Topics
طرز
فکر آزاد اور انبیاء علیہ السلام کے مطابق ہے تو آدمی کی ساری زندگی جنت ہے طرز
فکر میں ابلیسیت ہے تو زندگی دوزخ ہے۔
تقسیم
میں فرق
وسائل
کی تقسیم میں فرق نظر آتا ہے،مگر زندہ رہنے کے لیئے سب کی ضروریات یکساں ہیں۔
خود
شناسائی
سکون
آشنا زندگی سے ہم آغوش ہونے اور اطمینان قلب کے لیئے طرز فکر یہ ہے کہ آدمی اپنے
آپ سے واقف ہو خود سے وقوف حاصل کرنا حقیقت پسندانہ عمل ہے اور حقیقت سے فرار فکشن
اور مفروضہ ہے۔
مراقبہ
بے
قراری اور اضطراب سے رستگاری حاصل کرنے کے لیئے اسلاف سے ہمیں جو ورثہ ملا ہے،اس
کا نام مراقبہ ہے۔مراقبہ سے ہم اپنے اندر مخفی صفات کو منظر عام پر لا سکتے ہیں۔
شر
اور فساد
شر
اور فساد کا قدرتی نتیجہ اللہ سے دوری ہے اور اللہ سے دوری بندے کو خوف اور ملال
میں مبتلا کر دیتی ہے۔
ذرے
میں خلاء
بادشاہوں
کے بادشاہ،اللہ نے اپنی شان نمایاں کرنے کے لیئے ہر ذرہ کو خلا بنا دیا اور پھر اس
میں خود برجمان ہو گیا۔
ارادہ
آسمانی
صحائف میں بتایا گیا ہے کہ وسائل پر حکمرانی یہ ہے کہ اردہ کے ساتھ وسائل حرکت میں
آ جاتے ہیں۔ارادہ کیا ہے؟ ارادہ روح کی لا متناہی تخلیقی صفات کا مظاہرہ ہے۔
کتاب
کا علم
اپنے
اندر روحانی صلاحیتوں کو متحرک کرنے اور ان سے کام لینے کے لیئے ضروری ہے کہ ہمیں
کتاب کا علم آتا ہو۔
ضمیر
اے
آدم زاد! میری بات پر دھیان دے،میں جو تیرا ضمیر ہوں۔تیرے اندر کی آواز ہوں۔تیرے باطن
کی پکار ہوں،دیکھ میرا گلا نہ گھونٹ میری طرف متوجہ ہو،ورنہ تو اسی طرح مصائب کے
اندھیروں میں بٹھکتا پھرے گا اور اندھوں کی طرح ٹھوکریں کھاتا رہے گا۔
دنیاوی
معاملات
کوئی
آدمی جتنا زیادہ دنیاوی معاملات میں مصروف رہتا ہے۔اس کے لیئے سکون اور اطمینان کم
ہو جاتا ہے۔
آدمی
مٹی ہے
آدمی
مٹی ہے اور مٹی سے ہی نتائج حاصل کرتا ہے۔بوائی اور کٹائی کا یہ عمل متواتر اور
مسلسل جاری ہے۔
دولت
پرستی
جن
قوموں میں دولت پرستی عام ہو گئ،وہ قومیں صفحہ ہستی سے مٹا دی گئیں۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
روحانیت
تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے
لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔