Topics

لوح و قلم


قلندر بابا اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی ذات گرامی حق ا یقین کی وسعتوں میں پرواز کرنے والا وہ شہباز ہے جس کے پروں کے سائے تلے عالم ملکوت و جبروت اور لاہوت کی فضائیں ہیں اور جس کا تقرب الہی دیکھ کر زمین و آسمان متحیر ہیں۔

بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ اپنے پیچھے دو عظیم تحریر ی سرمایا چھوڑ گئے ہیں جس سے اہل نظر اہل طلب ہمیشہ استفادہ کرتے رہیں گے ۔بابا صاحب کی تحریر ان کی شخصیت کے تعارف کے لیے آئینے کی طرح ہے جو گرچہ کے روحانی عظمت کو منعکس کرتی ہے لیکن پھر بھی بابا صاحب کی شخصیت اتنی ہمہ گیر ہے کہ اس کا احاطہ ممکن نہیں ہے۔بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی تحریروں میں ان کی کتاب لوح و قلم کو مرکزی مقام حاصل ہے۔

" لوح و قلم "کے بارے میں کچھ لکھنے سے پہلے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ قرآن پاک سے متعلق کچھ عرض کردیا جائے  ۔

 قرآن  پاک میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد  فرمایا ہے۔ اللہ کی سنت میں نہ کوئی تبدیلی واقع ہوتی ہے اور نہ  تعطل اللہ کی سنت وہ حکم یا وجود کو زندگی مل رہی ہے۔یہ قوانین ازل سے جاری ہیں اور ابد تک جاری رہیں گے۔ ان میں کسی تبدیلی ، تغیر یا تعطل کا خیال بھی نہیں کیا جاسکتا جن قوانین کے تحت آج سے دس ہزار سال پہلے زمین گردش کررہی تھی ،سورج اپنی حیات بخش روشنی سے زمین پر بسنے والے جان داروں کی خدمت کررہا تھا۔چاند اپنی چاندنی سے زمین کو سیراب کررہا تھا آج بھی زمین کی گردش سورج کی روشنی اور چاند کی چاندنی قوانین کی پابند ہے۔ جو فارمولا سال پہلے انسان جنات اور فرشتوں کا نیا نظام اسلام آباد اور کے قیام کا باعث بنے ہوئے تھے۔انہی  فارمولوں پر آج بھی ان کا وجود قائم ہے۔کبھی بھی کائنات میں واقع ہونے والی کوئی حرکت اس میں برپا ہونے والا کوئی واقعہ یا کائنات میں واقع ہونے والی کوئی تخلیق حادثاتی اور اتفاقی طور پر نہیں ہوئی ہے نہ ہی آج ایسا ہے  اور نہ مستقبل میں ایسا ہوگا ۔یہ سب کچھ اٹل قوانین کے تحت ہے۔ ہر حرکت واقعہ یا تخلیق میں مشیت کارفرما ہے۔

قرآن پاک کے مضامین میں تفکر کیا جائے تو انہیں تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے پہلا حصہ تو ان معاشرتی اور اخلاقی قوانین پر مشتمل ہے جوایک فلاحی معاشرے کی ضرورت ہے، دوسرے حصے میں انبیاء کرام کے واقعات اور تاریخی قصص بیان کئے گئے ہیں۔ نیز اسی حصہ میں قوموں کے عروج و زوال کے اسباب کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔تیسرا حصہ جو قرآن کا یک بڑا حصہ ہے، تسخیر کائنات، کائنات کی ساخت میں کام کرنے والے فارمولوں اور مرنے کے بعد کی زندگی کے بیان پر مبنی ہے۔اس حصہ کو معاد کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور یہ وہی قوانین اور فارمولے ہیں جن کو ہم پہلے اللہ کی سنت یا اللہ کا امر کہہ کر متعارف کراچکے ہیں المیہ یہ ہے کہ قرآن پاک میں معاد کے عنوان سے جو کچھ بیان کیا گیا ہے ہم اسے متشابہات کہہ کر قابل توجہ نہیں سمجھتے اور اس میں  غوروفکر نہیں کرتے۔ حالاں کہ قرآن کی کوئی بات بے معنی نہیں ہو سکتی ۔

قرآن پاک  میں ارشاد ہوتا ہے "یہ کتاب نہیں ہے اس میں شک" (سورہ بقرہ)

قرآن پاک کا معجزہ ہے کہ اس نے علوم اور معارف کی اعلی ترین بلندیوں اوراس معراج پر فکری انسانی کو پہنچایا جہاں ذہن سراپا مشاہدہ بن کر علوم اخذ کرتا ہے اور جہاں الفاظ ہو تو خیال کو کوئی دخل نہیں۔ ان علوم و معارف کو قرآن میں الفاظ کی جانے میں مقید کرکے شعور انسانی کے سامنے پیش کیا۔(قرآن بیان کرتا ہے کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی اور کوئی بڑی سے بڑی  بات ایسی نہیں جو اس میں بیان نہ کر دی گئی ہو۔" قرآن پاک کی خصوصیت اس کے علم البیان کی وجہ سے ہے۔

حضور قلندر بابا اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف" لوح و قلم" قران پاک کے اجمالی بیان کی تفصیل ہے ۔اس کتاب میں ان فارمولوں اور قوانین کی تشریح کی گئی ہے جو معاد کے ضمن میں قرآن پاک میں بیان کئے گئے ہیں اور جو تسخیر کائنات سے متعلق ہیں۔ہماری دنیا کی طرز یہ ہے کہ ہم کسی خیال یا کسی بات کو دوسرے تک پہنچانے کے لیے الفاظ کا سہارا لیتے ہیں اور آواز کے ذریعے اپنا ما فی الضمیر لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔غور طلب بات یہ ہےکہ الفاط صرف خول  یا لباس  کی حیثیت رکھتے ہیں اہمیت ان کے پیچھے مخفی مفہوم اور معنویت کی  ہوتی ہے مثلا جب ہم لفظ "پانی" کہتے ہیں تو اس کا مطلب  پ ،ا،ن، ی نہیں ہوتا  بل کہ اس سے مراد ان تمام صفات و خوبیوں سے مرکب سیال  ہوتا ہے جو پانی کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہےاور ہم سب اس  کو ایک ہی علم کے مطابق جانتے ہیں۔ اس طرح قرآن پاک کے الفاظ مخصوص معنی اور مفہوم کے حامل ہیں۔ یہ الفاظ اجمالی ترجمہ کائنات کے متعلق تمام فارمولوں اور علوم کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ ان قوانین اور فارمولوں کو سمجھنا اور استعمال کرنا ایک ایسے شخص کے لئے ممکن ہے کہ جسے حکمت کی دولت سے نوازا گیا ہواور جو علم و یقین سے گزر کر عین الیقین اور حق الیقین کے مراتب میں قدم رکھ چکا ہو۔ یہ وہی علوم و معارف ہیں جنہیں قرآن پاک نے  "علم الاسماء "کے نام سے یاد کیا ہے اور جو آدم کو ودیعت کئے گئے ہیں۔ قلندربابا اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کی ذات گرامی حق الیقین کی وسعتوں میں پرواز کرنے والا  وہ شہبازہے جس کے  کے پروں کے سایہ تلے عالم ملکوت ،جبروت اورلاہوت کی فضائیں ہیں اور جس کا قرب الہی دیکھ کر زمین و آسمان متحیر ہیں۔ یہ بابا صاحب جیسے عارف ذات کا کمال ہے کہ انہوں نے قرآن پاک میں بیان شدہ فارمولوں کو نہایت جامعیت کے ساتھ بیان کردیا ہے۔

 مسلمانوں کی تاریخ میں روحانیت کے موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں لیکن ان سب کا موضوع لوگوں کو معرفت الٰہی کاذوق وشوق دلانا ہے۔ اکابر اولیاء سے جو کتابیں منسوب کی جاتی ہیں ان میں ترغیبی  اور تبلیغی مواد تو موجود ہے لیکن ان قوانین  اور فارمولوں کو سامنے لانے سے احتراز کیا گیا ہے جو تسخیر کائنات سے متعلق ہیں۔

شیخ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ اور شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے ایسے موضوعات پر لب کشائی کی لیکن ان حضرات نے جو طرز بیان اختیار کیا ہے وہ عام فہم نہیں اور اس سے کچھ اخذ کرنا مشکل کام ہے۔ان کے بیانات ایک صاحب نظر تو سمجھ سکتا ہے لیکن عام آدمی کا ان سے فائدہ اٹھانا ممکن نہیں ہے۔اولیا اللہ نے ایسے موضوعات پر قلم نہیں اٹھایا اس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اگر ہم انسانی کی شعوری ترقی اور اس کی سمجھ پر نظر ڈالیں تو یہ بات سامنے آتی ہے  کہ انسان کے شعور نے زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ ترقی کی ہے۔ اشیا کی ماہیت اور اس کے استعمال کو سمجھنے کی کوشش میں اس نے پتھر کا زمانہ دیکھا، پھر دھات کا استعمال سیکھا اور دھات سازی  کے ذریعے طرح طرح کی چیزیں بنائیں۔ عمارت سازی میں ترقی کی حساب اور علم فلکیات کے میدان میں قدم رکھا، طب سے متعلق معلومات اکھٹا کیں اور اس طرح آگے بڑھتا رہا۔چھاپاخانہ کی ایجاد کے بعد علوم کی تشہیر وسیع پیمانے پر شروع ہوئی اور ترقی نے پر لگا کر پرواز کرنا شروع کر دی ۔آج انسان ترقی کرتے کرتےخلائی دور میں قدم رکھ چکا ہے، اس نے زمان و مکان کو سمیٹ کر چھوٹا کردیا ہے،اس کی کوشش ہے کہ کشش ثقل کو توڑ کر باہر نکل جائے ۔انسان مادہ  کی گہرائی میں اتر کر دیا کر کے اس کے استعمال پر قادر ہو گیا ہے۔وہ سراغ رسانی کرتے کرتے اس بات کو بھی جان چکا ہے کہ مادہ کی بنیاد لہروں پر ہے۔ لیکن مابعد الطبیعات کے میدان میں تحقیقاتی کاموں نے اس کے سامنے ایک نئی دنیا کھول کر رکھ دی ہے اور اس سے یہ دکھا دیا گیا ہے کہ اس کا علم محدود علم کے مقابلے میں ایک نقطہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتا۔  پھر بھی انسان کی  شعوری  ترقی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ بہت سی ایسی باتیں جو کبھی خواب و خیال تصور کی جاتی تھیں، اب حقیقت کا روپ دھار کر سامنے آچکی ہیں۔آج ایک عام آدمی جن باتوں سے واقف ہے سو سال پہلے کے لوگ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ آج کے دور میں انسان کا ذہن اس تقطہ  پر پہنچ چکا ہے کہ وہ روحانیت کو علمی اور سائنسی بنیادوں پر سمجھ سکے ۔فی الواقع اس کام کی جتنی آج ضرورت ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔اسی  ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے قلندربابا اولیاء رحمۃ اللہ علیہ نے علم روحانیت اور کائنات میں جاری و ساری تخلیقی قوانین کو نہایت آسان اور عام  فہم زبان میں لکھوایا ہے اور وہ باتیں جنہیں ایک ضرورت کے تحت علم مخفی یا علم سینہ  کہا جاتا تھا لوگوں کے سامنے بے نقاب کر دی ہیں ۔کیونکہ "لوح و قلم" کا مضمون  الہامی طرزوں پر قائم ہے اس لیے اس میں بھی یہی تاثر پایا جاتا ہے اس کی تحریر میں بلا کا جلال اور جمال ہے ایسا محسوس ہوتا ہے بابا صاحب ایک مصور کی طرح قدرت کے رازوں میں جلالی و جمالی رنگ بھر رہے ہیں۔کتاب کے پہلی سطر سے لے کر آخر تک جو ربط قائم ہے اس کا اظہار ممکن نہیں ہے،اس کا اظہار ممکن نہیں ہے، اس کو ایک پڑھنے والا بہتر سمجھ سکتا ہے۔تسلسل کا حال یہ ہے کہ کوئی پیراگراف  یہاں تک کی  چند سطریں نکال دینے سے مضمون تشنہ رہ جاتا ہے۔ یہ بابا صاحب کے انداز بیان کا اعجاز ہے کہ میں غیب سے تعلق رکھنے والے لا متناہی مضامین کو ترتیب کے ساتھ الفاظ میں منتقل کیا ہے کہ پڑھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔ بابا صاحب کی منفرد تصنیف قسط وار ہرماہ ڈائجسٹ میں شائع ہوتی رہی ہے۔

روحانیت اور تصوف کے قطع نظر بابا صاحب کے اندازبیان میں ادبیت اور زبان کی خوبصورتی اپنی مکمل شکل و صورت میں نظر آتی ہے۔اس کتاب کی ایک خوبی یہ ہے کہ ہر اگلا مضمون پچھلی مضمون پر ایک نئے انداز سے روشنی ڈالتا ہے ۔بابا صاحب نے پوری کتاب میں جا بجا مثالوں سے مدد لی ہے اور وہ بھی ایسی مثالیں جن سے عام آدمی روزانہ گزرتا ہے لیکن اس پر توجہ نہیں دیتا ۔بعض جگہ سائنسی دور کی معلومات کو بھی مثال کے طور پر سامنے لایا گیا ہے ۔قاری کو ایک بہتر تصور دینے کے لیےتاکہ بیان کردہ بات آسانی سے ذہن نشین  ہو جائے۔جہاں ضرورت سمجھی گئی ہے نقشوں خاکوں سے مدد لی گئی ہے۔ کتاب کے مطالعے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کائنات کے تخلیقی مراحل ہماری نگاہوں کے سامنے آگئے ہیں۔

 نبی سے جو خرق عادت سرزد ہوتی ہے اس کو معجزہ کہا جاتا ہے۔ معجزہ کسی نہ کسی قانون کی بنیاد پر واقع ہوتا ہے کیوں کہ کائنات میں پیدا ہونے والی کوئی بھی حرکت دائرہ قانون سے باہر نہیں ہے۔جب علم نبوت کے زیر اثر کسی ولی سے خرق عادت سرزد ہوتی ہے تو اس کو کرامت کہتے ہیں۔ اولیاء اللہ کے متعلق  جو تذکرے لکھے گئے ہیں ان میں کشف و کرامت کا پہلو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ان حضرات کی اصل صفات چھپ  گئی ہیں۔ ان کے متعلق کچھ ایسا تاثر ملتا ہے کہ وہ محیر العقول کمالات دکھا کر لوگوں کو مرغوب اور حیرت زدہ کر دیتے تھے۔ایسے تذکروں میں اولیاء اللہ کے سوچنے کی طرزوں  کا خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا ہے اور ان قوانین کو بیان کیا گیا ہے جس کی بنیاد پر کرامت کا صدور ہوتا ہے۔ اگر کسی ولی نے کچھ بتایا بھی تو ایسے  تذکرے مرتب کرتے وقت جو کچھ لکھا گیا ہےاس میں دانستہ طور پر کرامت کی معنویت حذف ہوگئی۔انہیں وجوہات کی بناپر قلندر بابا اولیاء رحمۃ اللہ علیہ نےاپنے نانا حضرت بابا تاج الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ ناگ پوری کا ذکر"تذکرہ تاج الدین رحمۃ اللہ علیہ" کے نام سے لکھا اور اس کتابچہ کا صرف ایک حصہ لکھنے کے بعد آپ نے اس دنیا سے پردہ فرما لیا۔

اس مختصر سے کتابچہ میں بابا صاحب  رحمۃ اللہ علیہ نے بتایا ہے کہ اولیاء اللہ سے کرامات کا صدور کیوں اور کس طرح ہوتا ہے۔ اس  تذکرہ میں بابا صاحب نے انسان کو اس کے اندر چھپی ہوئی بہت سی صلاحیتوں کا سراغ دیا ہے اور ہر انسان کے اندر موجود ان مخفی صلاحیتوں  کی  علمی توجیہہ بھی پیش کی ہے۔

حضور قلندر بابا اولیا رحمۃ اللہ علیہ کی ذات کو ایک اور اہم حیثیت حاصل ہےاور وہ یہ کیا آپ سلسلہ عظیمیہ کے امام ہیں آپ کی ذات سے سلسلہ عظیمیہ جاری ہوا ہے۔ ہر زمانے میں طالب خداجب کسی بزرگ سے بیعت اور سلوک کی منازل طے کرتا ہے تو وہ بزرگ  اسے کسی راستے سے قدم بہ قدم چل کر اس کو منزل یعنی عرفانِ خداوندی تک پہنچاتا ہے ۔یہ اصول و قوانین اور راستے سلسلے کا تعین کرتے ہیں۔گروہ اولیاء اللہ میں سے منتخب اورا قابر لوگوں نے ہر زمانے میں طالبین خدا کی عمومی حالت کو پیش نظر رکھ کر اسباق اور مرتب کیے ہیں۔ جن پر عمل پیرا ہوکرعرفان خداوندی حاصل کر سکیں ۔ہر زمانے میں نوع انسانی کی شعوری اور جسمانی صلاحیتوں میں فرق واقع ہو رہا ہے۔ایک زمانہ میں لوگوں کے پاس جسمانی قوت کی فراوانی تھی لیکن ان کے شعور  کی قوتیں اتنی مضبوط نہیں تھیں جتنی کے آج ہیں۔ فی زمانہ ماحول کے اثرات سے لوگوں کے اعصاب کمزور ہوگئے ہیں ،ان کی مصروفیات میں حد درجہ اضافہ ہو گیا ہے۔چناں چہ آج لوگوں کے لئے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ پرانے طریقہ ہائے  ریاضت پر عمل  کر سکیں۔

آج کے سائنسی دور میں کوئی بات اس وقت قابل قبول ہے جب اسے فطرت کے مطابق اور سائنسی توجیہات کے ساتھ پیش کیا جائے ۔سلسلہ عظیمیہ کا مشن یہ ہے کہ لوگوں کے اوپر تفکر کے دروازے کھل جائیں۔

بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں روایتی پیری مریدی قطعی  نہیں تھی  نہ وہاں جبہ و دستار تھا نہ منبر و محراب ۔اس دربار سے اگر کسی کو کچھ لینا تھا تو اس کے لئے خلوص و شوق اور طلب  علم  کا نذرانہ کافی تھا۔

بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی ذات ایک ایسا ابرعلم تھی جو طلب کی سر زمین کو سیراب کرنے کے لیے بے قرار رہتا تھا۔ اللہ تعالی نے ان کے سینے میں جو علم ودیعت  کیا تھا اس کی خواہش تھی کہ وہ دوسروں تک پہنچے۔ ان کا حال یہ تھا کہ اگر کوئی گھنٹوں ان سے سوالات کرتا تو وہ کسی بے اطمینانی کے بغیر اس کے جوابات دیتے رہتے تھے۔اگر کسی کو کچھ سمجھاتے تھے تو جب تک وہ سمجھ نہ لیتا مختلف طریقوں سے سمجھانے کی کوشش کرتے رہتے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ لوگوں نے ان کی موجودگی سے فائدہ نہیں اٹھایا ۔چنانچہ انہوں نے ایک مرتبہ فرمایا کہ لوگ میرے پاس دنیا کی ضرورت لے کر آتے ہیں ،  کوئی یہ نہیں کہتا کہ الم سیکھنا اور سمجھنا چاہتا ہے جو اللہ تعالی نے آپ کو عطا کیا ہے۔

بابا صاحب کی افتاد طبیعت یہ ہے کہ عرفان خداوندی کے اعلی ترین مدارس پر پہنچ کر بھی علم کے اسی طرح جو یا ہیں جیسا کہ مبتدی  ہوتا ہے۔ ان کے شعور کی وسعت حضور اکرم صلی اللہ  علیہ وسلم  کے وارث ہونے کے ناطے " رب زندنی علما"کی مکمل تفسیر ہے۔اس کا اظہار آپ نے اپنے نانا تاج دین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ ناگ  پوری کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس طرح کیا ہے:

یہ آپ ہی کا نواسہ ہے ،دریا پی کر جو پیاسا ہے

جلووں  کا سمندر دیجئے، اے بادہ حق اے جوئے رضی اللہ تعالی عنہ

 

Topics


Huzoor Qalander Baba Aulia R.A (Hayat, Halat, Taleemat..)

Yasir Zeeshan Azeemi

میں نے اس عظیم بندے کے چودہ سال کے شب و روز دیکھے ہیں۔ ذہنی، جسمانی اور روحانی معمولات میرے سامنے ہیں۔ میں نے اس عظیم بندہ کے دل میں رسول اللہ کو دیکھا ہے۔ میں نے اس عظیم بندہ کے من مندر میں اللہ کو دیکھا ہے۔ میں نے اس عظیم بندہ کے نقطۂ وحدانی میں کائنات اور کائنات کے اندر اربوں کھربوں سنکھوں مخلوق کو ڈوریوں میں باندھے ہوئے دیکھا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ کائنات کی حرکت اس عظیم بندہ کی ذہنی حرکت پر قائم ہے۔ اس لئے کہ یہ اللہ کا خلیفہ ہے۔ میں نے اس بندہ کی زبان سے اللہ کو بولتے سنا ہے۔

گفتہ اور گفتہ اللہ بود

گرچہ از حلقوم عبداللہ بود

عظیم بندہ جسے آسمانی دنیا میں فرشتے قلندر بابا اولیاءؒ کے نام سے پکارتے ہیں، نے مجھے خود آگاہی دی ہے۔ ڈر اور خوف کی جگہ میرے دل میں اللہ کی محبت انڈیل دی ہے۔ قلندر بابا اولیاءؒ نے میری تربیت اس بنیاد پر کی ہے کہ یہاں دو طرز فکر کام کر رہی ہیں۔ایک شیطانی طرز فکر ہے جس میں شک، وسوسہ، حسد، لالچ، نفرت، تعصب اور تفرقہ ہے۔