Topics
اسباب
ذہنی درماندگی، دماغی کشمکش،
اعصابی کشاکش، مستقبل کا خوف، احساس کمتری یا احساس برتری میں شدت مصائب و پریشانیاں
بڑھنے اور قناعت نہ ہونے سے یہ بیماری بڑھ جاتی ہے۔
علامات
جس طرح چھوٹی آنت میں سوزش
و زخم ہو جاتے ہیں بالکل اسی طرح بڑی آنت میں بھی سوزش اور زخم ہو جاتے ہیں۔ لیکن بڑی
آنت کی سوزش عام طور پر بڑی آنت تک ہی محدود رہتی ہے۔
مندرجہ ذیل علامات وقفہ وقفہ
سے پیدا ہوتی ہیں۔
دستوں میں خون کی آمیزش، بخار،
وزن کی کمی، کبھی کبھی پیٹ میں درد، نچلے پیٹ میں بائیں طرف پیٹ دبانے سے پیٹ میں دکھن
ہوتی ہے۔ رانوں پر گوشت اور پٹھوں کو دبانے سے تکلیف ہوتی ہے۔ پنڈلیوں میں اینٹھن ہوتی
ہے۔ مرض پرانا ہونے سے مندرجہ ذیل پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
۱۔ معدنیات کی کمی ہو جاتی
ہے۔
۲۔ آنتوں میں سوراخ بن جاتے
ہیں۔
اس کے علاوہ جسم میں تقریباً
وہی علامات پائی جاتی ہیں جو چھوٹی آنت کی سوزش میں پائی جاتی ہیں۔
علاج
۱۔ نیلا رنگ پانی صبح و شام
کھانے کے بعد
۲۔ زیتونی رنگ پانی صبح، دوپہر،
شام کھانے سے پہلے
۳۔ زرد رنگ پانی دوپہر، رات
۴۔ 9 x 12انچ شیشہ پر نیلا رنگ پینٹ
کروا کر صبح و شام کھانے سے پہلے دس دس منٹ دیکھا کریں۔
نوٹ: ایکسرے اور الٹراساؤنڈ
کرانے کے بعد اگر بڑی آنت میں رکاوٹ ہو یا اوپری سطح پر پھوڑے کی طرح آنت ایک یا کئی
جگہ سے پھول جائے اور غذا(Pass) نہ ہوتی ہو تو فوراً سرجن سے رجوع کیا جائے۔
اسباب
زیادہ بیٹھے رہنا، قبض، زیادہ
گوشت کھانا، تیز مرچ مصالحہ دار غذائیں، حبس ریاح۔ وضو قائم رکھنے کے لئے بول و براز
اور اخراج ریاح پر غیر فطری کنٹرول کرنے سے بھی خونی و بادی بواسیر ہو جاتی ہے۔ خواتین
میں دوران حمل یہ مرض لاحق ہو سکتا ہے۔
علامات
مقعد کی دیواروں میں موجود
وریدوں کا جال کمزور ہو کر پھیل جاتا ہے اور یہ وریدیں مقعد کے ذریعے باہر نکل آتی
ہیں اس کو مسے کہتے ہیں۔ ان میں نہایت شدت کا درد اور تکلیف پیدا ہو جاتی ہے۔ خون کی
گرمی اور خشکی ان کو پھاڑ دیتی ہے جس کی وجہ سے خون کا ترشح ہو جاتا ہے۔ بسا اوقات
سخت تکلیف کے باعث مقعد پر ورم بھی ہو جاتا ہے۔ پاخانہ کرتے وقت مسوں اور پھولی ہوئی
رگوں پر دباؤ پڑنے سے تکلیف اور درد کے علاوہ خون بہنے لگتا ہے۔ خون کبھی پاخانہ کے
ساتھ ملا ہوا آتا ہے اور کبھی قطرہ قطرہ ٹپکتا ہے۔ کسی وقت خون بہت زیادہ خارج ہو جاتا
ہے جس کی وجہ سے مریض بے ہوش ہو جاتا ہے۔ درد میں شدت اور سخت تکلیف کے باعث مسے متورم
ہو کر مقعد سے باہر نکل آتے ہیں۔ مقعد کے مقام پر بوجھ، خارش اور جلن ہوتی ہے۔ بواسیر
کے مسے کبھی اندر ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں دوا لگانے میں تکلیف اور جلن ہوتی ہے اور
جب مسے باہر ہوں تو دوا آسانی سے لگائی جا سکتی ہے۔
علاج
۱۔ زرد رنگ پانی صبح و شام
۲۔ آسمانی رنگ پانی دن میں
دو بار
۳۔ پندرہ منٹ کے لئے مسوں پر
آسمانی رنگ کی روشنی ڈالیں۔ بلب تقریباً W100 کا ہو اور بلب کا فاصلہ ۴ فٹ کے قریب ہو نیلے رنگ کے پانی
میں Bandageکی گدی بھگو کر بار بار مسوں پر رکھیں۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
حضرت لقمان
علیہ السلام کے نام
جن کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی
وَ لَقَدْ اٰ
تَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ اَن اشْکُرْ لِلّٰہِ
(لقمٰن۔۔۔۔۔۔۱۲)
اور ہم
نے لقمان کو حکمت دی تا کہ وہ اللہ کا شکر کرے۔
اور جو بکھیرا ہے تمہارے واسطے زمین میں کئی رنگ کا اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیںo
اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمان زمین کا بنانا اور بھانت بھانت بولیاں تمہاری اور رنگ اس میں بہت پتے ہیں بوجھنے والوں کوo
تو نے دیکھا؟ کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح ان کے رنگ اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح ان کے رنگ اور بھجنگ کالےo
نکلتی ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے کئی رنگ ہیں اس میں آزار چنگے ہوتے ہیں لوگوں کے اس میں پتہ ہے ان لوگوں کو جو دھیان کرتے ہیںo
(القرآن)