Topics
اسباب
جگر کے ورم کی کئی وجوہات
ہیں۔ اس میں وائرس بیکٹیریا زہریلے مادے، دوائیں، شراب اور جسم میں ہونے والے کیمیاوی
توڑ پھوڑ (Catabolism) کی بیماریاں شامل ہیں۔ موجودہ دور میں اس کی
عام وجہ ہیپاٹائٹس (Hepatitis) وائرس ہے۔
علامات
اس وائرس کی وجہ سے ہونے والے
ورم مختلف درجات میں مریض پر ظاہر ہوتے ہیں۔ مثلاً حاد (Acute) یا مزمن (Chronic)۔
۱) حاد ورم:
بھوک کی کمی، متلی، قے، تھکن،
نزلے یا فلو کی سی کیفیات کا ہونا، بخار ہونا، جگر کا بڑھ جانا، جگر میں درد اور یرقان
کا ہونا۔ اس مرض میں مریض غیر مخصوص علامات مثلاً بھوک کی کمی، متلی اور تھکن کی شکایت
کرتا ہے۔ کچھ دن گزر جانے کے بعد پیٹ کے اوپری حصے میں دائیں طرف درد شروع ہو جاتا
ہے۔ اس کے بعد یرقان ہو جاتا ہے۔ یرقان شروع ہوتے ہی غیر مخصوص علامات (بھوک کی کمی
تھکن قے متلی) میں زیادتی ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اس مرض میں پرہیز کے ساتھ علاج میں
تقریباً ۹ سے ۱۶ ہفتے لگ جاتے ہیں۔
۲) مزمن ورم:
اگر ۶ مہینے یا زیادہ عرصے تک جگر پر ورم رہے تو اس مرض کو مزمن ورم کہتے ہیں۔
ایسی حالت میں جگر بڑھ جاتا ہے۔ پیٹ کے دائیں طرف درد ہوتا ہے اور یرقان ہو جاتا ہے۔
علاج
۱۔ فیروزی رنگ پانی صبح وشام
۲۔ زرد رنگ پانی کھانا کھانے
سے آدھا گھنٹہ پہلے
۳۔ سفید رنگ پانی کھانے کے
بعد
۴۔ آسمانی رنگ کی روشنی پیٹ
کے دائیں طرف جگر کے مقام پر روزانہ پندرہ منٹ تک ڈالیں
۵۔ زرد شعاعوں کا تیل جگر کی
جگہ پیٹ پر مالش کریں
۶۔ مالش کے لئے مرہم زرد بھی
استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ ایسی بیماری ہے جس میں
جگر کی مختلف بیماریوں کی وجہ سے جگر کے اندر ریشے بن جاتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی گلٹیاں
بن جاتی ہیں اور جگر سخت ہو کر سکڑ جاتا ہے۔ جگر کے افعال میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔
یہاں تک کہ جگر کی کارکردگی ختم ہو جاتی ہے۔
اسباب
شراب کی زیادتی، جگر کا ورم،
جگر کی چوٹ تیز ناقابل برداشت دوائیں صفرا کی نالیوں کا سکڑنا۔
علامات
شروع میں جگر بڑھ جاتا ہے
اور بعد میں سکڑ کر سخت ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہونا شروع
ہو جاتی ہیں۔
یرقان جلد پر لال نشانات مردوں
میں پستان کا ابھر آنا، خصیوں کا سوکھ جانا، جسم پر بالوں کی کمی، عضلات کا سوکھ جانا،
جسم پر ورم اور نیل کے نشانات اور سانس میں ایک مخصوص بو کا شامل ہونا۔ اس کے علاوہ
پیٹ میں پانی جمع ہو جاتا ہے، تلی بڑھ جاتی ہے۔ عورتوں میں ایام کی بے قاعدگی ایام
ختم ہونے اور پستان سوکھ جانے کی شکایت ہو جاتی ہے۔ ان علامات کے علاوہ مریض کو کمزوری
تھکن، وزن کی کمی اور متلی کی شکایت رہتی ہے۔ عام طور پر اس مرض میں بخار نہیں ہوتا۔
اگر بخار ہو تو کسی انفیکشن کی علامت ہے۔
جگر کا مرض پرانا ہو جائے
تو مندرجہ ذیل پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ خون کی الٹیاں آتی ہیں، تلی بڑھ جاتی ہے،
پیٹ میں پانی بھر جاتا ہے (استسقاء)، جگر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور گردے متاثر ہو
جاتے ہیں۔
یہ طویل عرصہ تک قائم رہنے
والی بیماری ہے۔ میڈیکل سائنس کے مطابق اس کا علاج ممکن نہیں ہے۔ اس مرض میں صرف ۵۰ فیصد لوگ ۲ سال تک زندہ رہتے ہیں۔
علاج
۱۔ آسمانی رنگ پانی صبح و
شام
۲۔ سبز رنگ پانی صبح و شام
کھانے کے بعد
۳۔ زرد رنگ پانی دوپہر کھانے
سے پہلے
۴۔ نارنجی رنگ پانی شام کھانے
سے ایک گھنٹہ پہلے
۵۔ جگر کے مقام پر آسمانی رنگ
کی روشنی پندرہ منٹ تک ڈالیں
بیماری کی وجہ سے ہونے والی
جنسی پیچیدگیوں کے لئے جامنی تیل کولہوں کے جوڑ پر اینٹی کلاک وائز (Anti Clock Wise) دائروں کی سورت میں پانچ
منٹ تک مالش کریں۔
استسقاء اگر ہو گیا ہو تو
اس کا علاج کریں۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
حضرت لقمان
علیہ السلام کے نام
جن کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی
وَ لَقَدْ اٰ
تَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ اَن اشْکُرْ لِلّٰہِ
(لقمٰن۔۔۔۔۔۔۱۲)
اور ہم
نے لقمان کو حکمت دی تا کہ وہ اللہ کا شکر کرے۔
اور جو بکھیرا ہے تمہارے واسطے زمین میں کئی رنگ کا اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیںo
اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمان زمین کا بنانا اور بھانت بھانت بولیاں تمہاری اور رنگ اس میں بہت پتے ہیں بوجھنے والوں کوo
تو نے دیکھا؟ کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح ان کے رنگ اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح ان کے رنگ اور بھجنگ کالےo
نکلتی ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے کئی رنگ ہیں اس میں آزار چنگے ہوتے ہیں لوگوں کے اس میں پتہ ہے ان لوگوں کو جو دھیان کرتے ہیںo
(القرآن)