Topics

انکشاف

 

میرے اندر کے آدمی نے مجھے بتایا کہ اندھیرا ابھی روشنی ہے اور جو بندہ تاریکی سے باخبر ہو جاتا ہے اس کے اوپر ایک نئی دنیا کا انکشاف ہوتاہے۔

 

کیفیت

 کیفیت ہی تو ہے جو انسان کو درخت کو چرند کو پرندے کو ایک دوسرے سے الگ الگ ہونے کی اطلاع فراہم کرتی ہے۔

 

واقف

جو خود سے واقف نہ ہو ایسے خود فراموش آدمی کو زمین و آسمان سب بھول جاتے ہیں۔

 

ادب

کسی انسان کا ادب یا کسی انسان سے محبت اس کے کردار کی وجہ سے ہوتی ہے۔

 

زندگی

زندگی کا مقصد وہ چیز ہے جو انسان کے ساتھ ہمہ وقت رہے۔ مادی دنیا نے کبھی کسی کا ساتھ نہیں دیا اس لئے مادی دنیا کو بھرپور استعمال تو کرنا  چاہئے لیکن اس کو زندگی کا مقصد قرار نہیں دینا چاہئے۔

 

فنا بقا

گوشت پوست کے جسم کی اپنی ذاتی کوئی حیثیت نہیں ہے ، دکھاوے اور آرزو کے علاوہ اس کا کوئی نام رکھیں بھی تو فہم و بصیرت کے خلاف ہے پوری زندگی فنا کے اوپر بقا ہےاور بقاکے اوپر بحرحال فنا ہے، کسی فنائیت کوحقیقت کا نام دینا قریںِ  عقل و قیاس نہیں ہے۔

مظاہر

مظاہر اپنے وجود کے لئے یقین کے پابند ہیں کیونکہ کوئی خیال یقین کی روشنیاں حاصل کر کے ہی مظہر بنتا ہے۔

 

انفرادی حدود

انفرادی حدود میں دولت پرستی کی بیماری آدمی کی انا اور اس کی ذات سے گھن بن کر چپک جاتی ہے۔ اس کی انسانی صفات کو چاٹتی رہتی ہے اور خالق کی عطا کی ہوئی صلاحیتوں کو زنگ آلود کر دیتی ہے۔

 

توفیق

اللہ کی دی ہوئی توفیق سے  جب آدمی ظاہری عمل کے ساتھ ساتھ باطنی طور پر اللہ کی حکمتوں کو تلاش کرتا ہے تو اس کا رشتہ روح سے قائم ہو جاتا ہے۔

 

خلوص

مجبت اور خلوص کے جواب میں ہمیشہ محبت اور خلوص ملتا ہے لیکن شرط  یہ ہے کہ جس سے محبت کی جائے، اس کے سا تھ مخلص ہو غرض کے سا تھ محبت میں  خلوص نہیں ہو تا۔

 

پانی کی فطرت

معاشرے میں وہی فرد ممتاز ہوتا ہے جو پانی کی فطرت کے مطابق زندگی گزارتا ہے اور جو  پانی کی فطرت )تین حصےزندگی( انحراف کرتا ہے اس پر جمود طاری ہوجاتا ہے جہاں جمود  طاری ہوتا ہے وہاں تعفن پیدا ہوجاتا ہےاور یہ تعفن ہی  پریشانی، بے چینی اور بیماری ہے۔

 


Bare Bachon Ke Liye

خواجہ شمس الدین عظیمی


روحانیت تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔