Topics

نیلا رنگ

 

نیلا رنگ دو طرح کا ہوتا ہے ہلکا نیلا اور گہرا نیلا۔ سب سے پہلے ہلکے نیلے رنگ کا اثر دماغی خلیوں پر ہوتا ہے۔ اگرچہ دماغی خلیوں کا رنگ ہلکا نیلا الگ الگ ہوتا ہے لیکن ان خلیوں کی دیواریں ہلکی اور موٹی ہوتی ہیں۔ پھر ان میں رنگوں کو چھاننے کے اثرات بھی موجود ہوتے ہیں۔ ایک خلیہ جب اپنے ہلکے نیلے رنگ کو چھانتا ہے تو اس رنگ میں تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ اس طرح لاکھوں خلیے مل کر اپنا تصرف کرتے ہیں جس سے تخیل بن جاتا ہے اور اس تخیل کا عملی مظاہرہ ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی ان خلیوں کا رنگ اتنا تبدیل ہو جاتا ہے کہ نگاہ انہیں بالکل سرخ سبز زرد وغیرہ رنگوں میں دیکھنے لگتی ہے۔ اس لئے کہ باہر سے جو روشنیاں جاتی ہیں ان میں اسپیس(Space) نہیں ہوتا بلکہ خلیوں کے تصرف سے اسپیس (Space) بنتا ہے۔ خلیوں کا تصرف جب اسپیس بناتا ہے تو آنکھوں کے ذریعہ باہر سے جانے والی کرنوں کو الٹ پلٹ کر دیتا ہے نتیجہ میں رنگوں کی تبدیلیاں یہاں تک واقع ہوتی ہیں کہ وہ ساٹھ تک گنے جا سکتے ہیں۔ دراصل رنگ ہی حواس بناتے ہیں۔

آسمانی رنگ خلیوں میں ان کی بساط کے مطابق عمل کرتا ہے۔ آسمانی رنگ جو فی الواقع ایک برقی رو ہے دماغی خلیوں میں آنے کے بعد اسپیس بن جاتا ہے۔ آنکھ کے پردے پر جو عمل ہوتا ہے اس سے مختلف شکلیں نظر آتی ہیں۔ یہ خلیوں کے اندر بہنے والی رو کا تصرف ہے۔ آنکھ کی حس جس قدر تیز ہوتی ہے اتنا ہی رو میں امتیاز کر سکتی ہے۔

اس تصرف سے ہی رنگ تبدیل ہو کر سبز ہو جاتے ہیں، زرد ہو جاتے ہیں، نارنجی ہو جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ اور کتنے ہی رنگ بدل جاتے ہیں۔ مفہوم یہ ہے کہ ہم مستقل برقی رو میں گھرے ہوئے ہیں اور یہ برقی رو دماغی خلیوں سے گزر کر جب باہر آتی ہے تو طرح طرح کے رنگ آنکھوں کے سامنے آتے ہیں۔ دیکھنے کی حس سونگھنے کی حس، سوچنے کی حس، بولنے کی حس، چھونے کی حس، بیماری اور توانائی اسی برقی رو سے عمل بنتی ہے۔

Topics


Color Theraphy

خواجہ شمس الدین عظیمی

حضرت لقمان علیہ السلام کے نام

جن کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی 

 

وَ لَقَدْ اٰ تَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ اَن اشْکُرْ لِلّٰہِ

(لقمٰن۔۔۔۔۔۔۱۲)

اور ہم نے لقمان کو حکمت دی تا کہ وہ اللہ کا شکر کرے۔

اور جو بکھیرا ہے تمہارے واسطے زمین میں کئی رنگ کا اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیںo 

اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمان زمین کا بنانا اور بھانت بھانت بولیاں تمہاری اور رنگ اس میں بہت پتے ہیں بوجھنے والوں کوo 

تو نے دیکھا؟ کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح ان کے رنگ اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح ان کے رنگ اور بھجنگ کالےo

نکلتی ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے کئی رنگ ہیں اس میں آزار چنگے ہوتے ہیں لوگوں کے اس میں پتہ ہے ان لوگوں کو جو دھیان کرتے ہیںo

(القرآن)