Topics

دھنک رنگ

 

جیسے کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ رنگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان کی افادیت بھی زیادہ ہے۔ ہم یہاں دھنک کے سات رنگوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آسمانی رنگ

آسمانی رنگ حقیقت میں کوئی رنگ نہیں ہے بلکہ یہ ان کرنوں کا مجموعہ ہے جو ستاروں سے آتی ہیں جیسے کہ پہلے عرض کیا گیا ہے کہ کہیں بھی ان ستاروں کا فاصلہ پانچ (۵) نوری سال سے کم نہیں ہے (ایک کرن ایک لاکھ چھیاسی ہزار دو سو(186200)میل فی سیکنڈ سے سفر کرتی ہے)۔ اسی طرح نوری سال کا حساب لگایا جا سکتا ہے۔ ہر ستارہ کی روشنی سفر کرتی ہے اور سفر کے دوران ایک دوسرے سے ٹکراتی ہے۔ ان میں ایک کرن کا کیا نام رکھا جائے، یہ انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ نہ انسان کرن کے رنگ کو آنکھوں میں جذب کر سکتا ہے۔ یہ کرنیں مل جل کر جو رنگ بناتی ہیں وہ تاریک ہوتا ہے اور اس تاریکی کو نگاہ آسمانی محسوس کرتی ہے۔ انسان کے سر میں اس کی فضا سرایت کر جاتی ہے۔ نتیجہ میں وہ لاتعداد خلیے جو انسان کے سر میں موجود ہیں اس فضا سے معمور ہو جاتے ہیں اور یہاں تک معمور ہوتے ہیں کہ ان خلیوں میں مخصوص کیفیات کے علاوہ کوئی کیفیت سما نہیں سکتی یا تو یہ خلیے کی ایک کیفیت ہوتی ہے یا کئی خلیوں میں مماثلت پائی جاتی ہے اور ان کی وجہ سے ایک دوسرے کی کیفیات شامل ہو جاتی ہیں لیکن یہ اس طرح کی شمولیت نہیں ہوتی کہ بالکل مدغم ہو جائے بلکہ اپنے اپنے اثرات لے کر خلط ملط ہو جاتی ہے اور اس طرح دماغ کے لا تعداد خلیے ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتے ہیں اور یہاں تک پیوست ہو جاتے ہیں کہ ہم کسی خلیے کا عمل یا ردعمل ایک دوسرے سے الگ نہیں کر سکتے بلکہ وہ مل جل کر وہم کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ انسان توہماتی جانور ہے تو بے جا نہیں ہو گا۔ خلیوں کی یہ فضا توہمات کہلا سکتی ہے یا خیالات یا محسوسات۔ یہ توہماتی فضا دماغی ریشوں میں سرایت کر جاتی ہے ایسے ریشے جو باریک ترین ہیں۔

خون کی گردش رفتار ان میں تیز تر ہوتی ہے۔ اسی گردش رفتار کا نام انسان ہے۔ خون کی نوعیت اب تک جو کچھ سمجھی گئی ہے۔ فی الواقع اس سے کافی حد تک مختلف ہے۔ آسمانی فضا سے جو تاثرات دماغ کے اوپر مرتب ہوتے ہیں وہ ایک بہاؤ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور حقیقت میں ان کو توہمات یا خیالات کے سوا اور کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔ جب آسمانی رنگ کی فضا خون کی رو بن جاتی ہے تو اس کے اندر وہ حلقے کام کرتے ہیں جو دوسرے ستاروں سے آئے ہیں۔ وہ حلقے چھوٹے سے چھوٹے ہوتے ہیں اس قدر چھوٹے کہ کسی مادی ذریعہ سے انہیں نہیں دیکھا جا سکتا۔ لیکن ان کے تاثرات عمل کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اعصاب میں وہی حرکات بنتے ہیں اور انہی کی زیادتی یا کمی اعصابی نظام میں خلل پیدا کرتی ہے۔

یہیں سے رنگوں کا فرق شروع ہوتا ہے۔ ہلکا آسمانی رنگ بہت ہی کمزور قسم کا وہم پیدا کرتا ہے۔ یہ وہم دماغی فضا میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ اس طرح کہ ایک ایک خلیہ میں درجنوں آسمانی رنگ کے عکس (Shadow) ہوتے ہیں۔ یہ عکس الگ الگ تاثرات رکھتے ہیں۔ وہم کی پہلی رو خاص کر بہت ہی کمزور ہوتی ہے۔ جب یہ رو دو یا دو سے زیادہ چھ تک ہو جاتی ہے تو اس وقت ذہن اپنے اندر وہم کو محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ وہم اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ اگر جنبش نہ کرے اور ایک جگہ مرکوز رہے تو آدمی نہایت تندرست رہتا ہے۔ اسے کوئی اعصابی کمزوری نہیں ہوتی بلکہ اس کے اعصاب صحیح سمت میں کام کرتے ہیں۔ اس رو کا اندازہ بہت ہی شاذ ہوتا ہے۔ اگر یہ رو کسی ایک ذرہ پر یا کسی ایک سمت میں یا کسی ایک رخ پر مرکوز ہو جائے اور تھوڑی دیر بھی مرکوز رہے تو دور دراز تک اپنے اثرات مرتب کرتی ہے۔

اس رو کا پہلا اثر دماغ پر ہوتا ہے۔ جہاں سے ام الدماغ کے ذریعہ اسپائنل کارڈ میں سرایت کر جاتا ہے اور باریک ترین ریشوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ اس تصرف یا تقسیم سے حواس بنتے ہیں۔ حواس میں سب سے پہلی حس نگاہ ہے، آنکھ کی پتلی پر جب کوئی عکس پڑتا ہے تو وہ دماغ کے باریک ترین ریشوں میں سنسناہٹ پیدا کر دیتا ہے یہ ایک مستقل برقی رو ہے۔ اگر اس کا رخ صحیح ہے تو آدمی بالکل صحت مند ہے۔ اگر اس کا رخ صحیح نہیں ہے تو دماغ کی فضا کا رنگ گہرا ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ دماغ میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے اور اعصاب اس رنگ کے پریشر کو برداشت نہیں کر سکتے۔ آخر میں یہ رنگ اتنا گہرا ہو جاتا ہے کہ اس میں تبدیلیاں واقع ہو جاتی ہیں۔ مثلاً آسمانی رنگ سے نیلا رنگ بن جاتا ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ درمیان میں جو مرحلے پڑتے ہیں وہ بے اثر نہیں ہیں۔ سب سے پہلے مرحلے کے زیر اثر آدمی کچھ وہمی ہو جاتا ہے۔اس طرح یکے بعد دیگرے مرحلے رونما ہوتے رہتے ہیں رنگ گہرا ہو جاتا ہے اور وہم کی قوتیں بڑھ جاتی ہیں۔ باریک ترین ریشے بھی اس تصرف کا اثر قبول کرتے ہیں۔ اب کیفیت مختلف اعصاب میں مختلف شکلیں پیدا کر دیتی ہے۔ باریک اعصاب میں بہت ہلکی اور معمولی اور تنومند اعصاب میں مضبوط اور طاقتور۔ اسی طرح یہ مرحلے گہرے نیلے رنگ میں تبدیلیاں شروع کر دیتے ہیں۔

Topics


Color Theraphy

خواجہ شمس الدین عظیمی

حضرت لقمان علیہ السلام کے نام

جن کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی 

 

وَ لَقَدْ اٰ تَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ اَن اشْکُرْ لِلّٰہِ

(لقمٰن۔۔۔۔۔۔۱۲)

اور ہم نے لقمان کو حکمت دی تا کہ وہ اللہ کا شکر کرے۔

اور جو بکھیرا ہے تمہارے واسطے زمین میں کئی رنگ کا اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیںo 

اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمان زمین کا بنانا اور بھانت بھانت بولیاں تمہاری اور رنگ اس میں بہت پتے ہیں بوجھنے والوں کوo 

تو نے دیکھا؟ کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح ان کے رنگ اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح ان کے رنگ اور بھجنگ کالےo

نکلتی ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے کئی رنگ ہیں اس میں آزار چنگے ہوتے ہیں لوگوں کے اس میں پتہ ہے ان لوگوں کو جو دھیان کرتے ہیںo

(القرآن)