Topics
سوال:
علم استدراج اور علم نوری سے کیا مراد ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے قصے میں
قرآن میں بتایا گیا؟
جواب:
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔’’اے موسیٰ! ڈر مت اپنے عصا کو پھینک دے۔‘‘ حضرت
موسیٰ علیہ السّلام کا عصاء یا لاٹھی ایک بڑا اژدھا بن گیا اور اس نے میدان میں
موجود تمام سانپوں اور اژدھوں کو نگل لیا۔ اور اس طرح علم استدراج یا جادو کے علوم
پر علمِ حُضوری کو فتح حاصل ہوئی۔ لیکن یہ بات محل نظر ہے کہ جادوگروں نے رسی
پھینکی تو سانپ بن گئی اور بانس پھینکے تو اژدھے بنے اور موسیٰ علیہ السّلام نے
لاٹھی پھینکی تو وہ بھی ایک اژدھا بن گئی۔ فرق اگر کچھ ہے تو یہ ہے کہ موسیٰ علیہ
السّلام کی ایک لاٹھی اتنا بڑا اژدھا بن گئی کہ اس نے میدان میں موجود بے شمار
سانپوں اورا ژدھوں کو نگل لیا۔ لیکن جہاں تک جادوگروں کی خرق عادت یا جادو کا تعلق
ہے ان کی رسیاں بھی سانپ بنتی ہیں اور جہاں تک موسیٰ علیہ السّلام کے معجزہ کا
تعلق ہے ان کی لاٹھی بھی اژدھے کی صورت اختیار کرتی ہے البتہ ایک بات ہمیں نمایاں
نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ موسی ٰ علیہ السّلام کا بنایا ہوا اژھا بہت زیادہ طاقتور
تھا۔ یعنی جادو اور علمِ حق دونوں علوم کا وجود تو ہے مگر علمِ حق ہمیشہ شیطانی
علوم یا استدراج پر غالب آتا ہے۔
اس
بات کو ذرا آسان الفاظ میں بیان کیا جائے تو اس طرح کہا جائے گا کہ علم کا تعیّن
دو درجوں میں ہوتا ہے ایک درجہ یہ ہے کہ اس علم کی بنیاد زر پرستی، جاہ طلبی اور
دنیاوی عزت و وقار ہوتا ہے اور علمِ حق کی تعریف یہ ہے کہ علمِ حق میں ماسوا اللہ
کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ علمِ حق والا بندہ جو کچھ کرتا ہے جو کچھ دیکھتا ہے جو کچھ
سنتا ہے وہ حق کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس کے پیش نظر کوئی نام وَری نہیں ہوتی اس کے
پیش نظر نعوذ باللہ زر پرستی نہیں ہوتی۔ اس کے پیش نظر کوئی دنیاوی لالچ نہیں
ہوتا۔ اس کے ذہن میں کبھی یہ بات نہیں آتی کہ مجھ سے کوئی ایسی خرق عادت صادرہو جس
کی وجہ سے لوگ مرعوب ہوں اور میری عزت کریں۔ اس کے برخلاف علم استدراج والوں کا
ذہن یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے کارنامے دکھا کر دنیا حاصل کریں اور دنیا کی نظر میں
سرخرو ہوں۔ اس کی سند بھی قرآن پاک سے ملتی ہے۔ فرعون مصر نے جادوگروں کو طلب کر
کے کہا کہ اگر تم نے موسیٰ کو زیر کر دیا تو میں تم کو مالا مال کر دوں گا اور
تمہیں اپنا مصاحب بنا لوں گا۔۔۔۔۔۔اس بات سے واضح ہوتا ہے کہ جادوگروں نے اپنے
جادو کے زور پر جو کارنامے انجام دیئے اس کے پیچھے ان کے خیالات، اغراض و مقاصد
اور دنیا پرستی تھی۔ جب کہ حضرت موسیٰ علیہ السّلام کو میدان میں آنے سے پہلے اس
قسم کی کسی بات کا خیال تک نہیں آیا۔ محض حق کے غلبہ کے لئے اور اللہ تعالیٰ کی
عظمت و جبروت کو ظاہر کرنے کے لئے اور یہ بتانے کے لئے کہ شیطانی علوم علمِ حق کے
سامنے باطل ہیں۔ کمزور ہیں، جھوٹے ہیں، میدان میں تشریف لے آئے۔
اللہ
تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ ڈر مت اپنی
لاٹھی پھینک دے، یہ ثابت کرتا ہے کہ موسیٰ علیہ السّلام کے ساتھ میدان میں
جو کچھ پیش آیا وہ اس کے لئے تیار نہیں تھے محض اللہ کے بھروسہ پر ان بڑے بڑے طاقت
ور جادوگروں کے سامنے اللہ کے لئے کھڑے ہو گئے۔ اس واقعہ میں دوسرا اہم نکتہ یہ ہے
کہ جادوگروں نے جو رسیاں پھینکی تھیں اور ان کے سانپ بن گئے تھے اور جو بانس
پھینکے تھے ان کے اژدھے بن گئے تھے۔ یہ سب فریب دھوکہ اور فکشن تھا اس لئے کہ جب
موسیٰ علیہ السّلام کی لاٹھی نے ان کو نگل لیا تو اس کا کوئی وجود قائم نہیں رہا
جب کہ موسیٰ علیہ السّلام نے اپنی لاٹھی پر دوبارہ ہاتھ ڈالا تو ان کی لاٹھی موجود
تھی۔ معجزہ اور جادو میں یہ فرق بہت نمایاں ہے۔ جادو کے زور سے کوئی چیز قائم کی
جائے یا کسی کے اندر تصرّف کیا جائے چونکہ وہ اس ذہن کی پیداوار نہیں ہے جو ذہن
حقیقت سے آشنا ہے اس لئے جادو کی تخلیق یا جادو کا یہ مظاہرہ عارضی ہوتا ہے۔ قانون
یہ ہے کہ حقیقت ادلتی بدلتی نہیں ہے۔ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے اور حقیقیت رہتی ہے۔
جادو کے زور سے بنے ہوئے سانپ اور جادو کے زور سے بنے ہوئے اژھے سب نیست و نابود
ہو گئے اور موسیٰ علیہ السّلام کی لاٹھی اپنی جگہ موجود رہی۔ اس واقعہ سے روحانیت
میں چلنے والے شاگردوں کے لئے یہ راز ظاہر ہوتا ہے کہ طرزِ فکر اگر غیر حقیقی ہو
وہ عارضی ہوتی ہے اور اس سے آدمی ذہنی طور پر فرار حاصل کر لیتا ہے۔ طرزِ فکر اگر
حقیقی ہو تو حقیقت آشنا، طرزِ فکر جہاں بھی منتقل ہو جائے حقیقت آشنا رہتی ہے اور
حقیقیت میں ردّ و بدل نہیں ہوتا۔ ایک استاد یا گُرو اپنے چیلے کو جب استدراجی علوم
سکھاتا ہے اور یہ علوم سکھانے کے لئے چیلے کے اندر اپنی طرزِ فکر منتقل کرتا ہے تو
وہ چیلا گُرو بن جاتا ہے لیکن یہ گُرو کسی بھی وقت اس طرزِ فکر سے چھٹکارا حاصل کر
لیتا ہے یا کر سکتا ہے اور ایک ایسا بندہ جو سیدنا حضورﷺ یا پیغمران کرام علیہم
السّلام کی طرزِ فکر سے آشنا ہے یا اولیاء اللہ کی طرزِ فکر اسے فی الواقع منتقل
ہو گئی ہے تو یہ بندہ اس طرزِ فکر سے کبھی آزاد نہیں ہوتا اور اس طرزِ فکر میں
برابر اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ حقیقت حقیقت سے گلے مل لیتی ہے۔
تاریخ
میں ایسی ایک مثال موجود نہیں ہے کہ کسی ایسے بندے نے جو حقیقی طرزِ فکر کا حامل
تھا علم استدراج کی طرف رجوع کیا ہو اور ایسی ہزار ہا مثالیں موجود ہیں کہ علم
استدراج کے بڑے بڑے ماہر اور دانش وروں نے اسلام کی حقانیت کو قبول کر کے شیطانی
علوم سے اپنا دامن صاف کر لیا ہے۔ پیر و مرشد دراصل ایک استاد یا گرو کی طرح ہے
بات صرف اتنی سی ہے کہ استاد کے اندر طرزِ فکر کون سی کام کر رہی ہے؟ اس طرزِ فکر
کا تعلق شیطنیت سے ہے یا اس طرزِ فکر کی رسائی حق تک ہے۔ جس کی طرزِ فکر کی رسائی
حق تک ہے وہی طرزِ فکر بندے کو اللہ سے متعارف کراتی ہے اور ایسا ہی بندہ راہِ
سلوک میں قدم قدم چل کر اللہ کا عرفان حاصل کرتا ہے۔
طرزِ
فکر کے بارے میں جو کچھ عرض کیا گیا اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ دراصل انسان
کا کردار اس کی طرزِ فکر سے تعمیر ہوتا ہے۔ طرزِ فکر میں اگر پیچ ہے تو کسی بندے
کا کردار بھی پُر پیچ بن جاتا ہے۔ طرزِ فکر سادہ ہے تو بندے کی زندگی میں سادگی
کارفرما ہوتی ہے۔ طرزِ فکر اگر سطحی ہے تو ایسا بندہ ہر چیز کو بالکل سطحی طریقہ
پر سوچتا ہے۔ طرزِ فکر میں اگر گہرائی ہے تو بندہ ہر چیز کے اندر گہرائی تلاش کرنے
کے لئے تفکر کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے اسی
طرزِ فکر کی نشاندہی کی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے سورج کو دیکھا تو سمجھا
کہ یہی خدا ہے لیکن جب اسے زوال پذیر ہوتے دیکھا تو طرزِ فکر کی گہرائی نے ان کو
یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ گھٹنے والی چیز کبھی خدا نہیں ہو سکتی۔ حضرت ابراہیم
علیہ السّلام کے ماحول میں جتنے اور لوگ تھے ان کی سمجھ میں کبھی یہ بات نہیں آئی
کہ بدلنے والی اور گھٹنے والی چیز کبھی خدا نہیں ہو سکتی۔ ہزاروں لاکھوں آدمیوں کی
موجودگی میں ایک فرد واحد کی سوچ الگ ہے اور اس سوچ میں حقیقت پسندی اور گہرائی
ہے۔
حضرت
ابراہیم علیہ السّلام کے واقعہ سے اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ بہت برے ماحول
میں ایک خاص طرزِ فکر کے لوگوں میں رہتے ہوئے بھی طرزِ فکر الگ ہو سکتی ہے۔ یہ
حقیقت پسندانہ طرزِ فکر کہاں سے منتقل ہوئی۔ جب کہ پورے ماحول میں یہ کہیں نظر
نہیں آتی۔ اس کا جواب یہی ہو سکتا ہے کہ حقیقت پسندانہ طرزِ فکر ہر آدمی کے اندر
موجود ہے لیکن ہر آدمی اسے استعمال نہیں کرتا۔ حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے بتوں
کو توڑ ڈالا۔ لوگوں کے اندر اشتعال پیدا ہو گیا۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السّلام سے
پوچھا کہ ان خداؤں کو کس نے توڑا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اپنے ان خداؤں سے پوچھ
لو۔ باوجود یہ کہ ان لوگوں کے سامنے یہ بات آ گئی کہ بت اپنی مرضی اور منشاء کو
استعمال نہیں کر سکتے اور انہیں توڑا پھوڑا جا سکتا ہے۔ ان کے اندر حقیقت پسندی نے
حرکت نہیں کی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آدمی دیکھتے اور سمجھتے ہوئے بھی غیر حقیقی
باتوں کو اصل اور حقیقی سمجھتا ہے۔ تصوّف میں سالک جب راہِ سلوک اختیا رکرتا ہے تو
سب سے پہلے اس کی طرزِ فکر میں تبدیلی واقع ہوتی ہے اوراس طرزِ فکر کی داغ بیل اس
طرح پڑتی ہے کہ روحانی استاد یا پیر و مرشد بتدریج اپنے شاگرد سے اس قسم کی باتیں
کرتا ہے جو اس کے ماحول میں موجود نہیں ہیں یا ماحول میں بسنے والے لوگ ان کی طرف
اپنے اختیار سے توجہ نہیں دیتے۔ مثلاً اگر یہ کہ فی الواقع کوئی روحانی شخصیت ہے
اس کی مجلس میں بیٹھ کر ایسی باتیں سننے میں آتی ہیں جو عام طور پر دوسری مجلسوں
میں نہیں کہی جاتیں۔ بعض اوقات یہ باتیں اتنی دلچسپ اور عجیب ہوتی ہیں کہ ایسے لوگ
بھی جن کی طرزِ فکر ناقص ہے اور یہ ناقص طرزِ فکر ان کے اندر مستحکم ہے وہ بھی ان
باتوں کو سننے کے لئے اس مجلس میں شریک ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے پیر و مرشد جو کام سر
انجام دیتا ہے وہ یہ ہے کہ مرید کے اندر اس بات کو راسخ کر دیتا ہے کہ اس دنیا کی
زندگی مفروضہ فکشن اور عارضی ہے جو چیز مفروضہ فکشن اور عارضی ہے اس کو حقیقت نہیں
کہا جا سکتا۔ وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ باوجود یہ کہ آدمی خود کو بااختیار سمجھتا ہے۔
زندگی کے شب و روز میں کہیں بھی اس کا اختیار زیر بحث نہیں آتا۔ وہ پیدائش کے بعد
بالکل غیر اختیاری طور پر بڑھتا رہتا ہے۔ جوانی کے بعد یہ نہ چاہنے کے باوجود کہ
وہ بوڑھا ہو بالآخر بوڑھا ہو جاتا ہے۔ دنیا کا ایک فرد واحد بھی نہیں چاہتا کہ وہ
مر جائے لیکن جو آدمی پیدا ہوتا ہے وہ ضرور مرتا ہے۔ آدمی کو اس بات پر تو اختیار
حاصل ہے جیسا کہ وہ سمجھتا ہے کہ غذائی ضروریات کو کم یا زیادہ کر لے لیکن اِس بات
پر اُس کو بالکل دسترس حاصل نہیں کہ وہ ساری زندگی کھانا نہ کھائے یا ساری زندگی
پانی نہ پیئے۔ یا ہفتوں مہینوں بیدار رہے۔ یہ تمام باتیں ایسی ہیں کہ جو ہر شخص کے
ساتھ نہ صرف یہ کہ پیش آتی ہیں بلکہ اس کے ہر ہر لمحہ کے ساتھ چپکی ہوئی ہیں۔
لمحات
وقت گھنٹے دن مہینے اور سالوں کا یہ تغیّر ایک ایسا تغیّر ہے جس سے کوئی باہوش
آدمی انکار نہیں کر سکتا۔ ان تمام تغیّرات کی نشاندہی کر کے پیر و مرشد یہ بات
بتاتا ہے کہ اس تغیّر کے پیچھے یہ حقیقت چھپی ہوئی ہے کہ کوئی ذات ایسی ہے جس کے
ہاتھ میں اس تغیّر و تبدل کی ڈوریاں ہیں اور وہ ہاتھ سے ان ڈوریوں کو جس طرح حرکت
دے رہا ہے زندگی تغیّر پذیر ہو رہی ہے۔ جب سالک کے ذہن میں یہ دن رات کا ایسا
مشاہدہ جس کے اوپر عوامُ النّاس نے پردہ ڈالا ہوا ہے سامنے آتا ہے تو اس کا ذہن
خود بخود اس ہستی مطلق کی طرف رجوع ہوتا ہے جس ہستی کے ہاتھ میں تغیّر و تبدل کی
ڈوریاں حرکت کر رہی ہیں۔ یہ طرزِ فکر کا پہلا بیج ہے جو کسی مرید یا سالک کے دماغ
میں بو دیا جاتا ہے پھر اس بیج کو پروان چڑھانے کے لئے پیر و مرشد مزید جدّ و جہد
اور کوشش کرتا ہے اور وہ یہ کہ وہ ایسے برگزیدہ حضرات کو سامنے لاتا ہے جن کی طرزِ
فکر میں حقیقت پسندی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔
سوال:
مرشد کس طرح اپنے مرید پر روحانی تصرّف کرتا ہے؟
جواب:
مثلاً یہ کہ وہ اپنے روحانی تصرّف سے مرید کو خواب کی ایسی دنیا میں لے جاتا ہے جس
دنیا میں اولیاء اللہ اور پیغمبروں کی زیارت اسے نصیب ہوتی ہے۔ مسلسل اور متواتر
خواب کے مشاہدے کے بعد اولیاء اللہ اور پیغمبروں کی طرزِ فکر پیدا ہو جاتی ہے اور
اس کی طرزِ فکر پر ایک ایسا رنگ چڑھ جاتا ہے جو رنگ اولیاء اور پیغمبروں کے لئے
مخصوص ہے۔ اس کی باطنی آنکھ پر پیر و مرشد ایسی عینک لگا دیتا ہے کہ عینک کے اندر
لگے ہوئے شیشے اسے وہی کچھ دکھاتے ہیں جو پیر و مرشد کی طرزِ فکر ہے۔ عام مثال سے
اسے بہت آسانی کے ساتھ اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ عینک کے اندر جس قسم کے گلاس
لگے ہوئے ہیں آدمی کو چیزیں اسی رنگ کی نظر آتی ہیں۔ عینک کے گلاس اگر سرخ ہیں تو
اسے ہر چیز سرخ نظر آتی ہے۔ عینک کے گلاس اگر پیلے ہیں تو اسے ہر چیز پیلی نظر آتی
ہے۔ عینک کے گلاس اگر صاف و شفاف اور مجلّیٰ ہیں تو اسے ہر چیز صاف و شفاف اور مجلیّٰ نظر آتی ہے۔ عینک کے
شیشے اگر دھندلے ہیں تو ہر چیز دھندلی نظر آتی ہے اور اگر عینک کے شیشے اندھے ہیں
تو عینک آنکھ پر لگانے کے باوجود آنکھ اندھی رہتی ہے حالانکہ عینک لگانے کے بعد
آنکھ کھلی ہوئی ہے۔ عینک کا شیشہ دراصل طرزِ فکر ہے۔ عینک کے اندر جس قسم کی طرزِ
فکر کا گلاس فٹ کر دیا جاتا ہے۔ دنیا اسے اسی طرح نظر آتی ہے۔ عینک کے اندر فٹ ہوا
لینس اتنا صاف اور مجلّیٰ بھی ہو سکتا ہے اور ایسا ہوتا ہے کہ آدمی میلوں پر موجود
چیز دیکھ لیتا ہے اور عینک کے اندر لگا ہوا گلاس یا شیشہ اتنا اندھا بھی ہوتا ہے
کہ عینک لگانے کے بعد آدمی کو اتنا بھی نظر نہیں آتا جتنا وہ عینک لگائے بغیر دیکھ
لیتا ہے۔ یہ دیکھنا سمجھنا، چیزوں کی ماہیئت کو معلوم کرنا، تفکر کرنا ہر آدمی کے
اندر موجود ہے بات صرف اتنی ہے کہ ان صلاحیتوں کا اسے استعمال نہیں آتا۔ پیر و
مرشد چونکہ تفکر کی صلاحیتوں کے استعمال کو جانتا ہے اور اس کی تمام زندگی تفکر سے
تعبیر ہے اس لئے جب مرید کے اندر پیر و مرشد کی صلاحیت منتقل ہوتی ہے تو تفکر کا
بویا ہوا بیج آہستہ آہستہ تناور درخت بن جاتا ہے۔ اس بیج کو تناور درخت بننے میں
جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ آدمی کا اپنا ذاتی ارادہ اور عقل و شعور ہے۔ روحانیت میں
کوئی بندہ جب اپنی ذات کو سامنے لے آتا ہے اور عقل و شعور کو سب کچھ سمجھ لیتا ہے
تو اسے کبھی کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ اس کے اندر جو عقل و شعور کام کر
رہا ہے اس کا تعلق اس طرزِ فکر سے ہے جس طرزِ فکر میں گہرائی نہیں ہے۔ حقیقت پسندی
نہیں ہے۔ جس طرزِ فکر کو ثبات نہیں ہے۔ اب ہم اس بات کو اس طرح کہیں گے کہ ایک
پیرو مرشد ہے۔ روحانی استاد ہے اور ایک شاگرد ہے۔ پیر و مرشد کو ہم مراد اور
روحانی شاگرد کو ہم مرید کا نام دیتے ہیں۔
ہمارا
عام مشاہدہ ہے کہ بچہ وہی زبان بولتا ہے جو ماں باپ کی زبان ہے اور اس زبان کو
سیکھنے کے لئے بچہ کے لئے کوئی درس و تدریس کا سلسلہ قائم کرنا نہیں پڑتا۔ بچہ جس
طرح ماں باپ کو بولتے دیکھتا ہے وہی الفاظ اپنی زبان میں بولنا شروع کر دیتا ہے۔
عمر کی مناسبت سے لفظ ٹوٹے پھوٹے ہوتے ہیں لیکن بالآخر وہ اپنی مادری زبان اس طرح
بولتا ہے کہ جیسے یہ ہمیشہ سے سیکھا سکھایا پیدا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین
جس طرح خورد و نوش کا انتظام کرتے ہیں بچہ بھی اسی طرح کھانا کھاتا ہے جس طرح ماں
باپ کھاتے ہیں اس کو یہ بتانا نہیں پڑتا کہ کھانا اس طرح کھایا جاتا ہے۔ والدین جس
قسم کا لباس پہنتے ہیں بچہ بھی اسی قسم کا لباس زیب تین کرتا ہے۔ ماحول اگر
پاکیزہ، صاف اور ستھرا ہے تو بچے کا ذہن بھی پاکیزہ اور صاف ستھرا رہتا ہے۔ والدین
اگر گالیاں بکتے ہیں تو گھر میں بچے کے لئے گالی دینا کوئی خلاف معمول یا بری بات
نہیں ہوتی۔ مختصراً یہ کہ بچے کے اوپر وہ تمام اثرات مرتّب ہوتے ہیں جو اس کے
ماحول میں موجود ہیں۔ گھر کی چار دیواری اور والدین کی آغوش سے نکل کر جب بچہ گھر
سے باہر کے ماحول میں قدم رکھتا ہے تو اس کے اوپر تقریباً وہ تمام اثرات مرتّب
ہوتے ہیں جو ماحول میں موجود ہیں۔ روحانی نقطہ نظر سے دنیا میں نیا آنے والا کوئی
فرد ذہنی طور پر آدھا ماحول کے زیرِ اثر ہوتا ہے اور آدھا والدین کی ذہنی افتاد سے
مطابق ہوتا ہے۔ اس غیر اختیاری تربیت کے بعد ایک دوسرا دَور شروع ہوتا ہے وہ یہ کہ
والدین اپنے لخت جگر کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟ والدین اگر بچہ کے اندر خاندانی
روایات اور خود نمائی کی عادات منتقل کر دیتے ہیں تو بچہ کے اندر خود نمائی کے
اثرات غالب آ جاتے ہیں۔ والدین اگر بچہ کو صحیح تربیت کے ساتھ ایسے علوم سکھاتے
ہیں جن علوم میں اخلاقیات کا زیادہ دخل ہوتا ہے تو بچہ بااخلاق ہوتا ہے اور شعور
کی منزل میں داخل ہو کر ایک ایسا پیکر بن جاتا ہے جو معاشرے کے لئے عزت و توقیر کا
باعث ہوتا ہے۔ والدین کی طرزِ فکر اگر دولت پرستی ہے تو اَولاد کے اندر بھی دولت
پرستی کے رجحانات زیادہ مستحکم ہو جاتے ہیں اس تقریر کا مفہوم یہ نکلا کہ تربیت کے
دو طریقہ کار ہیں۔