Topics

سوچ

 

ہم جب کچھ سوچتے ہیں تو اس میں ہماری دلچسپی کم ہو تی ہےیا زیادہ ہوتی ہے یا یہ سوچ ہوا کی طرح گزر جاتی ہے اگر سوچ میں ٹھراؤ پیدا ہو جائے اور نقوش گہرے ہو جائیں تو اس کا مطاہرہ ہونا ضروری ہے۔

 

تصوف

تصوف درویشی اور فقیری کا نام ہے اور صوفی وہ ہے جو تصوف کے طریق کو اپنا کر اپنی ذات سے فانی ہو کر اللہ کی ذات سے بقا حاصل کرلے۔

 

خواہشات

آدمی خواہشات کا غلا م ہے ایک خواہش پوری  نہیں ہوتی دوسری خواہش سامنے آجاتی ہے ، دوسری خواہش پوری نہیں ہوتی تیسری ، چوتھی پانچویں خواہش سامے آجاتی ہے اور خواہشات کا یہ تسلسل اتنا زیادہ ہو جاتا ہے کہ آدمی کی اپنی حیثیت خواہشات کے پردوں میں چھپ جاتی ہے ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ انسان کی ہر خواہش پوری ہو جائے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انسان کا ہر ارادہ پورا ہو جائے۔

 

عادت

انسان کی ہر خواہش پوری نہیں ہوتی اور انسان کا ہر ارادہ تکمیل پذیر نہیں ہوتا انسان کی یہ عادت ہے کہ وہ خواہشات کے ہجوم میں گرفتار رہتا ہے۔


 

احساس

احساس محرومی بیماری کا ایک ایسا  درخت ہے جس کے تنے سے نکلنے والی ہر شاخ اور شاخ میں سے نکلنے والا ہر پتہ احساسِ محرومی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

 

قدرت

قدرت رحیم و کریم ہے اور رحیم و کریم کے ساتھ فیاض بھی ہے۔ قدرت کائنات میں پھیلی ہوئی مخلوق کو ہمیشہ سکھ چین کی زندگی گزارنے کی ترغیب دیتی ہے۔

 

تصوف

تصوف ایک حال ہے جو روحانی ادراک سے پیدا ہوتا ہے اور اس ادراک کا محرک عشق الٰہی ہے، عشق الٰہی کی تجلیات جب روح سے متصل ہوتی ہیں تو یہ ادراک جسم مثالی میں داخل ہوتا ہے۔

 

شریعت

شریعت و طریقت میں کوئی اختلاف نہیں ہے دونوں قوانین الٰہیہ کے ذریعے نافذالعمل ہیں باطنی حواس سے ان قوانین کو سمجھا جا سکتا ہے۔

 

نفس

نفس کو ضرورت سے زیادہ دنیاوی آرام اور راحت مل جائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں کرتا،

 

توحید

اللہ تعالیٰ رب العالمین نسلِ انسانی کی بقا چاہتے ہیں اور نسلِ انسانی  کی بقا کا انحصار"توحید" پر اجتماع ہے۔


Bare Bachon Ke Liye

خواجہ شمس الدین عظیمی


روحانیت تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔