Topics
جس
طرح ہر آدمی متعین فارمولے سے کوئی چیز بنالیتا ہے اسی طرح صحیفۂ ہدایت میں غور
وفکر کرکے اپنے لئے ایک منزل متعین کرلیتا ہے۔
بردباری
بردباری،
تحمل اور حکمت کی روش یہ ہے کہ آدمی درگزر سے کام لے۔
مٹی
شہباز
کی قوت پرواز بھی مٹی کی ممنون کرم ہے کیوں کہ اس کے جسمانی اعضا ء اسی مٹی (کل
رنگ و رو شنی )کی مختلف تر کیبوں سے وجود میں آئے ہیں ۔
روح
روح کا نام نہیں رکھا جا سکتا روشنی ہر جگہ روشنی ہے۔
لو
ح محفوظ
انسانی
زندگی کے تمام دوربشمول ماضی اور مستقبل لو ح محفوظ پر نقش ہیں کا ئنات کا ہر ذرہ
اس نقش کی تفصیلی تصویر ہے ۔
سر تا پا شر
آدم
کی اولاد کو جب تک اللہ کی صفا ت کا علم منتقل نہیں ہو تا وہ سر تا پا شر اور فساد
ہے اور تخلیق کا علم منتقل ہو نے کے بعد سرا پا خیر ہے ۔
خیال
۔
جب ذہن میں کوئی خیال آتا ہے تو اس کا کوئی کائناتی سبب ضرور موجود ہوتا ہے اس کا
سمجھنا خود انسانی ذہن کی تلاش پر ہے۔
غیب
غیب
سے مراد وہ حقائق ہیں جو اللہ کی معرفت سے تعلق رکھتے ہیں۔
یقین
۔
ایمان سے مراد یقین ہے، یقین وہ حققیت ہے جو تلاش میں
سر گردان رہتی ہے۔
متقی
۔متقی
سے مراد وہ انسان ہے جو سمجھنے میں بڑی اختیاط سے کام لیتا ہے ،ساتھ ہی بد گمانی
کو راہ نہیں دیتا ،وہ اللہ کے معاملے میں اتنا محتاط ہو تا ہے کہ کائنات کا کو ئی
روپ اسے دھو کا نہیں دے سکتا ۔وہ اللہ کو بالکل الگ سے پہچانتا ہے اور اللہ کے
کاموں کو بالکل الگ سے جانتا ہے ۔
عالم برزخ
عالم
برزخ لوح محفوظ کا ایک عکس ہے ۔لوح محفوظ کتاب المبین کا ایک ورق ہے ۔کتاب المبین
عالم ارواح ہے اور عالم ارواح وہ عالم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب ’’کن ‘‘کہا تھا تو
اس کا ظہور ہو گیا تھا۔
خود شناسی
جب
کوئی شخص خود شنا سی میں مکمل ہو جا تا ہے تو اس کے اوپر زندگی کی نئی راہ نئی طر
ز اور نیا اسلوب منکشف ہو تا ہے ۔ایسے شخص کو قلندر شعور کا حامل آزادمرد کہا جا
تا ہے ۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
روحانیت
تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے
لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔