Topics

روح کا لباس

                

موت و حیات کے مرحلوں سے گزرنے کے لیے روح مادی جسم بناتی ہے اس کی حفاظت کرتی ہے اور اسے استعمال کرتی ہے اور جب روح اس لباس کو اتار دیتی ہے تو انسان پر ایسی موت وارد ہو جاتی ہے کہ انسان اس زمین پر نظر نہیں آتا۔

 

انا

شعوری خواہشات ہمیشہ حقیقی خواہشات نہیں ہوتیں اگر انا کسی خواہش کو قبول کر لے تو اس کا پورا ہونا لازم ہے یہ ناممکن ہے کہ وہ پوری نہ ہو۔

 

غلطی

غلطی یا لغرش ہمیشہ محدودیت میں سرزد ہوتی ہے لامتناہیت میں سرزد نہیں ہوتی۔

 

محرومی یا ناکامی کا افسوس

کسی محرومی یا ناکامی کا افسوس لاحاصل اور خلاف عقل ہے محروم تمناوں ناکام خواہشات اور اس قسم کے تصورات سے اس طرح گزر جانا چاہئے کہ طبعیت اسکا اثر قبول نہ کرے۔

 

کامل استغنا

جو نور پوری کائنات میں پھیلتا ہے اس میں ہر قسم کی اطلاعات ہوتی ہیں جو کائنات کے ذرے ذرے کو ملتی ہیں ان کو صحیح حالت میں وصول کرنے کا طریقہ صرف ایک ہے۔ انسان ہر طرز میں ہر معاملہ میں،ہر حالت میں کامل استغناء رکھتا ہو۔ انسان کی ذاتی مصلحتیں اپنے لیئے نور کی شعاعوں کو محدود کر لیتی ہیں۔

 

یقین کی قوت

بہتر اور کامیاب زندگی اسطرح حاصل ہو سکتی ہے کہ یقین کی قوت سے کام لیا جائے یہ یہ قوت ہی منزل تک پہنچا سکتی ہے۔

 

بصارت

بصارت چشم سے زیادہ بصیرت قلب پر فکری اور عملی توجہ مرتکز رہنی چاہیے۔

 

اسماء الہیہ کے خواص

کوتاہیوں اور خطاوں کے مرض میں جو پرہیز ضروری ہے وہ یہ ہے حلال روزی کا حصول،جھوٹ سے نفرت،سچ سے محبت،اللہ کی مخلوق سے ہمدردی،ظاہر اور باطن میں یکسانیت،منافقت سے دل بیزاری،سخت دل اللہ کی مخلوق کو کمتر جاننے والا اور خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے والا بندہ اسمائے الہیہ کے خواص سے فائدہ حاصل نہیں کر سکتا۔

 

فطرت کی راہنمائی

جب ہم وجدان میں قدم بڑھا دیتے ہیں تو فطرت ہماری رہنمائی کرتی ہے اور عقل اس کی پیروی کرتی ہے۔

 

صحیفہ کائنات کے ذرے ذرے کا مطالعہ

تاریکیوں سے نکلنے ،حزن و ملال کی زندگی سے آزاد ہونے،اقوام عالم میں مقتدر ہونے ،دل و دماغ کو انوار الٰہیہ کا نشیمن بنانے اور نظام ربوبیت و خالقیت کو سمجھنے کے لئے صحیفۂ کائنات کے ذرے ذرے کا مطالعہ کرو۔


Bare Bachon Ke Liye

خواجہ شمس الدین عظیمی


روحانیت تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔