Topics

صحیح فہم

 

خدا جس شخص کو خیر سے نوازتا ہے اسے اپنے دین کا صحیح فہم اور گہری سوجھ بوجھ عطا فرماتا ہے۔

 

حکمت

دین کا صحیح ادراک اور دین کے اندر مخفی و ظاہر حکمت تمام بھلائیوں، دانائیوں اور کامرانیوں کا سرچشمہ ہے۔ اس سعادت سے محروم بندہ کی زندگی میں توازن اور یکسانیت کا فقدان ہوتا ہے۔ ایسا بندہ زندگی کے ہر میدان میں اور زندگی کے ہر عمل میں عدم توازن کا شکار ہوتا ہے۔

 

ناگوار

خدا کو یہ بات انتہائی درجہ ناگوار ہے کہ دوسروں کو نصیحت کرنے والے خود بے عمل رہیں۔ اور لوگوں کو اس عمل کی دعوت دیں جو خود نہ کرتے ہوں۔

 

گفتگو

گفتگو کرنے سے پہلے اگر اس بارے میں سبقت کی جائے کہ مخاطب کے سامنے ایسے الفاظ دہرائے جائیں کہ جن لفظوں سے اسے خوشی ہو اور ان کے ذہن کے اندر بند سلامتی کے دروازے کھل جائیں تو اس شخص کے اوپر ایک پر سکون کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور وہ بات چیت کے وقت نرم خو اور خوش دل ہو جاتا ہے۔

 

نیکی اور بدی

 اگر اچھائی اور برائی کا تصور نہ ہوتا تو  نیکی اور بدی  کے اختیارات ناقابل تذکرہ ہو جاتے ہیں۔

 

تخلیق

تخلیق کے پروگرام سے اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ اسے جانا اور پہچانا جائے۔

 

آدم

آدم بشمول کائنات اللہ کاذہن ہے انسان کو خلافت الٰہی کا خصوصی علم عطا کیا گیا ہے۔

 

شک

شک اور وسوسہ کی زندگی سے آدمی کے اوپر غم، خوف اور پریشانی مسلط ہو جاتی ہے۔

 

وسوسے

انبیاء علیہم السلام کے بتائے ہوئے قاعدوں اور ضابطوں پر اگر عمل کیا جائے تو شک اور وسوسے ختم ہو جاتے ہیں۔

 

نشیب و فراز

کہ آدمی جس راستے پر چلتا ہے اس کے نشیب و فراز اس کے سامنے آ جاتے ہیں۔ آدمی جس ہستی کے جتنا قریب ہوتا ہے اسی مناسبت سے اس ہستی کی طرز فکر منتقل ہو جاتی ہے۔

 

منزل

جب آدمی کسی ایک جگہ کھڑا ہو جاتا ہے تو منزل ختم ہو جاتی ہے۔

 

صلاحیتیں

جو بھی اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق اللہ کی نشانیوں میں تفکر کرتا ہے، غور کرتا ہے گہرائی میں ڈوب کر وسائل کے اند رصلاحیتوں کا کھوج لگاتا ہے اس کے اوپر وسائل کی صلاحیتیں کھل جاتی ہیں۔


Bare Bachon Ke Liye

خواجہ شمس الدین عظیمی


روحانیت تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔