Topics
عمل کی پہچان یہ ہے کہ ایک عمل کرنے سے ضمیر خوش ہوتا ہے
اور اس کے اندر سکون و اطمینان کی لہریں موجزن ہوتی ہیں ا ور عمل کی دوسری پہچان
یہ ہے کہ ضمیر ناخوش ہوتا ہے اور انسان یہ عمل کر کے ندامت محسوس کرتا ہے۔
انسان
انسان دراصل ایک درخت ہے۔اور اسکی زندگی کے اعمال و کردار
اس درخت کے پھل ہیں۔
صداقت
صداقت کا فیصلہ ماخذ سے نہیں اس کے نتائج سے مرتب ہوتا ہے۔
جسم وجان
جن لوگوں کے جسمانی تقاضے روحانی کیفیات سے ہم رشتہ ہیں
انکی طرز زندگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ بندہ جسم و جاں کے رشتے سے واقف
ہے۔
ابلیسی طرزفکر
شیطانی تفکر،ابلیسی طرزفکر اور برائی کے تشخص کی سوچ یہ ہے
کہ وہ اپنا عرفان اسطرح رکھتی ہے کہ اس جیسا کوئی نہیں ہے۔کبر و نخوت اسکی گردن کے
پٹھوں کو تشنج میں مبتلا کر دیتی ہے چہرہ پر ملاحت،صباحت،اور معصومیت کی جگہ
بدصورتی اور خشکی اپنا تسلط جما لیتی ہے۔
خود آگہی
خود آگہی ایک لامتناہی راستہ ہے جس راستے پر چل کر کوئی
انسان ایسا درخت بن جاتا ہے جسکے پھل میٹھے اور شیریں ہوتے ہیں ۔
دستاویز
زندگی کی اچھی دستاویز رکھنے والا انسان خدا کیساتھ قریبی
تعلق رکھتا ہے اور خدا کی قربت سے لطف اٹھاتا ہے۔
حیات و موت
حیات کی ابتداء کتنی ہی شاندار کیوں نہ ہو انتہا لازمی طور
پر فنا ہے ہر آن اور ہر لمحہ انسان کو موت کی آنکھ گھورتی رہتی ہے۔
جدوجہد اور کوشش کی حقیقت
زندگی سے مردانہ وار لڑ کر فتح یاب ہونے کی ایک ہی صورت ہے
اور وہ یہ کہ انسان جد و جہد اور کوشش کی حقیقت سے واقف ہو جائے۔
وقت
ہر چیز وقت کے ہاتھوں میں کھلونا بنی ہوئی ہے۔وقت جس طرح کی
چابی دیتا ہے۔ شئے حرکت میں آ جاتی ہے۔وقت اپنا رشتہ توڑ لیتا ہے۔تو کھلونے میں
چابی ختم ہو جاتی ہے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
روحانیت
تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے
لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔