Topics
اسباب
امیبا (Amoeba) بیکٹیریا کے زہریلے مادے
وائرس اور ایسی خوراک جس سے آدمی الرجک ہو ایسی غذا جو صحیح طرح پکی ہوئی نہ ہو سڑی
ہوئی ہو یا فریج میں زیادہ مدت تک رکھی گئی ہو اس بیماری کا سبب بنتی ہے۔
علامات
مریض میں مندرجہ ذیل علامات
پائی جاتی ہیں۔
دست، پیٹ میں درد، کمزوری،
بھوک نہ لگنا، متلی اور قے۔ اس کی دو مشہور قسمیں ہیں۔
۱۔ ہیضہ
۲۔ پیچش
اسباب
پیچش عام طور پر امیبا (Amoeba) اور کبھی کبھی بیکٹیریا
کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ایسے مریض جن کو پیچش رہ چکی ہو ان کے پاخانے سے دوسروں تک یہ مرض
پھیل سکتا ہے اور ایسی غذا کھانے سے بھی پیچش ہو جاتی ہے جس میں انسانی فضلے کی آمیزش
ہو۔
علامات
عام طور پر مختلف مریضوں کو
مختلف درجوں کی پیچش ہوتی ہے۔ بعض لوگوں میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں، بعض میں علامات
ظاہر ہو جاتی ہیں۔ پیچش میں آنتوں کے اندر اعصاب متاثر ہو جاتے ہیں۔
۱) کم درجے کی پیچش:
اس مرض میں نیم سیال پتلے
پاخانے آتے ہیں جس میں چکنی رطوبت(Mucus) موجود ہوتی ہے مگر خون نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ
ساتھ پیٹ میں مروڑ حبس ریاح تھکن ہوتی ہے وزن کم ہو جاتا ہے۔ یہ علامات وقفے وقفے سے
ہوتی ہیں۔
۲) زیادہ درجے والی پیچش:
اس مرض میں بالکل پتلے پاخانے
آتے ہیں اور پاخانے کے ساتھ آؤں اور خون آتا ہے اور زیادہ شدت ہونے پر صرف خون آتا
ہے۔ بخار (104ڈگری فارن ہائیٹ) بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ پیٹ میں درد اور پاخانہ
کرنے میں شدید تکلیف(Tenusmus) ہوتی ہے۔
علاج
۱۔ زرد رنگ کا پانی صبح و
شام، شدت کی صورت میں زرد رنگ کا پانی دو دو گھنٹے کے وقفے سے استعمال کریں۔
۲۔ خون آنے کی صورت میں سبز
رنگ کا پانی دوپہر اور رات کو استعمال کریں۔
۳۔ مرہم زرد ناف کے اطراف صبح
و شام مالش کریں۔
اسباب
یہ بیماری جراثیم (Vibreo Cholera) کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جراثیم
سے متاثر غذا اور پانی کے استعمال سے یہ بیماری لگ جاتی ہے۔
علامات
ہیضہ کے مریض کو چاول کے پانی
کی طرح پاخانے آتے ہیں جس میں بہت سا مفید دودھیا پانی نکلتا رہتا ہے۔ اسہال میں عام
طور پر پاخانے کی مخصوص بدبو نہیں ہوتی اور پیپ اور خون بھی نہیں ہوتا۔ مریض کے جسم
میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے۔ مثلاً مریض کی جلد اور زبان سوکھ جاتی ہے، آنکھیں دھنس
جاتی ہیں، دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، نبض سست چلتی ہے۔
عام طور پر ہیضہ کے دست ۲ سے ۷ دن تک آنے کے بعد خود بخود رک جاتے
ہیں لیکن اس ۲ سے ۷ دن میں پانی کی کمی کی وجہ سے موت کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ اس لئے ہیضہ
میں سب سے اہم علاج پانی اور نمکیات کی کمی کو دور کرنا ہے۔
علاج
۱۔ ابتداء میں زرد رنگ پانی
دو دو گھنٹے کے وقفہ سے اور آخر میں نارنجی رنگ پانی ایک ایک گھنٹہ کے بعد استعمال
کریں۔
۲۔ سبز رنگ پانی صبح و شام
اسباب
ثقیل دیر ہضم غذاؤں کے زیادہ
استعمال سے یا بعض دفعہ دماغی کاموں کی زیادتی سے اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں اور انتڑیوں
کی قوت دافعہ ضعیف ہو جاتی ہے۔ غیر صحت مند چکنائیوں کے استعمال، نیند کی کمی، بہت
زیادہ وظائف پڑھنے، عام جسمانی کمزوری اور کاہل الوجود کام کاج نہ کرنے والے لوگوں
کو قبض ہو جاتا ہے۔
علامات
رفع حاجت کے وقت زیادہ دیر
لگتی ہے۔ خشک سیاہی مائل فضلہ مشکل سے خارج ہوتا ہے۔ فضلہ دیر تک آنتوں میں رہنے سے
پیٹ میں متعفن ریاح پیدا ہو کر نفخ ہو جاتا ہے۔ طبیعت سست اور حواس کندہ ہو جاتے ہیں۔
سر میں درد رہتا ہے، دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، جسم کی رنگت زردی مائل ہو جاتی ہے،
انگڑائیاں اور جمائیاں کثرت سے آتی ہیں، پنڈلیوں میں درد ہوتا ہے، دماغ بھاری رہتا
ہے۔
علاج
۱۔ زرد رنگ پانی صبح و شام
۲۔ نارنجی رنگ پانی دوپہر و
رات
خواجہ شمس الدین عظیمی
حضرت لقمان
علیہ السلام کے نام
جن کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی
وَ لَقَدْ اٰ
تَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ اَن اشْکُرْ لِلّٰہِ
(لقمٰن۔۔۔۔۔۔۱۲)
اور ہم
نے لقمان کو حکمت دی تا کہ وہ اللہ کا شکر کرے۔
اور جو بکھیرا ہے تمہارے واسطے زمین میں کئی رنگ کا اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیںo
اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمان زمین کا بنانا اور بھانت بھانت بولیاں تمہاری اور رنگ اس میں بہت پتے ہیں بوجھنے والوں کوo
تو نے دیکھا؟ کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح ان کے رنگ اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح ان کے رنگ اور بھجنگ کالےo
نکلتی ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے کئی رنگ ہیں اس میں آزار چنگے ہوتے ہیں لوگوں کے اس میں پتہ ہے ان لوگوں کو جو دھیان کرتے ہیںo
(القرآن)