Topics

کالی کھانسی

 

اسباب

ہوا کی نالی کی شاخوں میں غلیظ بلغم چمٹ جانا، عام کھانسی کے علاج میں عدم توجہی اور کالی کھانسی کے جراثیم اس بیماری کے اسباب ہیں۔

علامات

کالی کھانسی نظام تنفس کا ایک شدید مرض ہے جو بچوں میں عام ہے۔ مرض خشک کھانسی سے شروع ہوتا ہے۔ ایک یا دو ہفتے میں یہ خشک کھانسی دورہ والی کھانسی میں تبدیل ہو جاتی ہے اور دو ماہ تک رہتی ہے۔ کھانسی کے دورہ کے وقت سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے اور سانس نہیں آتا۔ دورہ کے دوران ہی سانس کے ساتھ تھوڑا سا گاڑھا بلغم خارج ہوتا ہے اور کھانسی رک جاتی ہے۔ دن رات میں یہ دورہ کئی مرتبہ بھی پڑ جاتا ہے۔ کھانسی کے دوران چہرہ نیلا سیاہ ہو جاتا ہے۔ کبھی قے بھی ہو جاتی ہے۔ کھالی کھانسی عام طور پر دو سال سے آٹھ سال کے بچوں کو ہوتی ہے۔ کالی کھانسی چھوت کی بیماری ہے۔ یہ کھانسی عمر میں صرف ایک بار ہوتی ہے۔

علاج

۱۔       نارنجی رنگ پانی صبح و شام

۲۔      آسمانی رنگ پانی دوپہر و رات

۳۔      زرد شعاعوں کا تیل گلے پر اور نیلی شعاعوں کا تیل سینہ پر پھیپھڑوں کی جگہ مالش کریں

۴۔      نارنجی شعاعوں کا تیل دائیں ہتھیلی کے درمیانی ابھار سے روزانہ سات منٹ تک کمر پر مالش کریں

چیچک

اسباب

چیچک کا وائرس۔

چیچک ایک متعدی مرض ہے جو ایک مریض سے دوسرے کو لگ جاتا ہے۔ عموماً یہ مرض بچوں کو ہوتا ہے لیکن بڑوں کو بھی لگ جاتا ہے۔ امیروں کی نسبت غریبوں کو اور گوروں کی نسبت کالوں کو یہ مرض زیادہ ہوتا ہے۔

علامات

چیچک کا مرض خفیف اور شدید دونوں طرح ہوتا ہے۔ بخار اور سر میں درد، کمر میں شدید درد شروع ہو جاتا ہے۔ بخار کے تیسرے روز جلد پر سرخ نشان ظاہر ہوتے ہیں۔ پہلے جسم کے کھلے حصوں پر اور پھر ہر جگہ جلد پر دانے نکل آتے ہیں۔ دانے ظاہر ہونے کے بعد بخار کی شدت کم ہو جاتی ہے۔ یہ نشان تین روز میں موٹے دانے بن جاتے ہیں۔ پھر تین روز کے بعد چھالوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور اس کے بعد ان چھالوں میں پتلی اور رقیق رطوبت پیپ نما ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد چیچک کے دانے آہستہ آہستہ سوکھ جاتے ہیں اور ان کے چھلکے جلد سے علیحدہ ہو کر گر جاتے ہیں۔ ہر چھالے کے مقام پر ایک گہرا داغ باقی رہ جاتا ہے۔ بالعموم اکثر مریض تندرست ہو جاتے ہیں لیکن چیچک کے مرض کی شدت موت کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ چیچک کے دانے ختم ہونے کے بعد بکار نہیں رہنا چاہئے اگر بخار ختم نہیں ہوا تو یہ خطرناک علامت ہے۔

چیچک کی ابتداء میں آنکھوں میں سرخی آ جاتی ہے اور آنسو بہتے ہیں۔ بچہ سوتے میں ڈرتا اور چونکتا ہے۔ چہرہ سرخ اور تمتمایا ہوا ہوتا ہے۔ کنپٹیوں کی رگیں ابھری ہوئی اور پھڑکتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ ہذیان اور غنودگی ہو جاتی ہے۔ تیسرے روز بخار کم ہوتا ہے تو پہلے پیشانی اور پھر چہرہ اور پشت پر دانے نکلتے ہیں۔ پھر ہاتھ پیر اور پورے جسم پر دانے نکل آتے ہیں۔ یہ دانے کبھی چند کبھی بہت زیادہ کبھی متفرق اور کبھی گچھوں کی طرح ہوتے ہیں، شروع میں دانوں کی رنگت سرخ ہوتی ہے۔ چہرہ پر زیادہ دانے نکلتے ہیں۔ دوسرے تیسرے روز چپٹے ابھار بن جاتے ہیں جو چھوٹے اور رائی کی طرح باریک ہوتے ہیں۔ تیسرے چوتھے روز دانوں میں رطوبت بھر جاتی ہے۔ پانچویں روز ہر ایک دانے کے گرد سرخ حلقہ بن جاتا ہے۔ رطوبت گدلی ہونے لگتی ہے۔ ساتویں آٹھویں روز اس میں پیپ پڑ جاتی ہے۔ آٹھویں روز تمام دانوں کی رطوبت پیپ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس دن پھر شدت کا بخار ہوتا ہے۔ مریض کو سانس لینے اور نگلنے میں تکلیف ہوتی ہے۔ چہرہ اور آنکھیں سوج جاتی ہیں، مریض کو ہذیان ہو جاتا ہے۔ دسویں گیارہویں روز دانے مرجھانے لگتے ہیں اور چودھویں روز تک دانے بھورے یا سیاہی مائل کھرنڈ بن جاتے ہیں۔ انیسویں روز یہ کھرنڈ اکھڑنے لگتے ہیں اور ایک یا دو ماہ تک اکھڑتے رہتے ہیں۔

علاج

چیچک نکلتے نکلتے رک گئی ہو تو سرخ رنگ کا پانی بہت مفید ہے۔ ایک دو ہی خوراک پلانے سے ابھر آتی ہے۔ اگر سرخ رنگ کی شعاعیں تین منٹ شروع میں جسم پر ڈالی جائیں تو چیچک کے دانے بہت جلد ابھر آتے ہیں۔ چیچک کے بھرپور نکل آنے کے بعد سرخ رنگ استعمال نہیں کرنا چاہئے بلکہ جس وقت دانوں میں مواد پڑ جائے اور مواد بہنے لگے تو سیل کھڑی کا سفوف ان پر چھڑکنا چاہئے اور فیروزی رنگ کا پانی صبح و شام پلانا چاہئے اور نیلے رنگ کی روشنی روزانہ تین چار منٹ تک جسم پر ڈالتے رہنا چاہئے۔ اس سے گرمی اور سوزش رفع ہو کر زخم اچھے ہو جاتے ہیں۔

حفظ ماتقدم کے طور پر بچوں کو چیچک کے ٹیکے لگانا نہایت ضروری ہے۔ ٹیکہ لگانے میں لاپرواہی نہ کریں۔ اس بیماری میں زیادہ تر وہی بچے مبتلا ہوتے ہیں جن کو بچپن میں ٹیکہ نہیں لگایا جاتا۔

Topics


Color Theraphy

خواجہ شمس الدین عظیمی

حضرت لقمان علیہ السلام کے نام

جن کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی 

 

وَ لَقَدْ اٰ تَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ اَن اشْکُرْ لِلّٰہِ

(لقمٰن۔۔۔۔۔۔۱۲)

اور ہم نے لقمان کو حکمت دی تا کہ وہ اللہ کا شکر کرے۔

اور جو بکھیرا ہے تمہارے واسطے زمین میں کئی رنگ کا اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیںo 

اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمان زمین کا بنانا اور بھانت بھانت بولیاں تمہاری اور رنگ اس میں بہت پتے ہیں بوجھنے والوں کوo 

تو نے دیکھا؟ کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح ان کے رنگ اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح ان کے رنگ اور بھجنگ کالےo

نکلتی ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے کئی رنگ ہیں اس میں آزار چنگے ہوتے ہیں لوگوں کے اس میں پتہ ہے ان لوگوں کو جو دھیان کرتے ہیںo

(القرآن)