Topics
مریض دورہ پڑنے سے پہلے ہیجانی
کیفیت میں ہوتا ہے۔ مریض کے ہاتھ مڑ کر اکڑ جاتے ہیں، ٹانگیں اکڑ کر سیدھی ہو جاتی
ہیں، منہ سے ایک چیخ نکلتی ہے اور بے ہوشی طاری ہو جاتی ہے۔ مریض زمین پر گر جاتا ہے۔
اس کی آنکھیں پھیل جاتی ہیں۔ یہ دورہ ۱۰ سیکنڈ سے ۳۰ سیکنڈ تک رہتا ہے۔ مریض کے چہرے
اور ہاتھ پاؤں میں شدید جھٹکے لگتے ہیں۔ مریض اپنی زبان چبا لیتا ہے اور اس کا پیشاب
یا پاخانہ نکل جاتا ہے۔ یہ دورہ ایک سے پانچ منٹ تک رہتا ہے۔
دورہ ختم ہونے کے بعد مریض
گہری بے ہوشی میں چلا جاتا ہے۔ ہاتھ پیر اور جبڑا ڈھیلا پڑ جاتا ہے۔ ہوش میں آنے پر
سر درد پریشانی عضلات میں درد وغیرہ کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ حالت کچھ منٹ سے کئی
گھنٹوں تک طاری رہتی ہے۔
جب خلیوں میں برقی رو کا تصرف
ہوتا ہے اور یہ رو کی شکل اختیار کر کے ایک دوسرے سے ٹکراتا ہے تو اس ٹکراؤ سے بے شمار
رنگ بنتے ہیں۔ ان رنگوں کا نام ہم وہم یا خیال بھی رکھ سکتے ہیں۔ اور حقیقتاً یہ تمام
کیفیات جو ہمارے دماغ پر وارد ہوتی ہیں انہی رنگوں کا تنوع ہے۔ یہ تنوع کہیں اپنی حدوں
سے باہر نکلنا چاہتا ہے لیکن باہر نکلنے کا کوئی نہ کوئی راستہ اگر اسے ملے جبھی یہ
ممکن ہے کہ باہر نکل سکے۔ ہوتا یہ ہے کہ اتفاق سے ام الدماغ کے اندر بہت سی رو جمع
ہو جاتی ہیں اور جمع ہو کر ایک دوسرے کا راستہ روک دیتی ہیں۔ وہ دروازے جو باہر لے
جانے یا اندر لانے کا کام کرتے ہیں ان سب میں اتنا ہجوم ہو جاتا ہے کہ باہر آنے یا
اندر جانے میں رکاوٹ پیدا ہونے لگتی ہے۔ اگر ایسی حالت میں پانی سامنے آ جائے تو اس
بند رو کی شعاعیں کئی گنا ہو جاتی ہیں جس سے مرگی کا دورہ پڑتا ہے۔ جب تک آنے والے
دروازوں میں رو کا ہجوم معمول سے زیادہ رہتا ہے، مرگی کا دورہ آدمی کو بے ہوش رکھتا
ہے۔ جس وقت دروازے کھل جاتے ہیں، مریض ہوش میں آ جاتا ہے۔ چونکہ اعصاب مفلوج ہو جاتے
ہیں اس لئے حرکت بھی دیر میں ہوتی ہے، مریض آہستہ آہستہ اپنی حالت پر آتا ہے۔ پانی
پر نطر پڑنے کے علاوہ اور بہت سے حالات ایسے ہو سکتے ہیں جن میں مرگی کا دورہ پڑ سکتا
ہے۔ ایسی حالت میں جلد سے جلد دروازوں سے برقی رو کا ہجوم کم ہونا چاہئے۔ اگر دیر تک
یہ حالت باقی رہے تو مریض خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ (مریض کے گرنے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ
دماغ کی رو اعصاب پر کام کرنا چھوڑ دیتی ہے)۔ اس کا بہت آسان طریقہ یہ ہے کہ سر کو
زمین سے ہاتھ پر اٹھا لیا جائے مگر صرف ایک انچ اس سے زیادہ نہیں۔ دو تین مرتبہ سر
کو ہلکی جنبش سے ہلایا جائے۔ دورہ ختم ہو جائے گا تو ہم آنکھوں کی پتلیوں کی نگرانی
کچھ دیر تک کریں تا کہ وہ خلیے جو حافظہ سے متعلق ہیں دیکھنے والے کی نگاہوں سے ٹکرائیں۔
اس سے دروازوں میں ہجوم کی رو تیزی سے کم ہو جائے گی۔
مرگی کے مرض کی ایک شناخت
یہ بھی ہے کہ پتلیاں اپنی جگہ سے کچھ نہ کچھ اوپر کی طرف ہٹ جاتی ہیں۔
یہ بھی عمومی مرگی کی ایک
قسم ہے جو زیادہ تر بچوں میں ہوتی ہے۔ اس دورے کے دوران بچے کی حرکات ساکن ہو جاتی
ہیں۔ بچہ سامنے گھورنے لگتا ہے۔ پھر آنکھیں جھپکانے اور گھمانے لگتا ہے۔ اس دوران اگر
بچے کو مخاطب کیا جائے یا اس کو کوئی حکم دیا جائے تو وہ کوئی جواب نہیں دیتا۔ یہ دورہ
چند سیکنڈز پر مشتمل ہوتا ہے۔ کبھی کبھی بچہ زمین پر گر جاتا ہے۔
یہ دورہ ایک دن میں ایک دفعہ
سے کئی سو دفعہ بھی ہو سکتا ہے۔ عموماً آٹھ یا نو سال کی عمر کے بعد یہ مرگی ختم ہو
جاتی ہے۔
علاج
۱۔ فیروزی رنگ پانی صبح و
شام استعمال کریں
۲۔ سبز رنگ پانی کھانے سے پہلے
۳۔ آسمانی رنگ کی روشنی روزانہ
پندرہ منٹ تک سر پر ڈالیں
۴۔ 9X12 انچ شیشے پر آسمانی رنگ پینٹ
کروا کر صبح شام دس دس منٹ مریض کو دکھائیں
۵۔ گردن کے جوڑ پر اور سر کے
پچھلے حصہ پر نیلی شعاعوں کا تیل صبح و شام مالش کریں
۶۔ مرگی کے علاج میں معالج
کو اس طرف توجہ دینی چاہئے کہ مریض کو قبض نہ ہو اور ہر حال میں نیند پوری ہو۔ ضرورت سے زیادہ دماغ پر بوجھ نہ پڑے۔
اسباب
دماغ اعصابی خلیوں سے مل کر
بنا ہوا ہے۔ ان اعصابی خلیوں کے علاوہ دوسرے سہارا دینے والے خلیے خون کی شریانیں اور
وریدیں بھی دماغ میں ہوتی ہیں۔ دماغی ورم زیادہ تر بیکٹیریا اور وائرس کی وجہ سے ہوتا
ہے۔
علامات
دماغی ورم کے مریض کو بخار،
سر درد، گردن اکڑنے، بے ہوشی، گہری غنودگی، ہلکی غنودگی، کوما وغیرہ کی شکایات ہوتی
ہیں۔ جسم کا کوئی حصہ سن ہو سکتا ہے۔ بولنے اور دیکھنے کی حس متاثر ہو سکتی ہے۔
علاج
۱۔ نیلا رنگ پانی صبح، دوپہر
شام
۲۔ زرد رنگ پانی کھانے سے پہلے
۳۔ سبز رنگ پانی صبح و شام
۴۔ بے ہوشی یا غشی میں آسمانی
رنگ کی روشنی پندرہ پندرہ منٹ ہر دو گھنٹے کے بعد مریض کے سر پر ڈالیں
۵۔ کمزوری کی صورت میں سرخ
یا نارنجی رنگ پانی صبح و شام استعمال کریں
۶۔ نیلی شعاعوں کا تیل سر پر
اور گردن کے جوڑ پر صبح و شام سات سات منٹ تک دائروں میں مالش کریں
۷۔ صاف شفاف سفید 9X12
انچ شیشے پر Indigoرنگ پینٹ کرا کے وقفہ وقفہ
سے دکھائیں
علاج مرض ٹھیک ہونے تک جاری
رکھیں۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
حضرت لقمان
علیہ السلام کے نام
جن کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی
وَ لَقَدْ اٰ
تَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ اَن اشْکُرْ لِلّٰہِ
(لقمٰن۔۔۔۔۔۔۱۲)
اور ہم
نے لقمان کو حکمت دی تا کہ وہ اللہ کا شکر کرے۔
اور جو بکھیرا ہے تمہارے واسطے زمین میں کئی رنگ کا اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیںo
اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمان زمین کا بنانا اور بھانت بھانت بولیاں تمہاری اور رنگ اس میں بہت پتے ہیں بوجھنے والوں کوo
تو نے دیکھا؟ کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح ان کے رنگ اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح ان کے رنگ اور بھجنگ کالےo
نکلتی ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے کئی رنگ ہیں اس میں آزار چنگے ہوتے ہیں لوگوں کے اس میں پتہ ہے ان لوگوں کو جو دھیان کرتے ہیںo
(القرآن)