Topics

ماورائی دنیا


قلندر بابا اولیا رحمتہ اللہ علیہ سے حیات جاودانی میں کی گئی ملاقاتوں کا احوال

]۸[   حامل علم لدنی، واقف اسرار کن فیکون، ولی کامل، ابدال حق حضور قلندر بابا اولیا رحمتہ اللہ علیہ کی بابرکت اور با کرامت ذات والا صفات مجھ ناقابل تذکرہ شے کے بیان سے باہر ہے۔ اتنی جلیل القدر اور عظیم المرتبت ہستی کی شان میں قلم اٹھانا چھوٹا منہ بڑی بات کے مترادف ہے لیکن ادب، عقیدت اور محبت کا تقاضا ہے کہ اپنے ولی کی شان میں اپنے کم مایہ ہی سہی لیکن دلی جذبات کا اظہار کروں۔  حضور قلندر بابا اولیا رحمتہ اللہ علیہ کی نوازشیں اور کرم نوازیاں تو مجھ پر سلسلہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی سے جاری تھیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ  سلسلہ عظیمیہ تک ان ہی کی نظر کرم نے مجھے پہنچایا ہے۔ شاید یہ وجہ ہے کہ مجھ پر ہمیشہ لطف و کرم کی بارش ہوتی رہی ہے اور کیوں نہ ہو؟ عظیمی شجر مبارک کی بنیاد اور جڑ تو وہ ہی ہیں۔ ایک مضبوط اور تناور تنے ]حضور اباجی[ اور ہم سب شاخوں ، پتوں، پھولوں ، پھلوں کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ پورے درخت کو مضبوطی سے سنبھالے رکھنا درخت کے تمام حصوں کی آبیاری کرنا ان کو ہرا بھرا رکھنا۔ مرجھانے نہ دینا یہ سب جڑ ہی کا تو کام ہے۔ اسی لیے میری جڑ بھی میری دیکھ بھال میری تکلیف و آرام سے کبھی غافل نہیں رہی۔ کبھی تسلی تشفی، کبھی کچھ اشارے، کچھ رہ نمائی، چاہے میں سمجھی نہ سمجھی لیکن میرے رہ نما، میرے جدا اعلا میرے ولی کی طرف سے برابر جاری و ساری ہے۔

۱۔ ایک بار مراقبہ میں دیکھا کسی محفل میں حضور قلندر بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ صدر محفل بنے ایک تخت کے شروع سرے پر جو گیا رنگ کا کرتا پاجامہ زیب تن کیے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے براجمان ہیں۔ کچھ دوسری خواتین بھی محفل میں شریک ہیں۔ میں زمین پر حضور قلندر بابا اولیا رحمتہ اللہ علیہ کے پیروں کے پاس بیٹھی ان کے گھٹنوں پر اپنے دونوں ہاتھ اور سر رکھے رو رہی ہوں اور پوچھ رہی ہوں:

"بتایئے میں کیا کروں۔"

آپ رحمتہ اللہ علیہ نے انتہائی شفقت سے میرے سر پر ہاتھ پھیر کر فرمایا:

"چالیس مرتبہ سورۃ یٰسین پڑھو"

پڑھنے کے طریقہ کار  کے بارے میں میں نے پوچھا تو فرمایا :

]نام لے کر جو کہ مجھے باکل یاد نہیں رہا تھا[  ”صاحبہ تمہیں بتائیں گی۔“

کسی صاحب کو نام سے پکار کر فرمایا ” انہیں صاحبہ کے پاس لے جاؤ۔“

وہ صاحب مجھے وہاں سے لے کر چلے بہت دیر تک پیدال ان صاحب کے پیچھے پیچھے چلتی رہی۔ رات بہت ہوتی جا رہی تھی جگہ اور راستے میرے لیے نئے اور انجانے ہیں۔ لیکن میں بے خوف و خطر قلندر بابا رحمتہ اللہ علیہ کے حکم پر راستے طے کرتی رہی آخر کافی دیر چلنے کے بعد ان صاحبہ تک پہنچے۔ دیکھا ایک صاحبہ سیاہ فریم کا نظر کا چشمہ لگائے سانولے سے رنگ کی ، سفید لباس، سفید موٹا سا چادر نما دوپٹہ اس طرح اوڑھے ہوئے ہیں کہ صرف ایک طرف کا تھوڑا سا چہرہ اور تھوڑے سے گھنگریالے بال نظر آ رہے ہیں۔ مراقبہ کی سی  کیفیت میں سر جھکائے بیٹھی ہیں۔ چوں کہ شکل صاف نظر نہیں ا رہی ہے اس لیے عمر کا صحیح اندازہ نہیں ہو پا رہا لیکن زیادہ عمر رسیدہ نہیں ہیں۔ سلام عرض کرنے پر انہوں نے نظریں اُٹھا کر مجھے دیکھا اور سورۃ یٰسین کی تفصیل اور طریقہ بتایا جو کہ مراقبہ کے اختتام پر میں بھول گئی۔ تفصیل اور طریقہ معلوم کر لینے کے بعد اپنے رہبر کے ساتھ واپس ہو لی۔ میں نے ان صاحب سے اس جگہ کا نام پوچھا  تو بتایا کہ ڈرگ روڈ ہے تو میں بہت ڈری کیوں کہ میرے گھر سے تو ڈرگ روڈ بہت دور ہے۔ پیدل جا رہے ہیں۔ گھر پہنچنے تک تو رات اور بھی زیادہ ہو جائے گی۔ شوہر آفس سے آگئے ہوں گے۔ وہ تو مجھے بہت ڈانٹیں گے کہ اتنی رات میں اتنی دور ڈرگ روڈ اکیلی کس لیے گئی تھیں۔”  ذہن میں سارے اندیشے تو آرہے ہیں لیکن دل مطمئن ہے کہ میں خود تھوڑی گئی تھی۔ حضور قلندر بابا رحمتہ اللہ علیہ نے  بھیجا تھا“ ساری ذمہ داری ان کے اوپر ڈال کر خود بے فکر ہو کر راستے طے کرتی رہی، آخر مراقبہ ختم ہو گیا۔ دو تین دن تک مراقبہ کی کیفیت کا اثر بھی زہن سے نکل گیا چون کہ اس وقت تک میں عظیمیہ سلسلہ میں باقاعدہ داخل نہیں ہوئی تھی، لہذا مراقبوں کی کیفیات کو کوئی اہمیت نہیں دیتی تھی۔ لیکن ایک بات ہے کہ بیعت ہونے سے پہلے کے مراقبے آج تک حافظہ میں محفوظ ہیں۔ جب کبھی پچھلی کیفیات کے بارے میں سوچتی ہوں تو ذہن اور دماغ میں ایک فلم چلنے لگتی ہے اب یہ اور بات ہے کہ نام وغیرہ یاد نہیں رہے، یا مراقبوں ہی میں میں نے ناموں پر کچھ توجہ نہ دی جس کی وجہ سے وہ حافظہ سے نکل گئے۔ مراقبوں کی کیفیت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے حضور ابا جی کی خدمت میں بھی کبھی ان کی تفصیل پیش نہیں کی۔ حالاں کہ میں برابر ہی ابا جی کی خدمت میں حاضری دیتی رہتی تھی۔ اکثر بہنوں سے حضور ابا جی کے یہاں ملاقات ہوتی رہتی تھی ان سے جان پہچان ہو گئی تھی۔ بیعت ہونے کے بعد جب سلسلہ کی بہنوں سے تعارف ہوا تو کئی بہنیں پرانی شناسا نکلیں کافی عرصے بعد جب حضرت سعیدہ باجی سے پہلی ملاقات ہوئی تو ان سے مل کر ان کو دیکھ خوشی تو بہت ہوئی لیکن پہلی مرتبہ ملنے کا وہ ذوق و شوق اور اشتیاق میں نے اپنے جذبہ میں نہ پایا جو کہ دو سری بہنوں میں پایا جا رہا تھا۔ مجھے تو ایسا لگ رہا تھا کہ ملاقات اور رشتہ تو بہت پرانا ہے بس یہ ملاقات کافی عرصہ بعد ہوئی ہے۔

                ایک دن باجی صاحبہ نماز سے فارغ ہو کر وظائف میں مشغول تھیں۔ میری نظر ان کی طرف اُٹھ گئی۔ اچانک ذہن میں کرنٹ لگا ان کی شکل و صورت، ان کے بیتھنے کا انداز، ان کا جھکا سر چہرے کا رخ، زاویہ۔ یہ سب تو پرانی فلم تھی۔ جو برسوں پہلے حضور قلندر بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے بھیج کر ان سے میرا رشتہ قائم کیا تھا۔ ورنہ تو انجانی اور نئی شکل میں مراقبہ میں کیوں دیکھتی۔ اب مجھے ان کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ وہ حقیقتیں نظر کے سامنے جیتی جاگتی چلتی پھرتی موجود تھیں۔

                ایک دن میں نے ”لوح و قلم“ کی کلاس کے بعد حضور ابا جی کی جناب میں اپنا مراقبہ گوش گزار کیا۔ اباجی نے فرمایا اگلے ہفتہ اپنی کلاس کے بعد یہاں اپنی بہنوں کے ساتھ غالباً ۷۱ بار ] تعداد یاد نہیں رہی[پڑھ لینا“ اگلے ہفتے کلاس ختم ہونے کے بعد ختم شریف کا اہتمام کیا گیا۔ میری انتہائی خوش نصیبی کہ اس محفل میں میں اور ابا جی بہ نفس نفیس شریک ہوئے۔ پڑھائی مین بھی اور پھر ختم شریف کے بعد دعا بھی حضور ابا جی نے فرمائی۔ بابا صاحب حضرت قلندر بابا اولیا رحمتہ اللہ علیہ کا میرے لیے ختم شریف کا حکم کیوں            تھا۔ یہ معلوم کرنے کی میں نے ضرورت محسوس نہ کی۔

                ۲۔ مراقبہ میں ایک دن دیکھا ” لوح و قلم“ کی کلاس ہو رہی ہے۔ کلاس ختم ہونے کے بعد حضور ابا جی زمین پر بچھی دری پر کچھ دیر آرام کی غرض سے چادر اوڑھ کر لیٹ گئے ہیں اور آنکھیں بند کر لی ہیں۔ جب ابا جی کو لیٹے کچھ دیر ہو گئی تو میں اپنی جگہ سے اٹھ کر ان کے پاس گئی۔ اس وقت میں نے اپنے آپ کو تین یا چار سال کی بچی کے روپ میں دیکھا۔ اباجی کے پاس جا کر میں نے کہا اٹھیے۔ اباجی بڑے نرم اور دھیمے لہجے میں فرماتے ہیں: ” ہاں ابھی اٹھتا ہوں“

لیکن مجھے بے چینی ہو رہی ہے اور یہ فکر ہے کہ اباجی سو نہ جائیں۔

                اباجی کا ہاتھ پکڑ کر اٹھانے کی کوشش کرتی ہوں اپنی ساری طاقت صرف کر کے بھی میں ابا جی کو نہیں اٹھا سکی۔ چوں کہ چار پانچ سال کی بچی ہوں اس لیے تھک کر ہار مان لی اور سرہانے کی طرف جا کر بیٹھ گئی۔ ابا جی لیٹے ہوئے مسکرا رہے ہیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ بچی پریشان ہوگئی ہے تو اس طرح سے مسکراتے ہوئے یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔

”لو بھئ اٹھ گئے۔ تم نے تو ذرا دیر بھی نہیں لیٹنے دیا۔ چلو۔“

                اور میرا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف چل دیئے۔ میں خوشی خوشی ان کے ساتھ جا رہی ہوں۔ اندر بڑے کمرے میں ایک طرف بڑی ساری فرشی دری پر سفید چاندنی بچھی ہوئی تھی۔ بہت سی عورتیں بھی بیٹھی ہیں۔ ایک طرف صوفہ لگا ہے۔ میں جا کر ابا کے ساتھ فرش پر کونے ہی میں بیٹھ جاتی ہوں۔ اتنے میں حضور قلندر بابا اولیا رحمتہ اللہ علیہ تشریف لاتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں بڑے سائز کی گہری ہرے رنگ کی پلاسٹک کو روالی ” لوح و قلم“ ہے میری طرف بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں:

”لو بھئی یہ لو اور اس کو اچھی آواز سے کوئی پڑھے۔“

                میں نے کھڑے ہو کر دونوں ہاتھوں سے کتاب پکڑ لی اور بہت خوش ہو کر اپنے پاس رکھ لی۔ قلندر بابا اولیا ء رحمتہ اللہ علیہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور صوفہ تک لائے۔ ایک طرف حضور اباجی صوفہ پر بیٹھے۔ بیچ میں مجھے بٹھایا اور دوسری طرف خود بیٹھ گئے۔ میں بہت اپنائیت  بہت بے تکلفی سے خوش خوش دونوں بزرگوں کے درمیان اس طرح بیٹھی ہوں کہ ایک طرف میرے کندھے پر حضور اباجی ہاتھ رکھے ہیں دوسرے کندھے پر قلندر بابا رحمتہ اللہ علیہ۔ میں چاروں طرف دیکھ رہی ہوں اور یہ محسوس کر رہی ہوں کہ میں اپنے دادا یا نانا اور والد کے درمیان بیٹھی ہوں۔ اتنے میں کسی آواز سے مراقبہ ختم ہوگیا۔

۳۔ ایک مرتبہ دیکھا کوئی تقریب ہے اور اس کا اختتام ہو چکا ہے۔ رات کا وقت ہے۔ صرف دو چار مہمان رہ گئے ہیں۔ جن کو رخصت کرنے حضور قلندر بابا اولیا رحمتہ اللہ علیہ گیٹ پر کھڑے ہیں۔ میں بھی رخصت ہونے کی اجازت لینے کے لیے وہیں کھڑی ہوں۔ میرے قریب دو انگریز دلہنیں بھی کھڑی ہیں۔ اچانک ابا جی حضور اپنے روزانہ کے معمول کے مطابق مجھ سے مخاطب ہوتے ہیں۔

”تم کیسے جاؤ گی۔“

] اباجی روز مرہ بھی اسی طرحہم سب سے گھر واپس آتے وقت فرداً فرداً پوچھتے ہیں اور واپسی کے لیے انتظام کرتے ہیں[

قبل اس کے میں کوئی جواب دیتی حضور قلندر بابا رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا : ” اس کو ہم لے جائیں گے۔“

۴۔ ایک رات نیم بیداری کے عالم میں دیکھا حضور ابا جی میرے پاس تشریف لائے ہیں۔ بہت جلدی میں ہیں۔ فرمایا ”فوراً چل آ“ میں نے فوراً حکم کی تعمیل کی۔ چلتے چلتے ایک ویران سی غیر آباد جگہ پہنچے۔ وہاں صرف ایک کمرہ بنا ہوا ہے۔ جس میں نہ کوئی کھڑکی ہے نہ اندر داخل ہونے کا کوئی دروازہ۔ پھر بھی پتہ نہیں کیسے ہم دونوں اندر کمرے میں پہنچ گئے۔ اندر جاتے ہی اباجی نے فرمایا: ”لاؤ بھئی بس اب جلدی کرو“

میں بہت اچھا کہہ کر کمرے میں کچھ تلاش کرنے لگی۔ جب کہ کمرہ ویران اور خالی پڑا تھا۔ اب پتہ نہیں کس طرح اس میں میرا سامان رکھا ہے۔ میں اپنی کتابیں میز پر تلاش کر رہی ہوں جو وہاں نہیں۔ اتنے میں میری نظر اٹھی تو دیکھا اباجی کے قریب حضور قلندر بابا عحمتہ اللہ علیہ کھڑے۔ اباجی نے پھر اپنا جملہ دہرایا: ”جلدی کرو بہت دیر ہو رہی ہے۔“

                میں عطیم المرتبت دو بزرگوں کی موجودگی میں نروس ہوتے ہوئے تلاش میں زیادہ مستعد ہوں لیکن جو چیز میں تلاش کر رہی ہون وہ نہیں مل رہی۔ تیسری مرتبہ ابا جی نے فرمایا۔ ” بھئی جلدی دو کوئی چیز حضور اکرم ﷺ کے دربار میں دیر نہیں کی جاتی۔ حضور اکرم ﷺ دیر ناپسند فرماتے ہیں۔“

میں نے عرض کی ؛ ” ابا  جی بس ایک منٹ میں اپنا رجسٹر ڈھونڈ رہی ہوں۔ پتہ نہیں کہاں رکھ کر بھول گئی۔“

ابھی یہ الفاظ اچھی طرح سے میرے منہ سے ادا بھی نہیں  ہونے پائے تھے کہ حضور قلندر بابا اولیا ء رحمتہ اللہ علیہ ابا جی کے درمیان میں اوپر کندھے کی طرف سے ایک ہاتھ آگے ایا اور اس ہاتھ نے میرے چشمہ کے کور پر جو وہاں رکھا تھا ، مہر لگا دی۔ مہر لگنے پر مجھے خوشی تو بے حد ہوئی کہ حضور اکرم ﷺ نے اپنی مہر لگا دی۔

۵۔ مراقبہ میں دیکھا بہت سے لوگ بہت نظم و ضبط اور خاموشی کے ساتھ جلوس میں جا رہے ہیں۔ سب سے آگے اور پہلی لائن میں سیدھے ہاتھ پر پہلے صاحب سر پر سلیٹی رنگ کا بڑا سا صافہ باندھے ، ہاتھ میں بہت بڑا موٹا براؤن رنگ کا چمڑے کی جلد کا رجسٹر  لیے وزیر حضوری پیرانِ پیر حضرت عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔ دوسرے صاھب سفید کرتے پاجامہ میں ملبوس حضور قلندر بابا رحمتہ اللہ علیہ  اور تیسرے صاحب مرشد کریم اباجی ہیں۔ آپ تینوں حضرات ایک ہی لائن میں تیزی سے چلے جا رہے ہیں ۔ ان کے پیچھے  دوسری لائن میں اسی طرح دوسرے تین آدمی ہیں۔ اسی ترتیب سے ساری لائنیں ہیں۔ سب سے پہلی لائن کے تینوں بزرگ اللہ کے دوست حضرات بہ ظاہرا یک لائن میں جا رہے ہیں لیکن قدم دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ تینوں میں فاصلہ ہے جو کہ غور سے دیکھنے پر نمایاں ہوتا ہے۔

۶۔ ایک رات بعد نماز عشاء جائے نماز پر بیٹھی اسباق پڑھ رہی تھی۔ درود شریف پڑھتے پڑھتے آنکھیں بند ہو گئیں۔ بیداری کا علام تھا۔ درود شریف کا ورد جاری تھا کہ دیکھا ایک دم میرے سیدھے ہاتھ کی طرف حضور قلندر بابا رحمتہ اللہ علیہ تشریف لائے۔ ان کے ساتھ ہی دو حضرات اور ہیں۔ بہت لمبی جسمات کے دبلے جسم کے دونوں حضرات سر سے پیر تک کالے لباس میں ملبوس ہیں۔ جتنی لمبی جسامت کے دونوں حضرات ہیں اتنے ہی قد وقامت کے قلندر بابا رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔ میں سوچ رہی ہوں کہ حضور قلندر بابا رحمتہ اللہ علیہ کا قد اتنا لمبا کیسے ہو گیا  کہ قلندر بابا رحمتہ اللہ علیہ نے مجھے اٹھنے کا حکم دیا۔ حکم سنتے ہی میں خوف زدہ ہو گئی کہ مجھ سے کیا غلطی ہو گئی جو مجھے اٹھنے کا حکم دے رہے ہیں۔ ان کے ساتھ تو دونوں حضرات فرشتے ہیں۔ پتہ نہیں کیوں آئے ہیں۔لیکن حضور قلندر بابا رحمتہ اللہ علیہ کی وجہ سے میرا خوف ختم ہو گیا۔

دوسری دفعہ قلندر بابا رحمتہ اللہ علیہ کا حکم سنتے ہی دونوں حضرات نے میرا بازو کندھے سے پکڑ کر کہا: ”اٹھو چلو۔“

ان کے کہنے اور اٹھانے سے مجھے ڈر محسوس ہوا اور سوچا یہ فرشتے نہیں ہیں جنات ہیں چوں کہ سلسلہ عظیمیہ میں جنات بھی شامل ہیں۔ اس لیے حضور قلندر بابا رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ آئے ہیں۔ چوں کہ جنات کی تخلیق نسمہ مفرد پر ہوتی ہے اس لیے یہ حضرات لمبے قد کے ہیں پتہ نہیں مجھے کہاں لے کر جائیں یہ سوچ کر بہت ہمت کر کے انہیں جواب دیا کہ میں درود شریف پڑھ رہی ہوں ۔ میں کہیں نہیں جاؤں گی اور جائے نماز پر اچھی طرح جم کر بیٹھ گئی ت کہ یہ حضرات مجھے اٹھانا چہیں تو اٹھا نہ سکیں۔ سکڑتے سکڑتے ایک دم ہوشیار ہو گئی۔ مزے کی بات کہ جس طرح بیٹھ کر درود شریف کا ورد کر رہی تھی نشست کی وہ صورت نہیں تھی۔ میں باقاعدہ سمٹی ہوئی بیٹھی تھی۔ کہاں تو مراقبہ میں ڈر لگ رہا تھا اور سمٹ جانے والی پوزیشن اسی ڈر کا نتیجہ تھی لیکن ہوشیار ہونے کے بعد اپنے آپ کو اس کیفیت میں دیکھ کر خود بخود ہنسی آ گئی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 


 

Topics


Huzoor Qalander Baba Aulia R.A (Hayat, Halat, Taleemat..)

Yasir Zeeshan Azeemi

میں نے اس عظیم بندے کے چودہ سال کے شب و روز دیکھے ہیں۔ ذہنی، جسمانی اور روحانی معمولات میرے سامنے ہیں۔ میں نے اس عظیم بندہ کے دل میں رسول اللہ کو دیکھا ہے۔ میں نے اس عظیم بندہ کے من مندر میں اللہ کو دیکھا ہے۔ میں نے اس عظیم بندہ کے نقطۂ وحدانی میں کائنات اور کائنات کے اندر اربوں کھربوں سنکھوں مخلوق کو ڈوریوں میں باندھے ہوئے دیکھا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ کائنات کی حرکت اس عظیم بندہ کی ذہنی حرکت پر قائم ہے۔ اس لئے کہ یہ اللہ کا خلیفہ ہے۔ میں نے اس بندہ کی زبان سے اللہ کو بولتے سنا ہے۔

گفتہ اور گفتہ اللہ بود

گرچہ از حلقوم عبداللہ بود

عظیم بندہ جسے آسمانی دنیا میں فرشتے قلندر بابا اولیاءؒ کے نام سے پکارتے ہیں، نے مجھے خود آگاہی دی ہے۔ ڈر اور خوف کی جگہ میرے دل میں اللہ کی محبت انڈیل دی ہے۔ قلندر بابا اولیاءؒ نے میری تربیت اس بنیاد پر کی ہے کہ یہاں دو طرز فکر کام کر رہی ہیں۔ایک شیطانی طرز فکر ہے جس میں شک، وسوسہ، حسد، لالچ، نفرت، تعصب اور تفرقہ ہے۔