Topics

اللہ تعالیٰ بہترین خالق ہیں

 

سوال: اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں فرماتے ہیں کہ میں بہترین خالق ہوں۔ اس بات کی وضاحت فرما دیں۔

جواب: اللہ تعالیٰ نے جہاں کائنات کی تخلیق کا تذکرہ کیا ہے وہاں یہ بات ارشاد کی ہے کہ میں تخلیق کرنے والوں میں سب سے بہتر خالق ہوں۔ اللہ تعالیٰ بحیثیت خالق کے ایک ایسے خالق ہیں کہ جن کی تخلیق میں وسائل کی پابندی زیر بحث نہیں آتی۔ اللہ کے ارادے میں جو چیز جس طرح اور جس خدوخال میں موجود ہے جب وہ اس چیز کو وجود بخشنے کا ارادہ کرتے ہیں تو حکم دیتے ہیں اور اس حکم کی تعمیل میں تخلیق کے اندر جتنے وسائل ضروری ہیں وہ سب وجود میں آ کر اس تخلیق کو عمل میں لے آتے ہیں۔

تخلیق اللہ تعالیٰ کے ذہن میں موجود ہے۔ خالقین کا لفظ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور بھی تخلیق کرنے والے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے علاوہ دوسری ہر تخلیق وسائل کی پابند اور محتاج ہے۔ اس کی مثال آج کے دَور میں بجلی سے دی جاسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ایک تخلیق بجلی (Electricity) ہے۔ جب بندوں نے اس تخلیق سے دوسری ذیلی تخلیقات کو وجود میں لانا چاہا تو اربوں کھربوں چیزیں وجود میں آ گئیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وصف ہے کہ اللہ نے ایک لفظ ’’کُن‘‘ کہہ کر بجلی کو وجود بخش دیا۔ آدم نے اختیاری طور پر یا غیر اختیاری طور پر جب بجلی کے علم کے اندر تفکر کیا تو اس بجلی سے ہزاروں چیزیں وجود میں آ گئیں۔ بجلی سے جتنی چیزیں وجود میں آئیں وہ انسان کی تخلیق ہیں مثلاً ریڈیو، ٹی وی اور بے شمار دوسری چیزیں روحانی نقطہ نظر سے اللہ کی اس تخلیق میں سے دوسری ذیلی تخلیقات کا مظہر بننا آدم زاد کا دراصل بجلی کے اندر تصرّف ہے۔

یہ وہی علم ہے جو اللہ نے آدم کو سکھا دیا تھا۔ اسماء سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے آدم کو ایک ایسا علم سکھا دیا کہ جو براہِ راست تخلیقی فارمولوں سے مرکب ہے۔ جب انسان اس علم کی گہرائی کے اندر جا کر حاصل کرتا ہے اور اس علم کے ذریعے تصرّف کرتا ہے تو نئی نئی چیزیں سامنے آ جاتی ہیں۔ کائنات دراصل ایک علم ہے۔ ایسا علم جس کی بنیاد اورحقیقت سے اللہ نے بندوں کو وُقوف عطا کر دیا کر دیا ہے لیکن اس وُقوف کو حاصل کرنے کے لئے ضروری قرار دے دیا ہے کہ بندے علم کے اندر تفکر کریں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں فرمایا ہے کہ ہم نے لوہا نازل کیا اور اس کے اندر لوگوں کے لئے بے شمار فائدے محفوظ کر دیئے جن لوگوں نے لوہے کی حیثیت اور طاقت کو تسلیم کر کے لوہے میں گہرائی پیدا کر کے تفکر کیا اور لوگوں کے سامنے لوہے کی لامحدود صلاحیتیں آ گئیں اور جب ان صلاحیتوں کو استعمال کر کے لوہے کے اجزائے ترکیبی کو متحرّک کر دیا تو لوہا ایک ایسی عظیم شئے بن کر سامنے آیا کہ جس سے موجودہ سائنس کی ہر ترقی کسی نہ کسی طرح وابستہ ہے۔ یہ ایک تصرّف ہے جو وسائل میں کیا جاتا ہے یعنی ان وسائل میں جن وسائل کا ظاہراً وجود ہمارے سامنے ہے۔ جس طرح لوہا ایک وجود ہے اسی طرح روشنی کا بھی ایک وجود ہے۔ وسائل کی حدود سے گزر کر یا وسائل کے علوم سے آگے بڑھ کر جب کوئی بندہ روشنیوں کا علم حاصل کرتا ہے تو جس طرح لوہے کی (دھات) میں تصرّف کے بعد وہ عظیم مشینیں، کُل پرزے، جہاز، ریل گاڑیاں، خطرناک اور بڑے بڑے بم اور دوسری ترقیوں میں لوہے کو استعمال کرتا ہے۔ اس طرح روشنیوں کا علم حاصل کر کے وہ روشنیوں کے ذریعے بہت ساری تخلیقات وجود میں لے آتا ہے۔

وسائل میں محدود رہ کر ہم سونے کے ذرّات کو اکٹھا کر کے ایک خاص پروسیس(Process) سے گزار کر سونا بناتے ہیں۔ لوہے کے ذرّات اکٹھا کر کے خاص پروسیس سے گزار کر ہم لوہا بناتے ہیں۔ اسی کو وسائل میں تصرّف کا نام دیا جاتا ہے۔ لیکن وہ بندہ جو روشنیوں میں تصرّف کرنے کا اختیار رکھتا ہے اس کے لئے سونے کے ذرّات کو مخصوص پروسیس سے گزارنا ضروری نہیں ہے۔ وہ اپنے ذہن میں روشنیوں کا ذخیرہ کر کے ان مقداروں کو الگ کر لیتا ہے جو مقداریں سونے کے اندر کام آتی ہیں اور ان مقداروں کو ایک نقطہ پر مرکوز کر کے ارادہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ’’سونا‘‘ اور سونا بن جاتا ہے۔

ہم بتا چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی تخلیق میں کسی کا محتاج نہیں ہے، جب وہ کوئی چیز تخلیق کرتا ہے تو تخلیق کے لئے جتنے وسائل موجود ہونا ضروری ہیں۔ وہ خود بخود موجود ہو جاتے ہیں اور بندے کا تصرّف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی تخلیق کا تصرّف کرتا ہے۔ تصرّف کے دو طریقے ہیں۔ ایک طریقہ وسائل میں محدود رہ کر وسائل کا مجتمع کر کے کوئی نئی چیز بنائی جاتی ہے اور دوسرا طریقہ روشنیوں میں تصرّف کرنا ہے۔

یعنی کوئی چیز جن روشنیوں پر قائم ہے۔ ان روشنیوں میں حرکت دے کر تصرّف کیا جاتا ہے اور تصرّف کا یہ طریقہ انسان کے اندر اب روشنیوں سے متعلق ہے۔ جن روشنیوں کو قلندر بابا اولیاءؒ نے نسمہ کہا ہے، روشنیوں کے اس ذخیرے کو حاصل کرنے کا طریقہ ہی دراصل روحانیت ہے۔ روحانیت میں یہ بات دن کی روشنی کی طرح سامنے آ جاتی ہے کہ زمین پر موجود یا کائنات میں موجود ہر شئے کی بنیاد اور بساط روشنی ہے اور یہ روشنی اللہ کی صفَت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہر صفَت معیّن مقداروں کے ساتھ قائم ہے اور معیّن مقداروں کے ساتھ ردّ و بدل ہوتی رہتی ہے۔ پیدائش سے موت تک کا زمانہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کوئی بچہ اپنی ایک حیثیت پر قائم نہیں رہتا۔ جن معیّن مقداروں پر بچہ پیدا ہوا ہے۔ ان معیّن مقداروں میں ایک ضابطہ ایک قانون اور ایک ترتیب کے ساتھ ردّ و بدل ہوتا رہتا ہے۔ جس طرح مقداروں میں ردّ و بدل ہوتا رہتا ہے اسی مناسبت سے انسان بھی بدلتا رہتا ہے۔

بچہ، جوان ہو، بوڑھا ہو بہرصورت وہ انسان ہے یعنی اس کی شکل و صورت اور خدوخال میں تو تبدیلی ہوتی رہتی ہے لیکن نَوعِ انسانی کی شکل و صورت برقرار رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کے کنبے کو مختلف نَوعوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک معیّن مقدار یہ ہے کہ انسان ہر حال میں انسان رہتا ہے لیکن اس کے خدوخال تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

ایک بکری کا بچہ بہرصورت بکری کا بچہ رہتا ہے۔ لیکن عمر کے ساتھ ساتھ اس کے اندر زندگی گزارنے کے تقاضے بدلتے رہتے ہیں۔ اب اس بات کو اس طرح کہا جائے گا کہ معیّن مقداریں دو رخ پر قائم ہیں۔ ایک رخ یہ ہے کہ اس میں ردّ و بدل ہوتا رہتا ہے اور دوسرا رخ یہ ہے کہ بظاہر کوئی ردّ و بدل واقع نہیں ہوتا۔ ردّ و بدل یہ ہے کہ پیدا ہونے والے بچے کے نقوش جوانی میں سرتاپا بدل جاتے ہیں۔ جوانی کے بعد بڑھاپا آ جاتا ہے۔ بڑھاپَے میں جوانی کے نقوش دھل جاتے ہیں اور اس طرح ماضی میں چلے جاتے ہیں یا مٹ جاتے ہیں کہ جوانی کی تصویر اور بڑھاپے کی تصویر دو الگ الگ تصویریں نظر آتی ہیں۔ اس کو معیّن مقداروں میں ردّ و بدل کا نام دیا جاتا ہے اور وہ مقداریں جو قائم بالذّات ہیں۔ یہ ہیں کہ آدمی ایک دن کا بچہ ہو یا سو سال کا بوڑھا، بھوک کا تقاضہ اس کے اندر موجود ہے۔ پانی پینے کا تقاضہ اس کے اندر موجود ہے۔ عجیب رمز ہے کہ دو سال کا بچہ پانی پیتا ہے۔ دو سال کا بچہ غذا کھاتا ہے۔ سو سال کا بوڑھا آدمی بھی پانی پیتا ہے۔ سو سال کا بوڑھا آدمی بھی غذا کھاتا ہے لیکن سو سال کا بوڑھا دو سال کا بچہ نہیں ہوتا اور دو سال کا بچہ سو سال کا بوڑھا نہیں ہوتا۔

بتانا یہ مقصود ہے کہ روحانی علوم ہمارے اوپر یہ بات واضح کرتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ تقاضے بڑھاپے اور بچپن میں یکساں ہیں، صورت و شکل اور خدوخال میں تبدیلی ہو جاتی ہے۔ صورت شکل اور خدوخال میں رد وبدل میں اللہ تعالیٰ کے علوم کام کرتے ہیں۔ ان علوم سے روشناس ہونے کے لئے پہلی بات ضروری ہے کہ ہم ان روشنیوں کا علم حاصل کریں جن روشنیوں کو اللہ نے اپنی صفات کہا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہر چیز پر محیط ہیں

سوال: اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے:’’اللہ وہ ہے جو ہر چیز پر محیط ہے‘‘۔یہ بھی ارشاد ہے کہ’’جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اللہ اسے جانتا ہے‘‘۔’’اگر تم ایک ہو تو دوسرا اللہ ہے اور اگر تم دو ہوتو تیسرا اللہ ہے‘‘۔’’اللہ ہی ابتداء ہے اللہ ہی انتہا ہے‘‘۔اس کی تفصیل کیا ہے؟

جواب: ان سارے ارشادات میں یہ بات پوری طرح واضح کر دی گئی ہے کہ اللہ کا علم لامحدود اور لامتغیر و لامتناہی اس لئے ہے کہ یہ علم ٹائم اسپیس کی حد بندیوں سے ماوراء ہے۔ ان ارشادات سے یہ بات بھی منکشف ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے علم کا تذکرہ کرتے ہیں تو اس سے منشاء خالصتاً آزادی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب کائنات بنانے کا ارادہ کیا تو فرمایا ’’کُن‘‘ اور کائنات وجود میں آ گئی۔ اس بات کو آسان الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ کائنات دراصل اللہ تعالیٰ کا علم ہے۔ چونکہ علم کا مظاہرہ ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم نے کائنات کے خدوخال کا روپ اختیار کیا ہے اس لئے پوری کائنات بھی بجز علم کے کوئی اور حیثیت نہیں رکھتی۔ علم کی حیثیت زیادہ ہو یا قلیل بہر حال وہ علم ہے۔ اس کو ہم اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ سمندر کے پانی کا ایک قطرہ بہرحال سمندر ہے۔ سمندر سے لئے ہوئے ایک قطرہ ِٔآب کو پانی کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔ چونکہ ساری کائنات اللہ تعالیٰ کے علم کا مظاہرہ ہے اس لئے کائنات کی حقیقت کائنات کی بنیاد اور کائنات کی ہیئت سوائے علم کے کچھ نہیں ہے۔ جب ہم عالم ناسوت میں بند زندگی کا تجربہ کرتے ہیں اور زندگی کے اندر غور و فکر کرتے ہیں تو یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ساری زندگی علم کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اور علم اس وقت علم ہے جب اس کے اندر معانی اور مفہوم موجود ہوں۔ علم کے اندر معانی اور مفہوم کی ایک طرز یہ ہے کہ بندہ اپنے اختیارات سے علم کے اندر معنی پہناتا ہے۔ اور علم کے اندر اصل مفہوم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ذہن میں ہے۔ بظاہر کائنات میں غور کرنے سے عجیب قسم کی پریشانی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا نظام قائم کیا ہے کہ جس نظام میں زیادہ تر تکلیف و جراحت ہے مثلاً کوئی آدمی کھائے بغیر نہیں رہ سکتا، ہر آدمی سونے پر مجبور ہے۔ اتنی بندشیں ہیں کہ جن کا کوئی شمار نہیں۔ علم کا یہ مفہوم اللہ تعالیٰ کے ذہن میں موجود علم سے الگ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم سے فرمایا کہ:

اے آدم! تو اور تیری بیوی جنّت میں رہو اور خوش ہو کر کھاؤ جہاں سے دل چاہے۔ (سورۃ البقرہ – آیت نمبر 35)

جنّت ایک ایسی بستی ہے کہ جس کے رقبے کی حدود کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ یعنی اس کی حدود لامتناہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ خوش ہو کر کھاؤ جہاں سے چاہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ آدم کو اللہ نے لامحدود جنّت کے رقبے پر تصرّف عطا کر دیا تھا۔ بالفاظ دیگر آدم جنّت کے لامحدود رقبے پر بلاشرکت غیرے مالک تھے۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ یہ درخت ہے اس کے قریب مت جانا۔ اور اگر تم نے ہمارے اس حکم یا ہدایت پر عمل نہیں کیا تو تم اپنے اوپر ظلم کرو گے۔

جنّت لامحدود رقبہ ہے۔ اس میں لاتعداد اور لاشمار درخت ہیں۔ ایک مخصوص درخت کی طرف اللہ تعالیٰ اشارہ کر کے آدم کو ہدایت کرتے ہیں کہ اس درخت کے قریب مت جانا۔ آدم سے نافرمانی واقع ہوئی اور اس نافرمانی کے جرم میں جنّت کی فضاؤں نے آدم کو ردّ کر دیا۔ اور آدم جس سرزمین کے بِلاشرکتِ غیرے مالک تھے وہ زمین ان سے چھین لی گئی۔ اس واقعہ کا نقشہ کچھ اس طرح بنتا ہے۔ ایک بہت وسیع و عریض باغ ہے۔ باغ کے پھل پھول، پودوں، نہروں، آبشاروں وغیرہ پر آدم کو پورا پورا تصرّف حاصل ہے۔ باغ کے اندر صرف ایک درخت ایسا ہے جس پر اسے تصرّف تو حاصل ہے لیکن اس تصرّف کو اختیارکرنے سے منع کیا گیا ہے۔ جب تک آدم سے نافرمانی کا ارتکاب نہیں ہوا آدم کے لئے جنّت کا وسیع رقبہ (Time & Space) سے آزاد رہا اور جب آدم سے نافرمانی سرزد ہو گئی تو آدم کے اندر زمان و مکان کی حد بندیاں ظاہر ہو گئیں۔ اس درخت کے بارے میں بہت سی باتیں بیان کی جاتی ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ گیہوں کا درخت تھا۔ کوئی کہتا ہے کہ سیب تھا۔ کسی مذہب و مسلک کے لوگ کہتے ہیں کہ وہ درخت انگور کا تھا۔ علیٰ ہذالقیاس مختلف لوگ مختلف باتیں کہتے ہیں۔ لیکن قرآن نے اس کا کوئی نام نہیں رکھا۔ صرف درخت کے نام سے یاد کیا ہے۔ روحانی نقطۂِ نظر سے جب لاشعوری واردات و کیفیات میں اس درخت کا مشاہدہ کیا جاتا ہے تو دراصل یہ ایک طرزِ فکر کا سمبل ہے۔

جنّت میں ہو یہ رہا ہے کہ جو کچھ جنّت میں موجود ہے وہ دروبَست آدمی کے ارادے کے تابع ہے۔ آدمی کا دل چاہا کہ وہ سیب کھائے۔ جنّت میں سیب کا درخت بھی ہے۔ اس پر سیب لگے ہوئے بھی ہیں۔ لیکن سیب کا توڑنا وہاں زیربحث نہیں آتا۔ سیب کھانے کو دل چاہا اور سیب موجودہو گیا۔ پانی پینے کو دل چاہا اور پانی موجود ہو گیا۔ اس طرزِ فکر سے تصرّف کی دو طرزیں سامنے آتی ہیں۔ تصرّف کی ایک طرزِ فکر یہ ہے کہ ایک بندہ سیب کا درخت لگاتا ہے۔ اس کی نشوونما کا انتظار کرتا ہے۔ طویل عرصے کے بعد سیب کا درخت اس قابل ہوتا ہے کہ اس کے اوپر پھل لگے۔ اس کے اندر سیب کھانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور وہ درخت کی طرف چلتا ہے اور درخت پر سے سیب توڑ کر کھا لیتا ہے۔ تصرّف کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ سیب کے درخت پر سیب لگے ہوئے ہیں۔ اس درخت کو نہ کسی بندے نے زمین میں بویا ہے، نہ اس کی نگہداشت کی ہے، نہ اس درخت کو پروان چڑھانے میں کوئی خدمت انجام دی اور نہ اسے درخت پر سے سیب توڑنے کی زحمت کرنا پڑتی ہے۔ دل چاہاکہ سیب کھاؤں اور سیب موجود ہو گیا۔ اس میں ایک بہت باریک نکتہ بیان ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے ارادے میں یہ بات موجود تھی کہ کائنات وجود میں آئے۔ اللہ تعالیٰ نے کہا ’’کُن‘‘ کائنات وجود میں آجا۔ کائنات بن گئی۔ جنّت کی زندگی میں آدم کے دماغ میں یہ بات موجود تھی کہ وہ سیب کھائے۔ آدم نے کہا سیب اور سیب موجود ہو گیا۔ ’کُن‘ کہنے سے کائنات بن گئی، سیب کہنے سے سیب مل گیا۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اپنی ذات کے لئے احسن الخالقین کہہ کر بیان کیا ہے کہ میں تخلیق کرنے والوں میں بہترین خالق ہوں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علاوہ بھی مخلوق کو تخلیق کرنے کی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ انسانی تخلیق اور اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں حدِّ فاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وسائل کے بغیر محض علمی بنیاد پر تخلیق فرماتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے ذہن میں جو کچھ تھا، اس کے بارے میں ’کُن‘ کہہ کر ان تمام چیزوں کو جو اللہ تعالیٰ ظاہر فرمانا چاہتے تھے تخلیق کر دیا۔ آدم کے اندر اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی جو تخلیقی صلاحیتیں کام کر رہی ہیں وہ وسائل کی محتاج ہیں۔ جب تک کوئی بندہ ان تخلیقی صلاحیتوں کو زمان و مکان کی حد بندیوں سے آزاد رہ کر استعمال کرتا ہے وہ سب جنّت کی زندگی ہے اور جب کوئی بندہ ان تخلیقی صلاحیتوں کو زمان و مکان کی حد بندیوں کے اندر اور وسائل کے اندر بند کر دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق یہ جہالت اور ظلم ہے۔ جس طرح عقل و شعور اور دانائی ایک درخت کی طرح پھلتی پھولتی ہے یعنی علم کے اندر طرح طرح کی شاخیں پھوٹتی ہیں، نئے نئے فلسفوں کی داغ بیل پڑتی ہے، طرح طرح کی ایجادات ہوتی ہیں، اسی طرح ظلم و جہالت کے درخت پر بھی پھول پتے اور شاخیں اگتی ہیں۔ لیکن چونکہ بنیاد ظلم اور جہالت پر ہوتی ہے اس لئے آدمی ان ساری ایجادات اور ترقّیوں سے خوش ہونے کی بجائے ناخوش ہوتا ہے۔ پرسکون ہونے کی بجائے بے سکون ہو جاتا ہے۔ مطمئن ہونے کی بجائے غیر مطمئن زندگی گزارتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی روشنی میں جب ہم موجودہ سائنسی ترقّیوں کی طرف نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اس ترقی میں وہ تمام چیزیں ملتی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ظلم اور جہالت کے نام سے بیان فرمایا ہے۔

آج کی ترقی پوری نوعِ انسانی کے لئے ایک عذاب بن گئی ہے۔ ہر شخص غیر مطمئن اور بے سکون ہے۔ دنیا کے اس کونے سے اس کونے تک عدم تحفّظ کا اژدہا منہ کوسلے ہوئے پوری نوعِ انسانی کو نگلنے کے لئے بے قرار ہے۔ حالانکہ جہاں تک ترقی کا معاملہ ہے یہ ساری ترقیاں، یہ ساری ایجادات، یہ ساری تخلیقات اس خیال کے تحت وجود میں آئی ہیں کہ نوعِ انسانی کو سکون ملے گا لیکن چونکہ یہ تمام چیزیں (Time & Space) میں بند ہو کر معرض وجود میں آئی ہیں اس لئے آدمی بدحال اور پریشان ہے۔ جنّت کی زندگی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب آدم نے اللہ تعالیٰ کی واضح ہدایت کو پس پشت ڈال دیا تو وہ مصائب اور آلام میں گرفتار ہو گیا۔ قرآن پاک میں ہے:

’’اتر جاؤ! اب تمہارے اوپر ذلت اور مسکنت کی مار ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ – آیت نمبر 36)

اللہ تعالیٰ کے علم کا عکس

سوال: اللہ تعالیٰ کے ذہن میں کائنات کا کیا علم تھا؟

جواب: کائنات اور کائنات میں موجود تمام تخلیقات، تخلیقات میں تمام نوعیں اور ہر نوع کے الگ الگ افراد، افراد کا پھیلنا اور سمٹنا، پیدائش کا تسلسل اور موت کا وارد ہونا، زمین اور سماوات، سورج، چاند، ستارے، بے شمار کہکشانی نظام، جنّت، دوزخ اور جنّت دوزخ کے اندر زندگی گزارنے کے تمام حواس اور تقاضے، حواس میں ردّ و بدل اور ردّ و بدل کے ساتھ حواس کی کمی بیشی، ذہنی رفتار کا گھٹنا یا بڑھنا، حواس کا الگ الگ تعیّن۔۔۔۔۔۔سننا، دیکھنا، چھونا، چکھنا، محسوس کرنا، جسمانی خدوخال کا الٹ پلٹ ہونا، جذبات میں اشتعال پیدا ہونا یا کسی بندے، کسی ذی روح کا نرم خو ہونا۔ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کے ذہن میں موجود علم کا عکس ہیں۔

کائنات میں موجود کوئی ایک شئے۔۔۔۔۔۔اس کی حیثیت کسی بڑے سے بڑے ستارے کی ہو یا زمین کے چھوٹے سے چھوٹے ذرے کی ہو، اللہ تعالیٰ کے ذہن میں موجود تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے ذہن کے اندر اس خوبصورت دنیا کو مظہر بنانا چاہا تو فرمایا ’کن‘ اور کائنات میں موجود تمام چیزیں من و عن اسی طرح جس طرح اللہ تعالیٰ کے ذہن میں موجود تھیں یا ہیں ایک تخلیقی وجود میں ظاہر ہو گئیں۔ تخلیقات کا یہ سلسلہ یا کنبہ اتنا وسیع ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے:’’سارے سمندر روشنائی بن جائیں اور سارے درخت قلم بن جائیں، پھر بھی اللہ تعالیٰ کی باتیں پوری نہیں ہوں گی۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے کائنات کو کیوں بنایا؟ اور یہ ساری خوبصورت تخلیقات کیوں عمل میں آئیں؟ جنّت دوزخ کے دو الگ الگ گروہ کیوں وجود میں آئے؟ ظاہری دنیا کے عجائبات اور غیب کی دنیا کے لامحدود عجائبات کو کیوں بنایا گیا؟ اس کی وجہ خود اللہ تعالیٰ بیان فرماتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ:

’’میں چھپا ہوا خزانہ تھا، میں نے چاہا کہ ایک ایسی کائنات تخلیق کروں جو مجھ سے متعارف ہو کر مجھے پہچان لے۔‘‘ (حدیث قدسی)

اس حدیث قدسی میں تفکر کرنے سے یہ بات واضح طور پر سامنے آ جاتی ہے کہ کائنات کی تخلیق کا منشاء بجز اس کے کچھ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتے تھے کہ مجھے پہچانا جائے۔ پہچاننے کے لئے ضروری ہے کہ تمام مخلوقات میں سے کسی ایک مخلوق کا انتخاب کیا جائے اور اس منتخب مخلوق کو دوسری مخلوقات کے مقابلے میں زیادہ علم دیا جائے۔ نہ صر ف یہ کہ علم دیا جائے علم کے اندر مفہوم اور معنویت تلاش کرنے کی صلاحیت عطا کی جائے۔جہاں تک علم کی تقسیم کا تعلق ہے، ہر ذی روح کے اندر علم موجود ہے۔ ایک بکری یہ جانتی ہے کہ درخت کے پتے میری غذا ہیں۔ لیکن بکری یہ نہیں جانتی کہ بیری کا درخت کس طرح اگتا ہے اور درخت سے درخت اور دوسرے درخت سے تیسرا درخت کیسے اگایا جاتا ہے۔ بھوک پیاس کا علم تمام مخلوقات میں قدر مشترک ہے خواہ وہ ذی روح ہوں یا انہیں ذی روح نہ سمجھا جاتا ہو۔

مخلوق کی دو نوعیں ایسی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم کے اندر معانی تلاش کرنے اور مفہوم پہنانے کی صلاحیت عطا کی ہے۔ ایک انسان اور دوسرے جنّات، جنّات کی تخلیق کے فارمولے بیان کرنا اس وقت ہمارے پیش نظر نہیں ہے۔ چونکہ اب تک ان اسباق کو انسان تک محدود رکھا گیا ہے اس لئے انسانی علم ہی ہمارے پیش نظر ہے۔

Topics


Rooh Ki Pukar

خواجہ شمس الدین عظیمی

انتساب

اُس روح     
کے
نام
جو اللہ تعالیٰ
کا عرفان
حاصل کر لیتی
ہے