Topics

سچی محبت کی علامات


                پرخلوص محبت کی دو علامات ہوتی ہیں:

                ایک یہ کہ مرید کی راحت، مرید کا سکون، مرید کا سکھ چین سب کچھ ذات شیخ میں ہو کہ اسی کی فکر ہو، اسی کے لئے زندہ ہو، اسی پر فریفتہ ہو، اسی سے خوشی ہو اور اسی کا غم ہو حتیٰ کہ ظاہر و باطن میں موجودگی اور عدم موجودگی میں اس کی تمام حرکات و سکنات ذات شیخ اور اس کے متعلقات کی خاطر ہوں یہاں تک کہ وہ اپنی ذات کی بھی پرواہ نہ کرے۔

                دوسری علامت شیخ کا ادب و تعظیم کرنا ہے یہاں تک کہ اگر فرض کر لیا جائے کہ شیخ کنویں میں ہے اور مرید پہاڑ کی چوٹی پر تو اس کے دل پر شیخ کی تعظیم کے کثرت غلبہ کی وجہ سے اسے یوں معلوم ہو کہ وہ خود کنویں میں ہے اور شیخ پہاڑ کی چوٹی پر۔

                پاک اور خالص محبت کی علامت یہ ہے کہ مرید شیخ کو پرکھنا چھوڑ دے تا کہ مرید کی نگاہ میں شیخ کے تمام افعال و اقوال درست اور ٹھیک ہوں اگر اسے ان افعال و اقوال کی وجہ سمجھ میں نہ آئے ان کا کوئی راز کوئی حکمت سمجھ میں نہ آئے تو اسے اللہ کے سپرد کر دے لیکن ساتھ ہی اسے یقین ہو کہ شیخ جو کچھ کر رہا ہے ، ٹھیک کر رہا ہے۔

                شیخ مرید سے نہ کوئی ظاہری خدمت چاہتا ہے اور نہ روپیہ پیسہ کہ مرید اس پر خرچ کرے اور نہ ہی کوئی بدنی عبادت چاہتا ہے۔ اگر چاہتا ہے تو صرف اتنا کہ وہ یہ عقیدہ رکھے کہ اس کا شیخ کامل اور موفق من اللہ ہے۔ اسے معرفت بصیرت اور اللہ کا قرب حاصل ہے اور اس اعتقاد پر خواہ دن گزریں مہینے گزریں، سال پہ سال گزریں قائم رہے۔ اگر مرید میں یہ اعتقاد پایا گیا تو مرید کو اس سے اور ہر قسم کی خدمت سے فائدہ ہو گا اور اگر اس میں یہ اعتقاد نہ ہو گا اور اگر ہو بھی تو پائیدار نہ ہو پس ار اس میں وسوسے پیدا ہونے لگیں تو مرید نے کچھ بھی حاصل نہ کیا۔ اسرار خداوندی کا وہی شخص متحمل ہو سکتا ہے جو پختہ عقیدہ کا مالک ہو اور شیخ کے سوا کسی کی بات پر کان نہ لگائے۔

            

Topics


Adab e Mureeden

میاں مشتاق احمد عظیمی

حضور قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں:

"ذہن کو آزاد کر کے کسی بندے کی خدمت میں پندرہ منٹ بیٹھیں۔ اگر بارہ منٹ تک ذہن اللہ کے علاوہ کسی اور طرف متوجہ نہ ہو تو وہ بندہ استاد بنانے کے لائق ہے۔ انشاء اللہ اس سے عرفان نفس کا فیض ہو گا۔"
                اس کتاب کی تیاری میں مجھے بیشمار کتابوں سے اچھی اچھی باتیں حاصل کرنے میں کافی وقت لگا۔ آپ کو انشاء اللہ میری یہ کاوش بہت پسند آئے گی اور سلوک کے مسافروں کو وہ آداب حاصل ہو جائیں گے جو ایک مرید یا شاگرد کے لئے بہت ضروری ہوتے ہیں۔                اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ مجھے سلسلہ عظیمیہ کے ایک ادنیٰ سے کارکن کی حیثیت سے میری یہ کاوش مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی کی نظر میں قبول ہو اور ان کا روحانی فیض میرے اوپر محیط ہو اور مجھے تمام عالمین میں ان کی رفاقت نصیب ہو۔ (آمین)


میاں مشتاق احمد عظیمی