Topics

فکر انسانی

             

ہر ابتدا اپنی انتہا تک پہنچنے کے لئے فنا کے راستے پر قائم ہے۔

 

ذات مطلق

فنا در فنا، فنا در فنا کے مراحل سے گزر کر انسان ایک ایسے نقطے پر پہنچ رہا ہے جس نقطے کو فنا نہیں ہے یہی نقطہ ذات مطلق ہے۔

 

روح کا مادیت سے تعلق

جب تک روح مادیت کو سنبھالے رہتی ہے مادیت قائم رہتی ہے اور جب روح مادیت سے دستبردار ہو جاتی ہےمادیت فنا ہو جاتی ہے۔

 

حال اور مستقبل مفروضہ

کائنات میں حال اور مستقبل محض مفروضہ ہے ساری کائنات ماضی ہے                        ۔

 

زمان متواتر اور زمان غیر متواتر

آدم خلاء ہے، خلاء میں روح ہے، روح میں علم اشیاء ہے۔ اشیاء میں عالم فطرت(زمان متواتر)ہے۔زمان متواتر زمان غیر متواتر پر قائم ہے، زمان غیر متواتر ہی عالم غیب ہے۔

 

انسانی ذہن

روح نور کے لمحات میں سفر کرتی ہے ۔ انسانی ذہن روشنی کے لمحات میں سفر کرتا ہے۔

 


 

نوع انسانی کی طرز

جب نوع انسانی کا کوئی فرد صحیح طرزوں میں تقاضوں کو استعمال کرتا ہے تو اس کی ہر طرز نوع انسانی کے لیئے اخلاص کا جذبہ ہوتی ہے۔

 

نگاہ

نگاہ کا دیکھنا شعور میں ہو یا غیب میں ہو نگاہ کا دیکھنا انفرادی ہو نگاہ کا دیکھنا اجتماعی ہو،درحقیقت دونوں مرکزوں میں ایک نگاہ کام کر رہی ہے۔

 

ضمیر

ضمیر کی آواز فی الواقع خالق کی آواز ہوتی ہے اور خالق کا بخشا ہوا نتیجہ ہوتی ہے۔جب ضمیر رہنمائی کرتا ہے تو نفس کی تنقید شروع ہو جاتی ہے یہ تنقید انسان کی نیت کو غلط یا صحیح رکھتی ہے۔

 

انفرادیت

انسان جب انفرادی طور پر زندگی گزارنا چاہتا ہے یا زندگی کو انفرادی دائرے میں رہ کر سمجھنا چاہتا ہے تو اس کی سوچ محدود ہوتی ہے اس کے اندر اخلاص نہیں ہوتا۔

 

نوعی سوچ

بندہ انفرادی طور پر آزاد ہو کر نوعی سوچ کو اپنا لیتا ہے تو اس کے اندر اخلاص کا چشمہ ابل پڑتا ہے۔اس کی فہم و فراست انفرادیت سے نکل کر اجتماعی بن جاتی ہے۔

 

زندگی

زندگی کل ذات سے روشنی منتقل ہونے کا نام ہے۔            

ہر ابتدا اپنی انتہا تک پہنچنے کے لئے فنا کے راستے پر قائم ہے۔

 

ذات مطلق

فنا در فنا، فنا در فنا کے مراحل سے گزر کر انسان ایک ایسے نقطے پر پہنچ رہا ہے جس نقطے کو فنا نہیں ہے یہی نقطہ ذات مطلق ہے۔

 

روح کا مادیت سے تعلق

جب تک روح مادیت کو سنبھالے رہتی ہے مادیت قائم رہتی ہے اور جب روح مادیت سے دستبردار ہو جاتی ہےمادیت فنا ہو جاتی ہے۔

 

حال اور مستقبل مفروضہ

کائنات میں حال اور مستقبل محض مفروضہ ہے ساری کائنات ماضی ہے                        ۔

 

زمان متواتر اور زمان غیر متواتر

آدم خلاء ہے، خلاء میں روح ہے، روح میں علم اشیاء ہے۔ اشیاء میں عالم فطرت(زمان متواتر)ہے۔زمان متواتر زمان غیر متواتر پر قائم ہے، زمان غیر متواتر ہی عالم غیب ہے۔

 

انسانی ذہن

روح نور کے لمحات میں سفر کرتی ہے ۔ انسانی ذہن روشنی کے لمحات میں سفر کرتا ہے۔

 


 

نوع انسانی کی طرز

جب نوع انسانی کا کوئی فرد صحیح طرزوں میں تقاضوں کو استعمال کرتا ہے تو اس کی ہر طرز نوع انسانی کے لیئے اخلاص کا جذبہ ہوتی ہے۔

 

نگاہ

نگاہ کا دیکھنا شعور میں ہو یا غیب میں ہو نگاہ کا دیکھنا انفرادی ہو نگاہ کا دیکھنا اجتماعی ہو،درحقیقت دونوں مرکزوں میں ایک نگاہ کام کر رہی ہے۔

 

ضمیر

ضمیر کی آواز فی الواقع خالق کی آواز ہوتی ہے اور خالق کا بخشا ہوا نتیجہ ہوتی ہے۔جب ضمیر رہنمائی کرتا ہے تو نفس کی تنقید شروع ہو جاتی ہے یہ تنقید انسان کی نیت کو غلط یا صحیح رکھتی ہے۔

 

انفرادیت

انسان جب انفرادی طور پر زندگی گزارنا چاہتا ہے یا زندگی کو انفرادی دائرے میں رہ کر سمجھنا چاہتا ہے تو اس کی سوچ محدود ہوتی ہے اس کے اندر اخلاص نہیں ہوتا۔

 

نوعی سوچ

بندہ انفرادی طور پر آزاد ہو کر نوعی سوچ کو اپنا لیتا ہے تو اس کے اندر اخلاص کا چشمہ ابل پڑتا ہے۔اس کی فہم و فراست انفرادیت سے نکل کر اجتماعی بن جاتی ہے۔

 

زندگی

زندگی کل ذات سے روشنی منتقل ہونے کا نام ہے۔


Bare Bachon Ke Liye

خواجہ شمس الدین عظیمی


روحانیت تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔