Topics

استغراق

 

جب کسی شخص کو عبادات میں استغراق حاصل ہو جاتا ہے اسے عبادات کے بھر پور ثمرات نصیب ہو جاتے ہیں۔

 

دین کی تعلیمات

دین کی تعلیمات کا مدار اللہ کی ذات ہے اور دین کا مدعا یہ ہے کہ آدمی کا قلبی  رشتہ  اللہ  کی ذات اقد س سے قائم  ہو جائےاور  یہ رشتہ اتنا مستحکم ہو جائے کہ قلب اللہ کی تجلی کا دیدار کر لے۔

 

قرآن کامسلک

انسان خواہش کرنے کا حق ضرور رکھتا ہے لیکن دوسروں پر اپنی خواہش مسلط کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ یہی قرآن کا مسلک ہے۔

 

ماحول

بلاشبہ ہر کام کے لئے ماحول کا ساز گار ہونا ضرور کیا ہے۔

 

صبر شکر

صبر شکر یقین، توکل اور استغناء وہ خصوصیات ہیں جو ذہن  کو شک اوروسوسوں سے آزاد کر کے اعلی مقامات تک پہنچاتی ہیں۔ اخلاق اور تواضع کی خصوصیات اپنانے سے ز ہن اسفل کیفیات سے دور ہو جاتا ہے۔ اگر آدمی انتشار میں مبتلا ہو تو وہ ہر جگہ پریشان رہتا ہے۔

 

بے معنی گفتگو

بے معنی گفتگو سے پر ہیز علم میں اضافہ کرتا ہے۔

 

تجلی

 تجلی ایک نقش ہے جو اپنے اندر مکمل معنویت کے ساتھ ساتھ خدوخال اور حرکت رکھتی ہے تمام اسماء یا صفات کی تجلیاں انسان کی روح کے اندر نقش ہیں۔

 

اللہ کی صفات

کائنات میں کام کرنے والی صفات اللہ کی صفات ہیں۔ فرق یہ ہے کہ صفات اللہ کی ذات میں کل کی حیثیت میں موجود ہیں اور مخلوق کو ان کا جزو عطا ہوا ہے۔

 

ایک ہستی

پوری کائنات اس حقیقت پر قائم ہے کہ وہ ایک ہستی کی ملکیت ہے یعنی تمام موجودات کا مالک ایک ہی ہے۔ اگر کائنات ایک ہستی کی ملکیت نہ ہوتی تو ایک دوسرے سے ربط ممکن نہ ہوتا۔

 

لفظ اللہ

لفظ اللہ میں ایسی تجلی مستور ہے جو حاکمیت اور خالقیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس تجلی کی معرفت آدمیعالمین کا مشاہدہ کرلیتا ہے کیونکہ خالقیت اور مالکیت تمام مخلوقات پر محیط ہے۔

 

محبوبیت کارشتہ

ہر بندہ  کا اللہ کے ساتھ محبوبیت کارشتہ ہے ایسی محبوبیت  کا رشتہ جس میں بندہ اپنے رب کے ساتھ راز و نیاز کرتا ہے۔

 

حقیقی مسرت

حقیقی مسرت سے واقف ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی اصل کو تلاش کریں۔


Bare Bachon Ke Liye

خواجہ شمس الدین عظیمی


روحانیت تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔