Topics

نفرت

 

نفرت سب سے بڑی بد بختی ہے کہ نیت انسان کو خالق اکبر اللہ سے دور کر دیتی ہے۔یہ دوری اسے اشرف المخلوقات کے دائرے سے نکال کر حیوانات اور درندگی کی صف میں کھڑا کر دیتی ہے۔

 

اسلامی زندگی

اسلامی زندگی کے دلکش خدوخال اختیار کر کے ہم اپنے اندر غیر معمولی کشش اور جاذبیت پیدا کر سکتے ہیں۔

 

روشن اور واضح اصول

اللہ تعالی کے حکم سے سیدنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے بلخصوص اور نوع انسانی کے لیے بلعموم ایسے روشن اور واضح اصول مرتب کیئے ہیں جن پر عمل کر کے ہم ذہنی کشاکش،اعصابی کش مکش الجھنوں اور پریشانیوں سے محفوظ و مامون ہو سکتے ہیں۔

 

شکر گزاری

محسن کی شکر گزاری اور احسان مندی شرافت کا اولین تقاضا ہے۔

 

اعتراف خالقیت

محض زبانی طور پر یہ کہہ دینا کہ ہمارا خالق اللہ ہے اعتراف خالقیت کا تقاضا پورا نہیں کرتا۔

 

روح سے واقفیت

اگر ہم اپنی روح سے واقف نہیں ہیں تو اللہ تعالی کی خالقیت اور ربانیت کا تذکرہ محض مفروضہ حواس پر مبنی ہو گا۔

 

خالق سے واقفیت

بندہ جس طرح اپنے والدین سے واقف ہے اسی طرح اپنے خالق سے واقفیت ضروری ہے۔

 

صراط مستقیم

جب کوئی قوم صراط مستقیم سے بھٹک جاتی ہے تو وہ امتحان کی چکی میں پسنے لگتی ہے تاکہ صعوبتوں،پریشانیوں اور عدم تحفظ کے زہریلے احساس سے محفوظ رہنے کے لیئے وہ راستہ تلاش کرے جو فلاح و سلامتی کا راستہ ہے۔

 

انسانیت کی فلاح و ترقی

نشوونما اور انسانیت کی فلاح و ترقی کندن ہوئے بغیر ممکن نہیں ہے امتحان کی بھٹیوں سے گزر کر ہی سونا کندن بنتا ہے نوع انسانی ان بھٹیوں سے نہ گزری ہوتی تو آج بھی لوگ غاروں کے مکین ہوتے۔

 

مسائل

مسائل اسوقت تک مسائل ہیں جب تک انسان ذہنی یکسوئی اور سکون کی زندگی سے ناآشنا ہے۔ان لوگوں کے اوپر سے مسائل و تکالیف کی گرفت ٹوٹ جاتی ہے جو اللہ کی مخلوق کی خدمت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیتے ہیں دوسروں کی مدد کرنا اور ان کے کام آنا انسانیت کی معراج ہے۔

 

زندگی کا قیام لہروں پر

مادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا زندگی کا قیام لہروں پر ہے اور لہریں خیالات کا جامہ پہن کر ہر شئے کا وجود بن رہی ہیں مادے سے بنی ہوئی تصویروں میں ہمیں جو کچھ نظر آتا ہے وہ مفروضہ اور محض فریب نظر ہے۔


Bare Bachon Ke Liye

خواجہ شمس الدین عظیمی


روحانیت تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔