Topics
سائنس کے مختلف شعبوں میں
تحقیق و جستجو نت نئی دریافتوں کا پیش خیمہ بن رہی ہے۔ سائنس دانوں کی زیادہ توجہ کا
مرکز انسانی دماغ ہے۔ سائنس دانوں کے بقول دماغ ایک ایسے خزانے کا بکس ہے جس کی کنجی
گم ہو گئی ہے۔ اگر یہ بکس کسی طرح سے کھول لیا جائے تو انفس کی گہرائیوں اور آفاق کی
بلندیوں میں چھپے ہوئے تمام راز آشکارا ہو سکتے ہیں۔
نیورو سائنس کے محققین آج
کل نومولود بچوں کے دماغی خلیوں پر ریسرچ میں مصروف ہیں۔ گذشتہ دنوں ۴ سائنس دانوں کو مختلف حساس آلات کے ذریعہ ایک آواز سنائی دی۔
ریٹ اے ٹیٹ ٹیٹ، ریٹ اے ٹیٹ
ٹیٹ، ریٹ اے ٹیٹ ٹیٹ۔
یہ آوازیں رحم مادر میں تخلیق
پانے والے بچے کے دماغی خلیوں کی تھیں۔ سائنس دانوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ رحم
مادر میں پرورش پانے والے بجے کے دماغ کے خلیے مسلسل مختلف کاموں میں مصروف ہیں اور
اپنے کاموں کی انجام دہی کیلئے برقی سگنل دوسرے خلیوں کو فراہم کر رہے ہیں۔ حساس آلات
کے ذریعہ جو آوازیں سنی گئیں وہ ان ہی برقی سگنلوں کی تھیں۔
مختلف لوگ دماغ کو کمپیوٹر
سے مشابہ قرار دیتے ہیں۔ کمپیوٹر، آپریٹر یا پروگرامر کا محتاج ہے۔ انسانی دماغ کے
خلیے کائناتی نظام کے کسی حصے سے انسپائریشن لے کر از خود سارے کام کی پلاننگ پیدائش
سے قبل ہی شروع کر دیتے ہیں۔ بچہ ماں کے پیٹ میں اپنے باپ اور ماں کی آوازوں اور لمس
سے آشنا ہو جاتا ہے۔
دماغی خلیے اپنے کاموں کے
سلسلے میں دوسرے خلیوں کو برقی پیغام بھیجتے رہتے ہیں اور مسلسل رابطہ رکھتے ہیں۔ یہاں
تک کہ ایک دوسرے کے دوست بن جاتے ہیں اور بچے کی پیدائش سے قبل کے تمام مرحلے باآسانی
طے ہو جاتے ہیں۔
جب بچہ رحم مادر سے باہر آ
کر عالم رنگ و بو میں آنکھیں کھولتا ہے تو اس وقت بچے کے دماغ میں دو کھرب نیورون ہوتے
ہیں یعنی دو کہکشاؤں میں جتنے سیارے ہوتے ہیں۔
پیدائش سے قبل انسانی دماغ
ضروریات سے متعلق اپنے لئے سرکٹ کی تکمیل میں لگا رہتا ہے۔ سماعت بصارت گویائی وغیرہ
کے لئے دماغ پیدائش سے پہلے ہی تمام پروگرامنگ مکمل کر لیتا ہے۔ اب یہ والدین رشتہ
داروں اور معاشرہ پر منحصر ہے کہ وہ بچے کے دماغ میں موجود مختلف پروگراموں میں سے
کتنے پروگرامز آن کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر اگر ماں باپ
بچے کی پیدائش کے بعد سے تین سال تک اس کے ہاتھ کو اس طرح باندھ کر چھوڑ دیں کہ وہ
حرکت ہی نہ کر سکے تو بچے کا ہاتھ ساری زندگی کے لئے مفلوج ہو جائے گا۔ کیونکہ دماغ
نے اس ہاتھ سے متعلق جو پروگرامنگ کی تھی اسے آن نہیں کیا گیا۔ اس سلسلے میں سائنس
دان مختلف تجربات میں مصروف ہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ وہ بچے جن پر زندگی کے ابتدائی
تین سالوں میں بہت کم توجہ دی جاتی ہے وہ ذہنی بلوغت میں ۲۰ سے ۳۰ فیصد تک پیچھے رہ جاتے ہیں۔ معالجین
والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بچے کے ابتدائی تین سالوں کو نہایت اہمیت کا حامل سمجھیں۔
یہ بات غلط ہے کہ بچے کا ذہن خالی سلیٹ کی مانند ہوتا ہے بلکہ دماغ میں کائنات کی پوری
معلومات موجود ہیں۔
عموماً چھ یا سات ماہ میں
بچے کے دانت نکلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس زمانے میں خاص احتیاط ضروری ہے۔ شروع میں مختلف
تکالیف ہوتی ہیں۔ مثلاً رال بہتی ہے، سر اور کنپٹیوں میں درد ہونے کی وجہ سے بچہ بار
بار سر کو ادھر ادھر ہلاتا ہے۔ کبھی ہلکا بخار بھی ہو جاتا ہے۔ پیاس زیادہ لگتی ہے،
قبض ہو جاتا ہے، دست آنے لگتے ہیں، آنکھیں دکھتی ہیں، کبھی سبز اور کبھی گہرے زرد رنگ
کے دست آتے ہیں۔ بچہ دودھ مشکل سے پیتا ہے اور نہایت ضعیف اور نڈھال ہو جاتا ہے۔
علاج
۱۔ بچے کو زیادہ تر نیلے رنگ
کی روشنی میں رکھیں
اس کا طریقہ یہ ہے کہ کمرے
کے روشن دانوں میں نیلے رنگ کا شیشہ یا نیلے رنگ کی پلاسٹک شیٹ اس طرح لگائیں کہ کمرہ
میں مخصوص جگہ نیلے رنگ کا شیڈ (Shade) پڑے۔ نیلے رنگ کی اس روشنی میں بچہ کو دن میں
زیادہ وقت لٹائیں اور اسی روشنی میں کھیل کود میں مصروف رکھیں۔
۲۔ نیلا رنگ پانی شام کھانے
سے پہلے
۳۔ زرد رنگ پانی صبح و شام
نوٹ: خوراک کا تعین عمر کی
مناسبت سے کریں۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
حضرت لقمان
علیہ السلام کے نام
جن کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی
وَ لَقَدْ اٰ
تَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ اَن اشْکُرْ لِلّٰہِ
(لقمٰن۔۔۔۔۔۔۱۲)
اور ہم
نے لقمان کو حکمت دی تا کہ وہ اللہ کا شکر کرے۔
اور جو بکھیرا ہے تمہارے واسطے زمین میں کئی رنگ کا اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیںo
اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمان زمین کا بنانا اور بھانت بھانت بولیاں تمہاری اور رنگ اس میں بہت پتے ہیں بوجھنے والوں کوo
تو نے دیکھا؟ کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح ان کے رنگ اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح ان کے رنگ اور بھجنگ کالےo
نکلتی ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے کئی رنگ ہیں اس میں آزار چنگے ہوتے ہیں لوگوں کے اس میں پتہ ہے ان لوگوں کو جو دھیان کرتے ہیںo
(القرآن)