Topics

خواجہ شمس الدین عظیمی


حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی کی ذات کسی تعارف کی محتاج نہیں آپ سلسلہ عظیمیہ کے موجودہ خانوادہ ہیں۔الشیخ عظیمی سلسلہ عظیمیہ کے علاوہ  صوفی بزرگ ،ماہر روحانیت ، دانش ورمفکر، اور مصنف کے طور سے جانے جاتے ہیں۔ الشیخ عظیمی تصوف ،روحانیات، نفسیات،مابعدالنفسیات ،اور علوم اسلامیہ پر 42 کتب اور 86 کتابچوں کے مصنف ہیں۔جن میں سے بیشتر دنیا کے اعلی تعلیمی اداروں (تین کتب  سالفورڈیونیورسٹی ،مانچسٹر برطانیہ۔ احسان و تصوف بہاء الدین زکریا یونیورسٹی، ملتان میں ایم اے اسلامیات )کے نصاب میں شامل ہیں۔روحانیت کے موضوع پر آپ کو پاکستان اور بیرون ملک (گلاسگو یونیورسٹی ،آرتھر فنلے کالج،کراچی یونیورسٹی، فیصل آباد زرعی یونیورسٹی، پنجاب یونیورسٹی، لاہور بار کونسل، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور،نشتر میڈیکل کالج ملتان ،اسلامک سنٹر یونیورسٹی) کے تعلیمی اداروں میں مدعو کیا جاتا ہے۔جہاں موضوع کی انفرادیت کے باوجود آپ کی گفتگو سادہ اور دل نشین ہونے کی وجہ سے عام آدمی کی فکر کو موضوع کے بارے میں تفہیم کا سبب بنتی ہے ۔الشیخ عظیمی 1962 سےملکی سطح پر ٹیلی پیتھی، پیراسائیکلوجی، کلر تھراپی پر کالم لکھ رہے ہیں۔ جنگ میں ان کا کالم روحانی ڈاک کے عنوان سے شائع ہوتا رہا ہے۔

الشیخ عظیمی نے حضور قلندر بابا اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے مشن کو چلانے کے لیے کراچی  مراقبہ ہال کی بنیاد رکھی اور خود بھی وہاں قیام کیا، جہاں سے  خلق خدا کو روحانی آسودگی ملتی ہے۔ پاکستان میں 72 مراقبہ ہال  اور اس کے علاوہ دنیا بھر میں قائم مراقبہ ہال (یورپ میں 26 ،امریکہ میں 4 ،متحدہ عرب امارات میں2، روس میں 1،  ہالینڈ میں 1، ناروے میں  1،ڈنمارک میں 1، بحرین میں 1،تھائی لینڈ میں 1،)ک مخلوق ہے عالم کو رشد روحانی عطا کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔پاکستان میں 85 ملک بھر میں 90 لائبریریاں قائم کی جا چکی ہیں ۔آپ 1987 سے جاری ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ کے مدیر اعلیٰ بھی ہیں جو دنیا بھر میں علم و فکر کی ترویج میں فروغ عمل ہے ۔ان کتابوں کا انگریزی، تھائی،روسی،عربی،فارسی، پشتو، ہندی،چائنیز ،اسپینش، پنجابی اور سندھی میں ترجمہ کیا گیا ہے۔

 خواجہ شمس الدین عظیمی 17اکتوبر 1927ءکو قصبہ پیرزادگان ضلع سہارنپور یوپی  بھارت میں پیدا ہوئے ۔والد کا نام حاجی احمد انصاری والدہ کا نام امت الرحمٰن تھا۔ معروف مذہبی سکالر مولانا خلیل احمد مہاجر مدنی آپ کے دادا ہیں۔

 آپ کے بزرگ صوبہ ہرات سے ہجرت کرکےافغانستان آئے تھے۔ آپ کا سلسلہ نسب جید صحابی میزبان رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے ملتا ہے۔

قیام پاکستان کے بعد حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب جب 1950 میں کراچی پہنچے تو آپ کے معاشی حالات کمزور تھے۔ آپ کے بڑے بھائی صاحب نے ماہنامہ آفتاب نبوت کی رقم کے لیے پاکستان میں آپ کا پتہ دے دیا تھا۔اللہ تعالی کے کرم سے جب بھی پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے رسالہ کی رقم منی آرڈر کے ذریعے آجاتی تھی۔ ایک مرتبہ رسالہ کی  رقم منی آرڈر کے بجائے ڈرافٹ کی صورت میں آئی اس وقت بینکنگ وغیرہ کا تجربہ نہ تھا۔ آپ کے دوست ڈاکٹر رشید صاحب ڈان اخبار میں سرکولیشن مینیجر تھے۔آپ نے ڈرا فٹ  کا ذکر کیا  تو انہوں نےکہا ڈرافٹ مجھے دے دیں  ۔میں اکاؤنٹ میں ڈال دوں گا۔ آپ نےڈرافٹ ان کو دے دیا جو ڈاکٹر رشید صاحب تین چار دن نہیں آئے تو آپ ان سے ملنے ڈان اخبار چلے گئے ۔رشید صاحب سیٹ پر موجود نہ تھے ایک صاحب نے شیریں مگرمردانہ بھاری آواز میں کہا کہ آیئےتشریف رکھیے کیا کام ہے۔ خواجہ صاحب نے سوال کیا کہ ڈاکٹررشید صاحب کہاں ہیں۔ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور وہ تین چار دن سے دفتر نہیں آ رہے۔انہوں نےخواجہ صاحب کے لئے چائے منگوائی اور پھر گفتگو کا سلسلہ چل نکلا انہوں نے خواجہ صاحب کی عمر اور جذبات کی مناسبت سے دو شعر سنائے۔خواجہ صاحب نے سلام کیا اور رخصت چاہی تو انہوں نے کہا کہ آپ تو کھاتے جائیں۔ خواجہ صاحب  نےزندگی میں پہلی مرتبہ پرسکون چہرہ دیکھا تھا خواجہ صاحب کو یقین نہیں آرہا تھا کہ اس زمانے میں بھی کسی بندے کو اتنا سکون میسر آ سکتا ہے۔ جب آپ نے ڈاکٹر رشید صاحب سے ان کا صاحب کا تذکرہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ اچھا بھائی عظیم سے ملے ہوں گے۔ یہاں سب ایڈیٹر ہیں۔ بہت اچھے اورشفیق انسان ہیں۔ خواجہ صاحب کی سید محمد عظیم رحمۃ اللہ علیہ سے پہلی ملاقات تھی ۔

حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب سید محمد عظیم رحمتہ اللہ علیہ کے مجموعی فکر کے ہی نہیں بلکہ عمل کےبھی وارث ہیں۔ عظیمی صاحب نے زندگی کے ہر شعبے میں عملی طور پر اس امر کا اظہار فرمایا ہے کہ کس طرح معاشرتی اور روحانی زندگی کی طرزوں میں توازن قائم رکھا جا سکتا ہے۔عظیمی صاحب کی طبیعت میں فقر و سادگی ہے ۔عظیمی صاحب نے اپنے طرز عمل سے اس  اصول کا مظاہرہ کیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ اس کی  عطا کردہ نعمتوں سے مخلوق کی خدمت کی جائے۔


 

سلسلہ عظیمیہ کے اغراض و مقاصد

 

لازوال ہستی اپنی قدرت کا فیضان جاری و ساری رکھنے کیلئے ایسے بندے تخلیق کرتی رہتی ہے جو دنیا کی بے ثباتی کا درس دیتے ہیں۔ خالق حقیقی سے تعلق قائم کرنا اور آدم زاد کو اس سے متعارف کرانا ان کامشن ہوتا ہے۔ 

سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وارث ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاءؒ کی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ ...........

انسان کو محض روٹی کپڑے کے حصول اور آسائش و زیبائش ہی کیلئے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کی زندگی کا اولین مقصد یہ ہے کہ وہ خود کو پہچانے، اپنے اس رحمت اللعالمین محسن صلی اللہ علیہ وسلم کا قلبی اور باطنی تعارف حاصل کرے جن کے جو دو کرم اور رحمت سے ہم ایک خوش نصیب قوم ہیں اور جن کی تعلیمات سے انحراف کے نتیجے میں ہم دنیا کی بدنصیب اور بد ترین قوم بن چکے ہیں۔ سلسلۂ عظیمیہ کے اغراض و مقاصد حسب ذیل ہیں۔

۱۔ صراطِ مستقیم پر گامزن ہو کر دین کی خدمت کرنا۔

۲۔ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی تعلیمات پر صدقِ دل سے عمل کرکے آپ ؐ کے روحانی مشن کو فروغ دینا۔

۳۔ مخلوقِ خدا کی خدمت کرنا۔

۴۔ علم دین کے ساتھ ساتھ لوگوں کو روحانی اور سائنسی علوم حاصل کرنے کی ترغیب دینا۔

۵۔ لوگوں کے اندر ایسی طرزِ فکر پیدا کرنا جس کے ذریعے وہ روح اور اپنے اندر روحانی صلاحیتوں سے باخبر ہوجائیں ۔

۶۔ تمام نوعِ انسانی کو اپنی برادری سمجھنا۔ بلا تفریق مذہب و ملت ہرشخص کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنااور حتی المقدور ان کے ساتھ ہمدردی کرنا۔

Topics


Huzoor Qalander Baba Aulia R.A (Hayat, Halat, Taleemat..)

Yasir Zeeshan Azeemi

میں نے اس عظیم بندے کے چودہ سال کے شب و روز دیکھے ہیں۔ ذہنی، جسمانی اور روحانی معمولات میرے سامنے ہیں۔ میں نے اس عظیم بندہ کے دل میں رسول اللہ کو دیکھا ہے۔ میں نے اس عظیم بندہ کے من مندر میں اللہ کو دیکھا ہے۔ میں نے اس عظیم بندہ کے نقطۂ وحدانی میں کائنات اور کائنات کے اندر اربوں کھربوں سنکھوں مخلوق کو ڈوریوں میں باندھے ہوئے دیکھا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ کائنات کی حرکت اس عظیم بندہ کی ذہنی حرکت پر قائم ہے۔ اس لئے کہ یہ اللہ کا خلیفہ ہے۔ میں نے اس بندہ کی زبان سے اللہ کو بولتے سنا ہے۔

گفتہ اور گفتہ اللہ بود

گرچہ از حلقوم عبداللہ بود

عظیم بندہ جسے آسمانی دنیا میں فرشتے قلندر بابا اولیاءؒ کے نام سے پکارتے ہیں، نے مجھے خود آگاہی دی ہے۔ ڈر اور خوف کی جگہ میرے دل میں اللہ کی محبت انڈیل دی ہے۔ قلندر بابا اولیاءؒ نے میری تربیت اس بنیاد پر کی ہے کہ یہاں دو طرز فکر کام کر رہی ہیں۔ایک شیطانی طرز فکر ہے جس میں شک، وسوسہ، حسد، لالچ، نفرت، تعصب اور تفرقہ ہے۔