Topics
جلد میں تین پرت ہوتے ہیں۔
ایک نہایت نازک اور ایک دبیز نازک پرت کے متاثر ہو جانے سے موتی جھرہ وغیرہ کے امراض
ہوتے ہیں اور دبیز پرت کے متاثر ہونے سے داد چنبل پھوڑے اور پھنسیاں وغیرہ نکلتے ہیں۔
جسم میں تین قسم کی برقی رو
دوڑتی رہتی ہے۔ ان میں سے ایک رو جلد کے پہلے اور دوسرے حصہ کو قطعی متاثر نہیں کرتی۔
دوسری رو صرف دوسرے پرت کو متاثر کرتی ہے پہلے پر اثر نہیں ڈالتی۔ تیسری رو صرف پہلے
پرت پر اثر ڈالتی ہے۔ اس مناسبت سے مرض میں شدت یا کمی واقع ہوتی رہتی ہے۔ برقی رو
کے تاثر سے پیدا ہونے والے امراض اڑ کرلگتے ہیں۔
جب سورج کی روشنی کے ذریعہ
برقی رو جتنی کہ جسم پر پڑنی چاہئے اتنی نہیں پڑتی بلکہ اس میں زیادتی ہو جاتی ہے تو
جلد کے تیسرے پرت سے جلدی امراض شروع ہوتے ہیں مثلاً چیچک وغیرہ۔
اگر اعتدال کے ساتھ کمی ہوتی
ہے تو جلد کے دوسرے پرت سے امراض شروع ہوتے ہیں جیسے خسرہ وغیرہ۔
اگر دھوپ جسم تک کم مقدار
میں پہنچتی ہے تو جسم کے پہلے پرت سے جلدی امراض شروع ہوتے ہیں جیسے موتی جھرہ وغیرہ۔
اسباب
دھوپ کی تمازت زیادہ گرمی
ماہانہ نظام کی خرابی فساد خون اور حمل کے دوران یہ مرض لاحق ہوتا ہے۔
علامات
چہرے پر چھوٹے چھوٹے بھورے
رنگ کے سیاہی مائل داغ پڑ جاتے ہیں۔ یہ داغ ہاتھوں کی پشت پر بھی نمایاں ہوتے ہیں۔
کبھی غائب ہو جاتے ہیں کبھی ہلکے سیاہ رنگ میں سیاہ رنگ غالب ہو جاتا ہے۔ ان سیاہ دانوں
کی وجہ سے چہرہ کی خوبصورتی متاثر ہوتی ہے اور چہرہ اچھا نہیں لگتا۔
علاج
۱۔ نیلا رنگ پانی صبح و شام
۲۔ سبز رنگ پانی دوپہر و رات
۳۔ زرد رنگ پانی دوپہر کھانے
کے بعد
۴۔ ناف کے مقام پر پانچ منٹ
گلابی روشنی ڈالیں
۵۔ دس دس منٹ کیلئے وقفہ وقفہ
سے نیلی اور سبز رنگ روشنی چہرہ پر ڈالیں
۶۔ ماہانہ نظام میں خرابی ہو
تو کولہوں کے جوڑ پر نیلی شعاعوں کا تیل اور ناف کے چاروں طرف جامنی شعاعوں کا تیل
مالش کریں۔ اگر نیلی شعاعوں اور جامنی شعاعوں کا تیل استعمال کیا جائے تو گلابی رنگ
کی روشنی نہ ڈالیں۔
اسباب
یہ مرض جوانی میں زیادہ ہوتا
ہے۔ خون کی گرمی، ہاضمہ کا فتور، گرم غذاؤں کا زیادہ استعمال، حیض میں کمی سے چہرے
پر کیل مہاسے نکل آتے ہیں۔ کبھی کبھار حمل کے دنوں میں بھی یہ مرض ہو جاتا ہے۔ میلا
کچیلا رہنے لباس اور چہرہ صاف نہ رکھنے، ثقیل اور Unhygienicغذائیں کھانے
سے بھی کیل مہاسے نکل آتے ہیں۔
علامات
اس مرض میں چھوٹے نوکیلے دانے
چہرے گردن یا سینہ پر پیدا ہوتے ہیں۔ جب یہ دانے پک جاتے ہیں تو ان میں سے کیل نکل
آتے ہیں اور تھوڑی سی پیپ بھی خارج ہوتی ہے۔ جب چکنائی پیدا کرنے والے غدود کی رطوبت
بند ہو جاتی ہے تب بھی کیل نکل آتے ہیں۔
علاج
۱۔ فیروزی رنگ پانی صبح و
شام
۲۔ زرد رنگ پانی دوپہر و رات
۳۔ 9x12انچ شیشے پر آسمانی رنگ پینٹ
کروا کر صبح ناشتہ سے پہلے ۱۰ منٹ تک دیکھیں
۴۔ رحم کے کسی مرض کی وجہ سے
کیل مہاسے نکلتے ہوں تو قرمزی رنگ صبح شام دیں
۵۔ جوان لڑکیوں کے چہرہ پر
اکثر کیل دانے نکلتے ہیں۔ ان دانوں میں خارش ہوتی ہے، پیپ کی کیل بن جاتی ہے۔ دانوں
کو توڑ کر کیل(Pus) نہیں نکالنی چاہئے۔ اس عمل سے چہرہ پر داغ پڑ جاتے ہیں جو دوا سے
ٹھیک نہیں ہوتے۔ سرخ شعاعوں کا تیل داغوں کے اندر جذب کرنے سے داغ ختم ہو جاتے ہیں۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
حضرت لقمان
علیہ السلام کے نام
جن کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی
وَ لَقَدْ اٰ
تَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ اَن اشْکُرْ لِلّٰہِ
(لقمٰن۔۔۔۔۔۔۱۲)
اور ہم
نے لقمان کو حکمت دی تا کہ وہ اللہ کا شکر کرے۔
اور جو بکھیرا ہے تمہارے واسطے زمین میں کئی رنگ کا اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیںo
اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمان زمین کا بنانا اور بھانت بھانت بولیاں تمہاری اور رنگ اس میں بہت پتے ہیں بوجھنے والوں کوo
تو نے دیکھا؟ کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح ان کے رنگ اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح ان کے رنگ اور بھجنگ کالےo
نکلتی ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے کئی رنگ ہیں اس میں آزار چنگے ہوتے ہیں لوگوں کے اس میں پتہ ہے ان لوگوں کو جو دھیان کرتے ہیںo
(القرآن)