکھتا ہوں نقشا ہے الگ

                ہر  ذرہ  میں  جمشید  فریدوں  ہیں  ہزار                                سبحان اللہ  کہ  میری  دنیا   ہے   الگ

ساتھ ہی مجھے جسم میں عجیب سی کپکپاہٹ محسوس ہوئی اور بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کے احترام کا احساس ہوا۔ بزرگوار خاں صاحب بھی سر جھکائے بیٹھے تھے۔ نہ جانے کہاں کھوئے ہوئے تھے۔ بہر حال ، مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے صدیوں کی تھکن تھی جو اتر گئی تھی۔ طبیعت پر کوئی بوجھ نہ تھا۔ عجیب سی طاقت میرے خیالات ، میرے ارادوں اور میرے وجود میں بھر گئی تھی۔ بابا جی رحمتہ اللہ علیہ سے بے پناہ عقیدتوں کا احساس جاگ گیا تھا۔ میں نے چادر مبارک چوم لیا کہ اس سے زیادہ میرے بس میں اور کیا تھا۔ اتنے میں روشنی کا ایک جھماکا سا ہوا۔ میں چونکا۔سامنے ایک فوٹو گرافر مزار مبار ک کی تصویر اتار رہا تھا۔

                کچھ دیر بعد ہم باہر نکلے تو باہر میلے جیسا سماں تھا۔ اس میلے میں ہر عمر ہر قوم کا فرد تھا۔غریب بھی تھے۔ امیر بھی ۔ پڑھے لکھے بھی تھے کاروباری بھی، دفتری لوگ بھی تھے، افسران بھی طلبا بھی تھے۔ مدرسین بھی، مگر سب ایک ہی گھرانے کے فرد لگ رہے تھے۔ سب کے جذبات و احساسات ایک جیسے تھے۔ بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کے پرچم تلے سب ایک تھے۔ ساڑھے نو بج رہے تھے۔ مگر گہما گہمی ویسی ہی تھی۔ رونقیں وہی تھیں۔ جاتے جاتے ہم نے بابا جی رحمتہ اللہ علیہ کے دربار پر ایک بار پھر حاضری دی۔ گاڑی جب تک شادمان ٹاؤن کے اسٹاپ کی طرف بڑھتی رہی۔ رنگ برنگی روشنیاں اور انے جانے والوں کی چہل پہل اور رونقیں رہیں۔ جب بڑا گیٹ بھی گزر گیا تو ایسا لگا جیسے ہم کسی اور دنیا میں داخل ہوگئے ہیں۔ ایک ایسی دنیا جس میں بڑی کثافتیں ہیں ۔ مگر بابا جی رحمتہ اللہ علیہ  کی لطافتوں والی دنیا اب ہماری روحوں میں اتر چکی تھی اور ہم اب بھی وہ لطافتیں اپنے اندر محسوس کر رہے تھے۔"]۴۵[

 

 

 

 

 


 

Topics


Huzoor Qalander Baba Aulia R.A (Hayat, Halat, Taleemat..)

Yasir Zeeshan Azeemi

میں نے اس عظیم بندے کے چودہ سال کے شب و روز دیکھے ہیں۔ ذہنی، جسمانی اور روحانی معمولات میرے سامنے ہیں۔ میں نے اس عظیم بندہ کے دل میں رسول اللہ کو دیکھا ہے۔ میں نے اس عظیم بندہ کے من مندر میں اللہ کو دیکھا ہے۔ میں نے اس عظیم بندہ کے نقطۂ وحدانی میں کائنات اور کائنات کے اندر اربوں کھربوں سنکھوں مخلوق کو ڈوریوں میں باندھے ہوئے دیکھا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ کائنات کی حرکت اس عظیم بندہ کی ذہنی حرکت پر قائم ہے۔ اس لئے کہ یہ اللہ کا خلیفہ ہے۔ میں نے اس بندہ کی زبان سے اللہ کو بولتے سنا ہے۔

گفتہ اور گفتہ اللہ بود

گرچہ از حلقوم عبداللہ بود

عظیم بندہ جسے آسمانی دنیا میں فرشتے قلندر بابا اولیاءؒ کے نام سے پکارتے ہیں، نے مجھے خود آگاہی دی ہے۔ ڈر اور خوف کی جگہ میرے دل میں اللہ کی محبت انڈیل دی ہے۔ قلندر بابا اولیاءؒ نے میری تربیت اس بنیاد پر کی ہے کہ یہاں دو طرز فکر کام کر رہی ہیں۔ایک شیطانی طرز فکر ہے جس میں شک، وسوسہ، حسد، لالچ، نفرت، تعصب اور تفرقہ ہے۔