Topics

محدود سوچ

 

وہ انسان جس کی سوچ صرف اپنی ذات تک محدود ہے۔کبھی  ماورائی دنیاؤں کے راستوں پر قدم نہیں بڑھا سکتا۔

 

مذہبی اقدار

جب تک کوئی آدمی مذہبی اقدار کو نہیں اپناتا اس کے اندر کائنات سے متعلق اخلاص پیدا نہیں ہوتا۔

 

روشنی

جس روشنی میں ہماری آنکھیں دیکھتی ہیں وہ یک ذات اور کل ذات کے درمیان پردہ ہے۔

 

قانون خداوندی

جب کوئی قوم قانون خداوندی سے انحراف و گریز کرتی ہے اور خیر و شر کی تفریق کو نظر انداز کر کے قانون شکنی کا ارتکاب کرنے لگتی ہے تو یقین کی قوتوں میں اضمحلال شروع ہو جاتا ہے۔

 

مادی وسائل

جب کسی قوم کا انحصار دروبست مادی وسائل پر ہو جاتا ہے تو آفات ارضی و سماوی کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور بالاآخر ایسی قومیں صفحہء ہستی سے مٹ جاتی ہیں۔

 

دولت

دولت کی ہوس اور معیار زندگی بلند سے بلند ہونے کے تقاضوں نے اولاد آدم کے لیئے دنیا کو دوزخ بنا دیا ہے۔

 

اللہ سے دوری

جو لوگ صابر و شاکر اور مستغنی نہیں ہیں وہ اللہ سے دور ہو جاتے ہیں اور اللہ سے دوری سکون و عافیت اور اطمینان قلوب سے محرومی ہے۔

 

صبر و استغنا ء

من حیث القوم صبر و استغناء کسی قوم کے مزاج میں رچ بس جاتا ہے تو معاشرہ سدھر جاتا ہے،قومیں حقیقی فلاح و بہبود کے راستوں پر گامزن ہو جاتی ہیں۔

 

محبت

اللہ تعالی کو پہچاننے کا واحد ذریعہ محبت ہے اور اللہ تعالی سے دور کرنے والا جذبہ محبت کے خلاف نفرت ہے۔

 

محبت اور نفرت کا پہلو

جس معاشرے میں محبت کا پہلو نمایاں ہوتا ہے وہ معاشرہ ہمیشہ پرسکون رہتا ہے اور جس معاشرے میں بیگانگی اور نفرت کا پہلو نمایاں ہوتا ہے اس معاشرے کے افراد ذہنی خلفشار اور عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا رہتے ہیں۔

 

محبت سراپا اخلاص

محبت سراپا اخلاص ہے نفرت مجسم غیظ و غضب اور انتقام کے خدوخال پر مشتمل ہے غصہ بھی نفرت کی ایک شکل ہے۔

 

محبت کی لطیف لہریں

انسان جس کے اندر محبت کی لطیف لہریں دور کرتی ہیں وہ مصائب و مشکلات اور پیچیدہ بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے،اور اس کے چہرے میں خاص قسم کی کشش پیدا ہو جاتی ہے۔


Bare Bachon Ke Liye

خواجہ شمس الدین عظیمی


روحانیت تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔