Topics
زرو جواہر سے زیادہ کوئی شئے بے وفا نہیں ہے۔ جو زرو جواہر
سے محبت کرتا ہے۔ ہلاک ہو جاتا ہے اور جس نے دولت سے بے وفائی کی ، دولت ہمیشہ اس
کی کنیز بنی رہتی ہے۔
جنت
جنت اس کی میراث ہے جو خوش رہتا ہے۔ ناخوش آدمی جنت میں
داخل نہیں ہو سکتا۔
اللہ
کے دشمن
اللہ
کے دشمن کو جنت قبول نہیں کرتی۔ اللہ کے دشمن کی پہچان یہ ہے کہ اس کے اوپر خوف و
غم مسلط رہتا ہے۔ وسوسے اس کے اوپر گدھ کی طرح منڈلاتے رہتے ہیں۔
گیارہ
ہزار ڈگریاں
ہزارانسان
کے اندرکم وبیش گیارہ ہزار صلاحیتیں کام کرتی ہیں اور ہر صلاحیت ایک علم ہے اس کا
مطلب یہ ہوا کہ انسان کے اندر گیارہ ہزار علوم کا ذخیرہے۔ ہر انسان ان علوم کی
تکمیل کر کے گیارہ ہزارعلوم ڈگریاں لے سکتا ہے۔
پہلی
آواز
انسان
نے پہلی آواز اللہ کی سنی اور پہلی ہی مرتبہ اللہ سے بات کی۔اس کے بعد وہ پانچ
حواس سے واقف ہوا۔
فریب
دنیا
فریب ہے۔۔۔۔۔۔فریب خوردہ انسان کی ہر بات فریب ہے۔۔۔۔۔۔جو لوگ یہ بات جان لیتے ہیں
ان کے لئےمصیبت بھری یہ دنیا سکون کا گہوارہ بن جاتی ہے۔
حرماں
نصیبی
یہ
کیسی عجیب بات ہے اور حرماں نصیبی ہے کہ ہر مذہب کے پیروکار اللہ تعالیٰ، رسول،
عذاب، ثواب اور جنت دوزخ کا تذکرہ
تو کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے راستے پر متحد اور متفق نہیں ہوتے۔
کانٹے
دنیا
کانٹوں سے بھرا راستہ ہے اور پھولوں کی سیج ہے۔ ہر شخص کا اپنا انتخاب ہے۔ کوئی کانٹوں بھری زندگی کو گلے سے لگا لیتا اور کوئی خوشیوں بھری زندگی سے لطف اندوز ہوتاہے۔
پر سکون
پرسکون
اور پر مسرت زندگی گزارنے کا فارمولا یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔جو چیز حاصل ہے اسے خوش ہو کر
استعمال کیا جائے اور جو چیز حاصل نہیں ہے اس کے حصول کیلئے دعا کے ساتھ تدبیر کی
جائے۔
کفالت
چھوٹے بچوں کی کفالت ماں باپ کرتے ہیں ۔ آدمی اگر اللہ کے
سامنے بچہ بنا رہے تو اللہ اس بندے کی خود کفالت کرتاہے ۔ جب آدمی خود کو بڑا
سمجھنے لگاہے تو کفالت کے لئے اسے بھاگ دوڑ کرنا پڑتی ہے۔
پرندے
پرندوں کی تعدا د اربوں کھربوں سے زیادہ ہے ۔ کسان کرم
خوردہ اناج بھی جھاڑو سے سکیر لیتا ہے۔ اور اپنی دانست میں ایک دانہ بھی زمین پر
نہیں چھوڑتا ۔ اللہ سب کا رازق ہے۔ قانوں یہ ہے کہ جب پرندے بھوک کا تقاضہ رفع
کرنے کےلئے زمین پر اترتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ان کے پنجے زمین پر لگیں ۔ قدرت زمین
پر دانہ پیدا کر دیتی ہے۔
روحانیت کا اصول
روحانیت کا ایک اصول ہے ۔ اگر روحانیت کا کوئی راز آپ کو
معلوم ہو جائے تو اس راز کو جتنا زیادہ آپ دہرائیں گے اسی مناسبت سے آپ کی روحانی
صلاحیت میں اضافہ ہوتا رہے گا۔
روح کی غذا
روح کی غذا اللہ کی محبت ہے ۔ جب تک روح کو غذا میسر نہیں
آتی ۔آدم زاد سب کچھ ہوتے ہوئے بھی بے چین رہتا ہے۔
اللہ کی امانت
اللہ
کی امانت قبول کرکے اس کی حفاظت نہ کرنی اور اس سے فائدہ نہ اٹھانا کفرانِ نعمت
ہے۔ کفران نعمت ناشکری ہے ۔جو بندہ شکر گذار نہیں ہوتا سکون اس سے روٹھ جاتا ہے۔
مصائب و آلام اس کا گھیراؤ کر لیتے ہیں اور آدمی قیدو بند کی زندگی میں ایڑیاں رگڑ
رگڑ کر مر جاتاہے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
روحانیت
تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے
لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔