Topics

مشن

 

کسی مشن کو کامیاب بنانے کے لئے آزمائشیں ضروری ہیں جب تک آزمائش سے کوئی نہیں گزرتا مقصد کی تکمیل نہیں ہوتی مقصد ہمہ گیر ہویا اس کی حیثیت انفرادی ہو آزمائش لازم ہے۔

                         

تعلق

خدا     سے گہرا تعلق پیدا کئے بغیر دعوت و تبلیغ کا کام خود فریبی کے سوا کچھ نہیں ہے اور خدا سے وابستگی پیدا کرنے کا یقینی ذریعہ  صلوٰ ۃاور مراقبہ ہے۔

 

مسلمان          

مسلمان           کا کردار یہ ہے کہ وہ عصبیت تنگ نظری اور دھڑے بندی سے دور رہتا ہے کشادہ دلی اور خوش اخلاقی سے  ہر ایک سے تعاون کرتا ہے اور جو لوگ بھی مخلصانہ طرزوں میں صراط مستقیم پر گامزن ہو کر اللہ کی مخلوق کی خدمت کرتے ہیں ان کے ساتھ خیر خواہی اور اخلاص کا برتاؤ کرتا ہے باہمی  منافرت، کشیدگی بغض و عناد اور ایک دوسرے کو نیچاد کھانے کے عمل سے  دور رہتا ہے۔

 

نیک

نیک اور پاکیزہ نفس لوگ وہ ہیں جو دل کی گہرائی سے اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کو خدا کی راہ میں قربان کر د یتے ہیں اور یہ وہی وہ لوگ ہیں جو اس  عارضی زندگی میں خدا کے دین کی بھی خدمت کر جاتے ہیں۔

 

صراط مستقیم

جب تک آپ خود کو صراط مستقیم پر گامزن نہیں کریں گے آپ دوسروں پر اثر انداز میں ہو سکتے۔

 


 

بہادری

بہادری یہ ہے کہ کبرونخوت اور خوش پسندی سے خود کو بچاتے رہیں اور با تخصیص الله کی مخلوق سے محبت کریں ہر  آدم زاد کا احترام کریں اور جو اپنے لئے چاہیں وہ اپنے بھائیوں کے لئے چاہیں۔

 

دنیا کی محبت

دنیا کی محبت انسان کو بزدل بنا دیتی ہے۔ وہ موت جیسی حقیقی زندگی سے خوف زدہ رہتا ہے۔ نفس پرستی پراگندگی، فتنہ انگیزی اور ظلم ستم عام ہو جاتا ہے۔ دوسری قومیں طرح طرح کی سازشوں کے جال بچھا کر اور مال و زر کی لالچ میں مبتلا ہو کر کم ہمت قوموں کے وجود کو ختم کر دیتی ہیں۔

 

اطمینان قلب

دنیا سے محبت اور موت سے خوف کرنا چھوڑ دیجئے۔ یہ عمل سکون راحت اور اطمینان قلب کا باعث بنے گا اور دوزخ آپ کے قریب بھی نہیں پھٹکے گی۔

 

نوجوان نسل

نوجوان نسل کے بڑوں نے اپنی اصلاح نہیں کی تو حالات نہیں سدھریں گے ہم یہ بات کیوں بھول رہے ہیں کہ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اس کا ذہن سادہ ورق کی طرح ہوتا ہے وہ وہی عادات و اطوار اپناتا ہے جو ماحول میں رائج ہیں۔


Bare Bachon Ke Liye

خواجہ شمس الدین عظیمی


روحانیت تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔