Topics

لطیف اور کثیف وجود

 

انسان صرف مادی جسم کا نام نہیں ہے اس کے اوپر ایک اور لطیف جسم ہے۔ ہماری تخلیق لطیف اور کثیف دو جسموں سے ہوئی ہے۔ تمام حرکات اور افعال لطیف جسم کے تابع ہیں۔ ماہرین نے معالجین کی استعداد میں اضافہ کرنے کے لئے جسم کے مختلف مقامات متعین کئے ہیں۔ یہ مقامات ان حضرات کے مشاہدہ میں آ جاتے ہیں جو لطیف جسم کو دیکھ لیتے ہیں۔ لطیف جسم سے مختلف روشنیاں پھوٹتی رہتی ہیں جن کا رنگ قوس و قزح کے رنگوں کی طرح ہوتا ہے۔

معالج جب مریض کو دیکھتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ مریض کے اندر کس رنگ کی کمی یا زیادتی ہو گئی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ مرض جذبات و احساسات میں عدم توازن کی وجہ سے ہے یا بیرونی اثرات (جراثیم وغیرہ) کی وجہ سے ہے۔

پیچیدہ تصورات منفی احساسات غیر پاکیزہ خیالات اور تخریبی اعمال و حرکات سے روشنیوں کے جسم میں دھبے پڑ جاتے ہیں۔ بعد میں یہ دھبے مادی جسم میں زخم بن جاتے ہیں اور ان میں سڑاند پیدا ہو جاتی ہے۔ نتیجے میں جسم میں جراثیم یا Foreign Bodyداخل ہو جاتا ہے۔

رنگوں میں کمی و بیشی معلوم کرنے کا طریقہ

مرض کی تشخیص اور علاج تجویز کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مریض کی جسمانی اور جذباتی سطح کو پوری طرح سمجھا جائے۔ مرض کی تشخیص کے لئے معلوم ہونا چاہئے کہ جسم میں کس رنگ کی کمی واقع ہو گئی ہے تا کہ ضروری رنگ کے استعمال سے اس مرض کو رفع کیا جا سکے۔ مریض کی عادات مزاج عمل اور ردعمل کا علم ہونا بھی ضروری ہے۔

سرخ رنگ کی کمی واقع ہو جانے سے مریض سست، کاہل، کمزور اور سویا سویا سا رہتا ہے۔ قبض کی شکایت بھی ہو جاتی ہے۔ برخلاف اس کے جس شخص کے اندر نیلے رنگ کی کمی واقع ہو جائے وہ اضطراری کیفیت سے دوچار رہتا ہے۔ بات بات پر غصہ کرتا ہے اور ہر کام میں جلد بازی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

جسم میں رنگوں کی کمی بیشی کا اندازہ لگانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ مریض کی آنکھوں کے ڈیلوں Eye Ballsناخنوں اور جلد کے رنگ کا بغور مطالعہ کیا جائے۔ مثلاً اگر کسی مریض کو سرخ رنگ کی ضرورت ہے تو اس کی آنکھوں کے ڈیلے اور ناخن نیلاہٹ مائل ہوں گے، جلد کا رنگ بے رونق ہو گا، آنکھوں کے نیچے حلقے ہوں گے جب کہ جسم میں نیلی روشنی کی کمی کا اظہار آنکھوں کے ڈیلوں میں سرخی ناخنوں میں تیز سرخی اور جلد میں سرخی سے ہو گا۔

اگر جسم میں سرخی یک لخت اور بے تحاشا بڑھ جائے جیسا کہ سگ گزیدگی میں ہو تا ہے تو نیلا رنگ بار بار اور جلد جلد استعمال کرنا چاہئے۔

بعض حالتوں میں ایسا لگتا ہے کہ کوئی ایک رنگ جسم کے کسی خاص حصہ میں جمع ہو گیا ہے جیسے پھوڑا پھنسی، آشوب چشم، درد سر اور فالج وغیرہ لیکن درحقیقت وہ رنگ پورے جسم پر غالب ہوتا ہے۔ جسم کا قدرتی نظام مدافعت اس کو کسی عضو یا حصہ پر ظاہر کر کے ہماری توجہ اس زیادتی کی طرف مبذول کراتا ہے۔ ایسی صورت میں معالج کو چاہئے کہ یکسوئی کے ساتھ غور و فکر کرے کہ مریض کو کس رنگ کی ضرورت ہے۔

آنکھوں کا رنگ کبھی کبھی دھوکہ بھی دے دیتا ہے۔ جیسے آنکھوں کے سرخ ہونے میں سرخ رنگ کی کمی بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن جب بقیہ دو چیزوں کا معائنہ کیا جائے تو صحیح صورتحال سامنے آ جائے گی۔ آنکھوں کا رنگ مختلف ہوتا ہے۔ گرم ممالک کے لوگوں میں سیاہ ہوتا ہے۔ سفید فام اقوام میں ہلکا یا نیلا ہوتا ہے۔ چنانچہ اکٹھی تین چیزیں ہی صحیح صورت حال کے تعین میں رہنمائی کریں گی۔ کبھی کبھی ناخنوں میں باریک یا موٹی عمودی لکیریں ہوتی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلغم زیادہ بن رہا ہے۔ ناخن کالے ہونے کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ خون میں سوداویت بڑھ گئی ہے۔

جسم میں اگر کسی ایک رنگ کی زیادتی ہوئی ہو تو اس رنگ کو متوازن کرنے کے لئے ایسا رنگ استعمال کرنا چاہئے جو اس رنگ کی زیادتی کو معتدل کر دے۔ ایسے رنگ کی پہچان کیسے ہو؟ کون سا رنگ کس رنگ کو معتدل کرے گا؟

ان سوالات کے جوابات الہامی کتابوں میں موجود ہیں۔

’’اور ہم نے ہر چیز کو دو رخوں پر پیدا کیا۔‘‘          (القرآن)

اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ ہم نے ہر چیز کو دو رخوں پر پیدا کیا ہے مطلب یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز کی تخلیق میں دو رخ کارفرما ہیں۔ مثلاً دن رات مرد عورت خوشی غم روشنی اندھیرا سردی گرمی بہار خزاں سونا جاگنا غرضیکہ ہر تخلیق اس قانون کی پابند ہے۔ ان دو رخوں میں کبھی ایک رخ غالب ہوتا ہے اور دوسرا مغلوب اور کبھی دوسرا غالب اور پہلا مغلوب ہوتا ہے۔ رنگ اللہ کی تخلیق ہیں اور وہ بھی اسی قانون کے پابند ہیں۔

جس رنگ کو ہماری آنکھ دیکھتی ہے وہ رنگ کا غالب رخ ہوتا ہے۔ رنگ کا دوسرا رخ غالب رخ کے پس پردہ ہوتا ہے۔ مغلوب رخ کی خاصیت یہ ہے کہ وہ غالب رخ کے اثرات کو معتدل کر دیتا ہے اسی طرح غالب رخ کی خاصیت یہ ہے کہ وہ مغلوب رخ کے اثرات کو معتدل کر دیتا ہے۔

کسی رنگ کے مغلوب رخ کو دیکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس رنگ کو تھوڑی دیر کے لئے نظر جما کر دیکھیں اور پھر فوراً کسی سفید یا خاکستری سطح کو دیکھیں۔ اس سطح پر مغلوب رخ نظر آ جاتا ہے۔

رنگ کے غالب اور مغلوب رخ چونکہ ایک دوسرے کے اثرات کو معتدل بناتے ہیں اس لئے دونوں رخ ایک دوسرے کے معاون رنگ کہلاتے ہیں۔

Topics


Color Theraphy

خواجہ شمس الدین عظیمی

حضرت لقمان علیہ السلام کے نام

جن کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی 

 

وَ لَقَدْ اٰ تَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ اَن اشْکُرْ لِلّٰہِ

(لقمٰن۔۔۔۔۔۔۱۲)

اور ہم نے لقمان کو حکمت دی تا کہ وہ اللہ کا شکر کرے۔

اور جو بکھیرا ہے تمہارے واسطے زمین میں کئی رنگ کا اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیںo 

اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمان زمین کا بنانا اور بھانت بھانت بولیاں تمہاری اور رنگ اس میں بہت پتے ہیں بوجھنے والوں کوo 

تو نے دیکھا؟ کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح ان کے رنگ اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح ان کے رنگ اور بھجنگ کالےo

نکلتی ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے کئی رنگ ہیں اس میں آزار چنگے ہوتے ہیں لوگوں کے اس میں پتہ ہے ان لوگوں کو جو دھیان کرتے ہیںo

(القرآن)