Topics
کوئی
آدمی جب تفکر کو اپنا شعار بنا لیتا ہے تو اسکے اندر تجلی کا علم متحرک ہو جاتا
ہے۔
خود
آگاہی
خودآگاہی
کے لیئے خالق کائنات نے پہلے سماعت پھر بصارت اور پھر قوت گویائی عطا فرمائی ہے۔
نائب
انسان
کائنات میں واحد فرد ہے جو بحیثیت نائب کے انتظامی امور کو اپنے اختیارات سے چلاتا
ہے۔
علمِ
شے
تخلیق
دراصل علمِ شے ہے جب تک کسی شئے کا علم نہیں ہوتا شے وجود میں نہیں آتی۔
کثیف
خیالات
خیالات
اگر پراگندہ ہیں۔خیالات میں کثافت اور بیزاری ہے تو خون میں برے اثرات مرتب ہوتے
ہیں۔
ارادے
میں تخریب کا عنصر
انسانی
ارادے میں تخریب شامل ہو جائے تو اس کی قوتیں خیر کے برعکس کام کرنے لگتی ہیں۔
نفس
کی پہچان
اگر
کسی انسان میں نفس کو پہچاننے کی صلاحیت ختم ہو جائے تو وہ اللہ سے متعارف نہیں
ہوتا۔
شعوری
و لاشعوری زندگی
شعوری
زندگی میں رہتے ہوئے لاشعوری زندگی میں زیادہ حصہ گزارنے سے روحانی بیداری میسر آ
جاتی ہے۔
روحانی
ورثہ
آخری
الہامی کتاب قران انسان کے لیے ایک طرف روحانی ورثہ ہے اور دوسری طرف ماورائی علوم
کی ایسی دستاویز ہے جس میں چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی ہر بات کو وضاحت کے ساتھ
بیان کر دیا گیا ہے۔
غیب
کی دُنیا کا تعارف
غیب
کی دنیا سے متعارف ہونے کے لیے غیب کی دنیا پر یقین رکھنا ضروری ہے۔
ذات
کی اصل کیا ہے
ذات
کی اصل خالق کائنات کی صفات ہیں جن کے ذریعے کائنات میں موجود تمام افراد کے حواس
ایک رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔
صفتِ
ملکوتیت
انسان
کے اندر صفت ملکوتیت کام کرتی ہے جو فی الواقع اس کی اپنی اصل ہے۔
پاکیزہ
خیالات
جس
شخص کے اندر پاکیزہ خیالات،پاکیزہ اوصاف موجود ہوتے ہیں اس کی ذات میں جلا پیدا ہو
جاتی ہے۔
مظاہراتی
خدوخال
کسی
چیز کو جاننے پہچاننے کا ذریعہ مظاہراتی خدوخال کے پیچھے اسکا ہیولیٰ ہوتا ہے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
روحانیت
تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے
لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔