Topics

بیعت


                کسی بھی دنیاوی علم کو حاصل کرنے کے لئے آپ کو استاد کی ضرورت پڑتی ہے جو قدم بہ قدم رہنمائی کر کے انسان مین چھپی صلاحیتوں کو اجاگر کرتا ہے۔ اسی طرح روحانی علوم حاصل کرنے کے لئے بھی کسی استاد کی ضرورت پڑتی ہے جس کی ہدایت پر عمل کر کے انسان اپنی روحانی صلاحیتوں کو اجاگر کرتا ہے۔

                لفظ بیعت عربی کے لفظ بیع سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں فروخت کر دینا لہٰذا بیعت دراصل ایک اصلاح ہے یعنی ‘‘خود کو فروخت کر دینا۔’’ جب آدمی کسی کا مرید ہو جاتا ہے یا کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیتا ہے تو گویا وہ یہ عہد کرتا ہے کہ میں نے روحانی شاگردی اختیار کر لی اور میں اپنے روحانی استاد کے بتائے ہوئے طریقے پر بلاچوں و چرا عمل کروں گا۔ اگر انسان میں روحانی علوم سیکھنے کی خواہش نہ ہو تو بیعت ہونا ضروری نہیں ہے۔

                حضرت بایزیدؒ کا قول ہے:

                ‘‘جس کا کوئی شیخ نہیں اس کا شیخ شیطان ہے۔’’

                حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں:

                ‘‘تمام اولیاء اللہ اور ابدال اور صدیقین کا سلسلہ بھی اسی طرح چلتا آیا کہ کوئی استاد ہوا کوئی شاگرد۔’’

                حضرت جنید بغدادیؒ فرماتے تھے کہ جو شخص بغیر کسی مقتدا کے اس راہ میں قدم رکھے گا وہ خود بھی گمراہ ہو گا اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے گا۔ جو شخص مشائخ کا ادب و احترام چھوڑ دے گا اللہ تعالیٰ اسے اپنے بندوں کی نظروں میں ناپسندیدہ بنا دے گا۔

                حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا فرمان ہے کہ جو شخص اپنے شیخ کے کمال کا اعتقاد نہ رکھے گا وہ کبھی کامیاب نہ ہو سکے گا۔

                مولانا رومؒ فرماتے ہیں کہ اگر خدا کا قرب چاہتے ہو تو اولیاء اللہ کے پاس بیٹھو۔ جس نے کسی ولی اللہ کو پا لیا تو سمجھ لو کہ اس نے خدا کو پا لیا۔

                چونکہ اولیاء اللہ شیطان سے محفوظ ہوتے ہیں اس لئے جو اس کے سائے میں سچے دل سے آ جاتا ہے وہ یقیناً شیطان سے محفوظ ہو جاتا ہے۔

                ایک شخص مسجد میں حضرت علیؓ کے پاس نماز ادا کر رہا تھا۔ حضرت علیؓ مسجد میں آرام فرما رہے تھے۔ کسی اہل نظر نے دیکھا کہ شیطان مسجد کے دروازے پر کھڑا ہے تو اس نے اس کے کھڑے ہونے کی وجہ پوچھی۔ شیطان نے کہا کہ میں اس شخص کی نماز میں خلل ڈالنا چاہتا ہوں مگر حضرت علیؓ سے مجھے ڈر لگتا ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے مجھے آگے جانے کی جرأت نہیں ہوتی۔

                مولانا رومؒ فرماتے ہیں کہ ان اولیاء کا سایہ شیطان کے شر سے محفوظ کرتا ہے۔ ان کی روح بہت بلندیوں پر پرواز کرتی ہے اور تمہیں بھی ایسی بلندیوں پر پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے کہ تم اللہ کے ساتھ واصل ہو سکو۔ کوئی شخص خود سے قرب باری تعالیٰ حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت اس بات پر قائم ہے کہ اس کا قرب ان لوگوں کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے جو خود اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر چکے ہوں۔

پس تقرب جَو بدو سوئے الٰہ

سرپیچ از طاعتِ او ہیچگاہ

زانکہ او ہر خار را گلشن کند

دیدہ ہر کور را روشن کند

ظل اُو اندر زمیں چوں کوہ قاف

روحِ اُوسمیرغ پس عالی طواف

                (اپنے شیخ کے وسیلے سے حق تعالیٰ کی طرف تقرب حاصل کرو اس کی اطاعت سے کبھی پہلو تہی نہ کرو۔ کیونکہ شیخ (ہر مشکل) کانٹے کو باغ بنا سکتا ہے اور (طریقت کے) ہر اندھے کی آنکھ کو روشن کر سکتا ہے۔ اس کا سایہ کوہ قاف کی طرح زمین پر ہمہ گیر رہتا ہے اس کی روح نہایت بلند پرواز پرندہ ہے۔

                یہ مشائخ ہی اللہ تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں اور یہی خدا کا راستہ دکھانے والے ہیں۔ اسی دروازے سے اللہ کی بارگاہ میں راستہ ملتا ہے (شاذ اس سے مستتثنیٰ ہیں) ورنہ ہر مرید کے لئے شیخ کی ضرورت ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ اللہ بندے کا خود انتخاب فرمائے اور اس کی تربیت فرمائے اور شیطان و ہواہوس سے خود اس کی حفاظت فرمائے۔ عام طریقہ وہی ہے جس کو قرآن کریم نے بیان کیا ہے یہی طریقہ زیادہ سلامتی اور بہتری کا ہے۔

                ایک دفعہ رسول اکرمﷺ نے حضرت معاذؓ سے دریافت فرمایا کہ معاذؓ تم رات کو کیا کرتے ہو؟ عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ رات کی ایک چوتھائی میں حضورﷺ پر درود پڑھتا ہوں اور باقی شب خدا کی عبادت کرتا ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ معاذؓ تم سے ہو سکے تو درود زیادہ پڑھا کرو۔ چند روز کے بعد پھر حضور اکرمؓ نے فرمایا کہ تم رات کو کیا کرتے ہو؟ عرض کیا یا رسول اللہ نصف شب حضورﷺ پر درود پڑھتا ہوں اور نصف شب خدا کی عبادت کرتا ہوں۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم سے ہو سکے تو زیادہ درود پڑھا کرو۔ پھر چند روز کے بعد حضورﷺ نے فرمایا کہ معاذؓ تم رات کو کیا کرتے ہو؟ عرض کیا کہ دو تہائی شب میں حضورﷺ پر درود پڑھتا ہوں اور ایک تہائی میں خدا کی عبادت کرتا ہوں۔ فرمایا تم ٹھیک کرتے ہو یوں ہی کیا کرو۔

                اب یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیوں حضورﷺ نے عبادت سے روکا اور درود شریف کا حکم دیا؟ اس کی حکمت یہ ہے کہ حضورﷺ جانتے تھے کہ معاذؓ خود راستہ طے نہیں کر سکتا۔ اگر مجھے واسطہ بنائے گا تو جلد منزل پر پہنچے گا۔ یہی معاملہ پیر اور مرید کا ہوتا ہے۔

                میرے پیر و مرشد حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی فرماتے ہیں:

                بچہ وہی زبان بولتا ہے جو ماں باپ کی زبان ہے اور اس زبان کو سیکھنے کے لئے بچے کے لئے کوئی درس و تدریس کا سلسلہ قائم نہیں کرنا پڑتا۔ بچہ جس طرح ماں باپ کو بولتا دیکھتا ہے اسی طرح بولنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ اردو زبان بولنے والے ماں باپ کا بچہ بچپن میں انگریزی بولنا شروع کر دے۔ بچہ اپنی مادری زبان اس طرح بولتا ہے کہ جیسے یہ ہمیشہ سے سیکھا سکھایا ہوا ہے۔ ماں کی گود بچہ کے لئے سب سے پہلی تربیت گاہ ہوتی ہے۔ ماں باپ اگر بچہ کو پاکیزہ اور صاف ستھرا ماحول دیتے ہیں تو بچے کا ذہن بھی پاکیزہ اور صاف ستھرا رہتا ہے۔ والدین اگر گالیاں دیتے ہیں تو گھر میں بچہ کے لئے گالیاں دینا کوئی خلاف معمول بات نہیں ہوتی۔ گویا بچہ کے اوپر وہ تمام اثرات مرتب ہوتے ہیں جو اس کے ماحول میں موجود ہیں۔

                گھر کی چار دیواری اور والدین کی آغوش سے نکل کر جب بچہ باہر کے ماحول میں قدم رکھتا ہے تو اس کے اوپر وہ تمام اثرات مرتب ہوتے ہیں جو ماحول میں موجود ہیں۔

                روحانی نقطہ نظر سے دنیا میں آنے والا کوئی فرد ذہنی طور پر آدھا ماحول کے زیر اثر ہوتا ہے اور آدھا والدین کی ذہنی افتاد سے مطابق ہوتا ہے۔ اس غیر اختیاری تربیت کے بعد ایک دوسرا دور شروع ہوتا ہے کہ والدین بچہ کو کیا بنانا چاہتے ہیں۔ والدین اگر بچہ کے اندر خاندانی روایات اور خود نمائی کی عادت منتقل کرتے ہیں تو بچہ کے اندر خود نمائی کے اثرات غالب آ جاتے ہیں۔ والدین کی تربیت میں اگر اخلاقیات پر زور ہوتا ہے تو بچہ بااخلاق ہوتا ہے اور شعور کی منزل میں داخل ہو کر ایک ایسا پیکر بن جاتا ہے جو معاشرے کے لئے عزت و توقیر کا باعث ہوتا ہے۔ والدین کی طرز فکر میں اگر دولت پرستی، خود نمائی، شہرت کی محبت ہے تو اولاد کے اندر بھی یہ طرزیں مستحکم ہو جاتی ہیں۔ اس کا مفہوم یہ نکلا کہ تربیت کے دو طریقہ کار ہیں:

                ایک اختیاری اور ایک غیر اختیاری۔

                غیر اختیاری یہ کہ بچہ جو کچھ گھر کی چار دیواری اور اپنے ماحول میں دیکھتا ہے اسے قبول کر لیتا ہے۔

                اختیاری صورت یہ ہے کہ والدین بچہ کو ایک مخصوص تربیت کے ساتھ معاشرہ میں روشناس کراتے ہیں اور بچہ بڑا ہو کر جب بالغ ہوتا ہے تو اس کی ایک شخصیت بن جاتی ہے اور وہ اپنی شخصیت کو سامنے رکھ کر والدین اور ماحول سے ملے ہوئے اثرات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک کردار متعین کرتا ہے اور یہ کردار اس کا اپنا ذاتی تشخص بن جاتا ہے۔

                مختصر الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ کسی بندے کے کردار کی تشکیل کے لئے ضروری ہے کہ اسے مخصوص طرز فکر حاصل کرنے کے لئے قربت حاصل ہو۔ جس طرح ایک عام فرد کے لئے ماحول رشتہ دار، والدین اور تعلیمی درسگاہیں قربت کا ذریعہ بن کر اس کے کردار کی تشکیل کرتی ہیں اسی طرح جب ایک فرد اللہ کی راہ پر چلنے کا ارادہ کرتا ہے تو ایسے آدمی کے کردار کی تشکیل کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ کسی ایسے بندے کی قربت حاصل کرے جس کا کردار روحانی قدروں پر محیط ہو جس طرح دنیاوی علوم حاصل کرنے کے لئے سکول میں داخل ہونا پڑتا ہے اسی طرح روحانی استاد کی قربت اور روحانی علوم کے حصول کے لئے جو طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے اسے بیعت کا نام دیا جاتا ہے۔

                بچہ کی تربیت کے لئے جس طرح قدرت ماں اور باپ کو بچہ کے لئے مقرر کر دیتی ہے اسی طرح روحانی اقدار حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مرید کو ایسے ماں باپ کی آغوش میسر ہو جس کے اندر روحانی قدروں کا دریا موجزن ہو اور اسے ایسا ماحول میسر ہو جس ماحول میں پاکیزگی موجود ہو۔ ماں اور باپ سے مراد پیر و مرشد ہے اور ماحول سے مراد یہ ہے کہ اس پیر و مرشد کی ایسی اولاد جو اس سے روحانی رشتے میں وابستہ ہے۔ راہ سلوک میں چلنے والے سالک کو کسی شخص کا ہاتھ پکڑنا اس لئے ضروری ہے کہ اسے ایک روحانی باپ کی شفقت میسر آئے اور اس روحانی باپ کی اولاد کا ایک ماحول میسر آ جائے تا کہ اس ماحول میں رہ کر اس کی ذہنی تربیت ہو سکے۔

                ارادت نام ہے اس شائستہ جذبے کا جس میں مرید کی کائنات من پر شنشاہی اور حکمرانیاں مراد کے تصور و رخا کی ہوتی ہے۔ مرید محبوب کے عشق کے سمندر میں بغیر کوئی سوال جواب کئے آگے سے آگے حرکت کرتا رہتا ہے۔ ارادت میں اطاعت اور طابع فرمانی ضروری ہے اور محبوب کا قرب حبیب کے لئے کئی سعادتوں سے سعید لمحہ ہوتا ہے۔

                اولیائے کرام کا قول ہے کہ جو تنہا خود عبادت کرے گا تو وہ زیادہ سے زیادہ ایک ستارے کی مانند بن جائے گا مگر جس شخص کو مرشد کی محبت نصیب ہو وہ مرشد کے سائے میں آفتاب بن سکتا ہے۔ مولانا رومؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص خدا کی ہم نشینی چاہتا ہے تو اسے کہہ دو کہ جائے اولیائے کرام کے حضور میں بیٹھے۔

                مجتہد لوگ پیر و مرشد کے بغیر نہیں تھے۔ ان کو علم کا فیض مرشد ہی کی تلقین و تعلیم سے حاصل ہوا۔ حضرت سید جماعت علی شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ جو لوگ مرشد کی ضرورت سے انکار کرتے ہیں ان کو حضورﷺ کی رسالت کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ اگر پیر و مرشد کی ضرورت نہیں تو اللہ تعالیٰ کو پیغمبروں کو بھیجنے کی کیا ضرورت تھی۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں کہ ہر قوم کے لئے ہم نے ہدایت کرنے والا بھیج دیا تا کہ وہ راہ حق کی رہنمائی کرے۔ کیا وہ قوم خود بخود ہدیات حاصل نہیں کر سکتی تھی۔ ہدایت تو ہادی کے سکھانے سے نصیب ہو گی نہ کہ کتابیں پڑھنے سے۔ اس لئے طالب خدا کی رہنمائی اور مقام اعلیٰ پر پہنچنا صرف شیخ کامل کی بیعت پر منحصر ہے۔

                ولی کے ہاتھ پر جو خیر و برکت ہوتی ہے وہ آنحضرتﷺ کی برکت ہی کی بدولت ہوتی ہے۔ اس لئے کہ ایمان جو اس خیر و برکت کا سبب ہے وہ آپﷺ کے ذریعے ہی ولی تک پہنچا۔ ولی اور نبی میں بنیادی فرق یہ ہے کہ انبیاء پیدائشی طور پر معصوم اور معرفت الٰہی اور تقویٰ پر پیدا کئے گئے ہوتے ہیں چنانچہ وہ نہ تو کسی شریعت اور نہ ہی کسی استاد کے محتاج ہوتے ہیں کہ اس سے استفادہ کریں۔ جو حق ان کی ذات میں سرائیت کر چکا ہوتا ہے یعنی حرف نبوت جس پر ان کی تخلیق ہوئی ہوتی ہے انہیں سیدھے راستے پر چلائے رکھتا ہے جبکہ ولی کو اس راہ پر آنے کے لئے کسی سے مستفید ہونا پڑتا ہے۔

Topics


Adab e Mureeden

میاں مشتاق احمد عظیمی

حضور قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں:

"ذہن کو آزاد کر کے کسی بندے کی خدمت میں پندرہ منٹ بیٹھیں۔ اگر بارہ منٹ تک ذہن اللہ کے علاوہ کسی اور طرف متوجہ نہ ہو تو وہ بندہ استاد بنانے کے لائق ہے۔ انشاء اللہ اس سے عرفان نفس کا فیض ہو گا۔"
                اس کتاب کی تیاری میں مجھے بیشمار کتابوں سے اچھی اچھی باتیں حاصل کرنے میں کافی وقت لگا۔ آپ کو انشاء اللہ میری یہ کاوش بہت پسند آئے گی اور سلوک کے مسافروں کو وہ آداب حاصل ہو جائیں گے جو ایک مرید یا شاگرد کے لئے بہت ضروری ہوتے ہیں۔                اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ مجھے سلسلہ عظیمیہ کے ایک ادنیٰ سے کارکن کی حیثیت سے میری یہ کاوش مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی کی نظر میں قبول ہو اور ان کا روحانی فیض میرے اوپر محیط ہو اور مجھے تمام عالمین میں ان کی رفاقت نصیب ہو۔ (آمین)


میاں مشتاق احمد عظیمی