Topics

استسقاء

 

اسباب و علامات

گردوں کی خرابی، دل کی بیماری اور جگر کی بیماری کی وجہ سے پیٹ میں پانی بھر جاتا ہے۔

اس بیماری میں پیٹ پھول جاتا ہے۔ بعض اوقات پانی ایک لیٹر سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔

علاج

۱۔       اسباب کے علاج کے ساتھ زرد رنگ پانی صبح و شام

۲۔      سفید رنگ پانی دوپہر و رات

۳۔      صبح کے وقت مریض کو زرد رنگ کی روشنی میں ۳۰ منٹ رکھا جائے اور رات کو سفید رنگ کی روشنی میں لٹایا جائے

۴۔      مریض کو کھلی دھوپ میں اس طرح لٹایا جائے کہ سورج کی شعاعیں مریض کی پشت پر پڑیں اتنی دیر کہ اچھی طرح سینکائی ہو جائے۔

ذیابیطس

ذیابیطس کا ذکر کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم خون میں شکر کی مقدار کو کنٹرول کرنے میں لبلبہ کے کردار کا جائزہ لیں۔

خون میں شکر کی مقدار کو توازن میں رکھنے کے لئے لبلبہ میں دو قسم کے خلیے ہیں:

۱۔       الفا خلیے: یہ ہارمون(کیمیاوی) گلوکاگون بناتے ہیں۔

۲۔      بیٹا خلیے: یہ ایک ہارمون انسولین بناتے ہیں۔

الفا اور بیٹا خلئے خون میں موجود شکر کی مقدار کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ جیسے ہی خون میں شکر کی مقدار 80mg/dlسے بڑھتی ہے۔ بیٹا خلئے انسولین خارج کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ انسولین خون میں دور کرتا ہے اور جسم کے تقریباً تمام خلیوں خصوصاً عضلات (Muscles) جگر اور چکنائی کے ذخیروں میں شکر جذب کرنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔

الفا خلیے خون میں شکر کم ہونے پر گلوکوگان (Glucagon) کا اخراج شروع کر دیتے ہیں۔ گلوکوگان جگر میں موجود شکر کے ذخیرے سے شکر خون میں پہنچا دیتا ہے۔ اس طرح خون میں شکر کی کمی پوری ہو جاتی ہے۔ ان دونوں ہارمونز کے متوازن عمل سے خون میں شکر کی مقدار صحیح رہتی ہے۔ اب ہم ذیابیطس اور اس میں ہونے والی خرابیوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔

یہ ایسا مرض ہے جس میں قطعی یا اضافی طور پر انسولین کی کمی ہو جاتی ہے۔ بنیادی ذیابیطس کی دو بڑی قسمیں ہیں۔

ذیابیطس (۱)

ذیابیطس (۲)

ذیابیطس (۱) میں انسولین تقریباً ختم ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

ذیابیطس (۲) میں انسولین کی کچھ مقدار تو جسم میں رہتی ہے لیکن کئی وجوہات کی بنا پر خلیوں پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ جس کی وجہ سے شکر ان خلیوں میں داخل نہیں ہوتی اور اس کی مقدار خون میں بڑھ جاتی ہے۔

علامات

۱۔       رات کے وقت پیشاب زیادہ آتا ہے۔

۲۔      بھوک زیادہ لگتی ہے اور کبھی کھانے کی طرف رغبت کم ہو جاتی ہے۔

۳۔      پیاس زیادہ لگتی ہے۔

۴۔      وزن کم ہو جاتا ہے۔

۵۔      تھوڑا سا کام کرنے سے مریض تھک جاتا ہے۔

۶۔      بینائی متاثر ہوتی ہے۔

ذیابیطس کا مریض طبیب کے پاس تین صورتوں کے ساتھ آتا ہے۔

۱۔       اوپر دی گئی ذیابیطس کی مخصوص علامات کے ساتھ۔

۲۔      بغیر کسی علامت کے (کسی اور وجہ سے مریض کا بلڈ شوگر چیک کرنے پر شوگر کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے۔)

ذیا بیطس کی پیچیدگیاں پیدا ہونے کے بعدمریض کسی بھی صورت میں آئے، ذیابیطس کی تشخیص کے لئے مندرجہ ذیل پیمانہ مقرر کیا گیا ہے:

۱۔       مخصوص علامات کے ساتھ ساتھ مریض کے خون میں شکر کا لیول بڑھنا۔

۲۔      دو تین روز تک صبح نہار منہ وریدی خون میں140 mg/dlسے زیادہ شکر کا اضافہ ہونا


 

ذیابیطس کی پیچیدگیاں

ذیابیطس کے مرض میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پیچیدگیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں لیکن اگر انسولین کو کم کرنے والی دواؤں کا مناسب استعمال کیا جائے تو ان پیچیدگیوں کا تدارک ہو جاتا ہے۔ جسم میں تیزابیت یا شکر کی زیادتی سے مریض کوما (Coma) میں چلا جاتا ہے۔

ذیابیطس کا مرض ۵ سال یا اس سے زیادہ عرصہ تک رہنے سے جسم کے مختلف حصوں پر خراب اثرات مرتب ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور متاثرہ حصے صحیح طرح کام نہیں کرتے۔ جسم کے مندرجہ ذیل حصے خصوصی طور پر متاثر ہوتے ہیں۔

آنکھ

اندھے پن کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ ذیابیطس ہے۔ اس مرض میں موتیا کالا پانی اور آنکھ کے پردے (Retina) میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔

گردے

۱۵ سے ۲۰ سال گزرنے پر ذیابیطس کے مریض کے گردے خراب ہو جاتے ہیں۔ پیشاب میں پروٹین خارج ہوتے ہیں یہاں تک کہ مریض کے گردے بالکل ناکارہ ہو جاتے ہیں۔

شریانیں

شریانوں کی دیوار میں چربی جمنے کا عمل (Atherosclerosis) تیز ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے شریانوں کا قطر چھوٹا ہو جاتا ہے۔ ہارٹ اٹیک انجائنا اور اسٹروک کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

اعصاب

مریض کے پیر یا ہاتھوں کی حس ختم ہو جاتی ہے۔ پاؤں یا ہاتھ چھونے کا مریض کو احساس نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی مریض اندھیرے میں صحیح طرح چل نہیں سکتا۔ مریض کا جوتا اس کے پاؤں سے اتر جاتا ہے مگر اس کو اس بات کا احساس نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ساتھ پیر میں جلن پیر سرخ ہونا، سوئیاں چبھنا وغیرہ کی کیفیات کا احساس ہوتا ہے۔ پیر کی انگلیوں کی جڑوں میں چیونٹیاں کاٹتی رہتی ہیں۔ پیروں میں زخم بن جاتے ہیں لیکن مریض کو احساس نہیں ہوتا۔ ان زخموں میں پیچیدگی پیدا ہونے پر پیر میں ناسور بن جاتا ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لئے ضروری ہے کہ اپنے پیروں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔

علاج

۱۔       جامنی رنگ پانی صبح وشام

۲۔      آسمانی رنگ پانی کھانے سے پہلے

۳۔      زرد رنگ پانی دوپہر و رات کھانے کے بعد

۴۔      کمر میں اوپر کے مہروں (Lumbar Vertebrae) پر پانچ منٹ تک زرد تیل کی مالش کریں۔

ریڑھ کی ہڈی پر دس منٹ تک جامنی رنگ کی روشنی اور دس منٹ تک زرد رنگ کی روشنی ڈالیں۔

Topics


Color Theraphy

خواجہ شمس الدین عظیمی

حضرت لقمان علیہ السلام کے نام

جن کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی 

 

وَ لَقَدْ اٰ تَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ اَن اشْکُرْ لِلّٰہِ

(لقمٰن۔۔۔۔۔۔۱۲)

اور ہم نے لقمان کو حکمت دی تا کہ وہ اللہ کا شکر کرے۔

اور جو بکھیرا ہے تمہارے واسطے زمین میں کئی رنگ کا اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیںo 

اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمان زمین کا بنانا اور بھانت بھانت بولیاں تمہاری اور رنگ اس میں بہت پتے ہیں بوجھنے والوں کوo 

تو نے دیکھا؟ کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح ان کے رنگ اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح ان کے رنگ اور بھجنگ کالےo

نکلتی ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے کئی رنگ ہیں اس میں آزار چنگے ہوتے ہیں لوگوں کے اس میں پتہ ہے ان لوگوں کو جو دھیان کرتے ہیںo

(القرآن)