Topics

مرشد کامل کی موجودگی یا غیر موجودگی میں تربیت:


                شیخ کامل کی ہمت اس کا نور ایمان ہے اور اسی کے ذریعے سے وہ مرید کی تربیت کرتا ہے اور ایک حالت سے دوسری حالت میں ترقی دیتا ہے لہٰذا اگر مرید کو شیخ کے ساتھ محض نور ایمان کی وجہ سے محبت ہو تو شیخ اسے ہر حالت میں فیض پہنچاتا ہے خواہ شیخ موجود ہو یا نہ ہو بلکہ شیخ کی وفات کے بعد بھی ہزاروں برس ہی کیوں نہ گزر جائیں تب بھی فیض جاری رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر زمانے کے اولیاء آنحضرتﷺ کے نور ایمان سے فیضان حاصل کر رہے ہیں اور آنحضرتﷺ انہیں ترقی دے رہے ہیں اور ان کی تربیت کر رہے ہیں۔ اس لئے کہ ان اولیاء کی محبت محض ان کے نور ایمان کی وجہ سے ہوتی ہے۔

                اگر مرید کو شیخ سے محبت صرف اس کی ذات کی حد تک ہو اور نور ایمان سے نہ ہو تو اسے شیخ کی حاضری میں تو فیض حاصل ہو گا مگر غیر حاضری میں فیضان کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا۔ ذات کی محبت کی یہ علامت ہے کہ محبت دنیاوی نفع حاصل کرنے یا مصائب و مشکلات کی غرض سے بچنے کی غرض سے ہو اور ایمان کی محبت کی علامت یہ ہے کہ محبت محض اللہ کی خوشنودی کے لئے ہو۔ اس میں کسی قسم کی غرض (سوائے اللہ کے) نہ ہو۔ لہٰذا مرید اگر شیخ کی غیر حاضری کی وجہ سے اپنے اندر کمی محسوس کرے تو مرید کو اپنی اصلاح کرنی چاہئے۔

                پیر و مرشد کے وصال کے بعد بھی ان سے روحانی طور پر فیض حاصل کیا جا سکتا ہے کیونکہ روح کبھی نہیں مرتی اس لئے کہ روح قائم بالذات ہے۔

 

            

Topics


Adab e Mureeden

میاں مشتاق احمد عظیمی

حضور قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں:

"ذہن کو آزاد کر کے کسی بندے کی خدمت میں پندرہ منٹ بیٹھیں۔ اگر بارہ منٹ تک ذہن اللہ کے علاوہ کسی اور طرف متوجہ نہ ہو تو وہ بندہ استاد بنانے کے لائق ہے۔ انشاء اللہ اس سے عرفان نفس کا فیض ہو گا۔"
                اس کتاب کی تیاری میں مجھے بیشمار کتابوں سے اچھی اچھی باتیں حاصل کرنے میں کافی وقت لگا۔ آپ کو انشاء اللہ میری یہ کاوش بہت پسند آئے گی اور سلوک کے مسافروں کو وہ آداب حاصل ہو جائیں گے جو ایک مرید یا شاگرد کے لئے بہت ضروری ہوتے ہیں۔                اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ مجھے سلسلہ عظیمیہ کے ایک ادنیٰ سے کارکن کی حیثیت سے میری یہ کاوش مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی کی نظر میں قبول ہو اور ان کا روحانی فیض میرے اوپر محیط ہو اور مجھے تمام عالمین میں ان کی رفاقت نصیب ہو۔ (آمین)


میاں مشتاق احمد عظیمی