Topics

آداب گفتگو


                بعض اولیاء کا فرمان ہے کہ علم تصوف پر وہی بات کر سکتا ہے جو اپنے وجدان کی تعبیر کر سکے اور اپنے تجربے اور مشاہدہ کی بنا پر گفتگو کر سکے۔ مرید کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ مرشد کے کلام کا مقصد نصیحت و ارشاد اور طلب نجات ہوتا ہے اور وہ ایسی بات کہتا ہے جس کا نفع سب کو پہنچتا ہے۔ رسول اکرمﷺ کا فرمان ےہ کہ

                ‘‘ہم جماعت انبیاء کو حکم دیا گیا ہے کہ ہم لوگوں کی عقلوں کے مطابق گفتگو کریں۔’’

                بعض اولیاء کرام کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کسی مسئلے کے متعلق اس وقت تک گفتگو نہیں کرتے جب تک اس کے متعلق ان سے پوچھا نہ جائے اور جب پوچھا جائے تو وہ سوال کرنے والے کی ذہنی صلاحیت کے متعلق جواب دیتے ہیں۔ حضرت جنیدؒ سے جب ایک سائل نے کسی مسئلے کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے اسے ایک جواب دیا لیکن جب دوسرے شخص نے وہی سوال پوچھا تو آپ نے اسے علیحدہ جواب دیا۔ دریافت کرنے پر فرمایا کہ جواب سائل کی حیثیت کے مطابق ہوتا ہے۔

                سوال کرنے والے کو چاہئے کہ وہ اپنے مقام کا اندازہ کر کے سوال کرے اور ایسی باتوں کے متعلق سوال نہ کرے جن کی اسے ضرورت نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسی باتیں نہیں پوچھنی چاہئیں جو کہ قبل از وقت ہوں کیونکہ اولیاء کے نزدیک آداب علم میں سے یہ بھی ہے کہ وہ کسی علم میں اس کے وقت سے پہلے گفتگو نہیں کرتے کیونکہ اس سے بہت سے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں اور علم کے فوائد منقطع ہو جاتے ہیں۔

                علم سے جاہ و مرتبہ اور دنیاوی مال کو حاصل کرنے سے بچنا چاہئے کیونکہ خدا ایسے شخص کو علم سے کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا۔ آنحضرتﷺ نے ایسے علم سے پناہ مانگی ہے جو غیر منفعت بخش ہو۔ آپﷺ نے فرمایا۔ ‘‘جس نے علم اس لئے حاصل کیا کہ علماء میں امتیاز پیدا کرے اور ادنیٰ لوگوں پر فوقیت حاصل کرے یا یہ کہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں تو اس کو اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنانا پڑے گا۔’’

                مرید پر یہ بات فرض ہے ہ جس بات یا جس علم کو اس نے سن لیا اس پر عمل کرے ایسا کرنے سے یہ اسی کے قلب میں حکمت پہنچاتا ہے اور اس سے دوسرے سننے والے نفع حاصل کرتے ہیں اگر کسی شخص نے کوئی علم حاصل کیا اور اس پر عمل نہ کیا تو وہ اس کے لئے قصہ کہانی ہو جائے گا۔ جس کو وہ چند دنوں تک یاد رکھے گا اور پھر بھول جائے گا۔ کلام جب دل سے نکلے تو دل میں بیٹھ جاتا ہے اور اگر محض زبان سے نکلے تو وہ کانوں سے تجاوز نہیں کرتا۔

                بعض مشائخ نے کہا ہے کہ کوئی اس شخص کی حرمت کا خیال نہ رکھے جس سے اس نے ادب سیکھا ہے تو وہ ادب کی برکت سے محروم رہے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو اپنے استاد سے ‘‘کیوں’’ کہہ کر سوال کرے گا تو وہ بھی فلاح حاصل نہیں کرے گا۔ اولیاء کرام کے سامنے لوگوں کے عیوب بیان نہیں کرنے چاہئیں کیونکہ کہا گیا ہے کہ جس نے لوگوں کے عیوب بیان کئے اس نے اپنے عیوب کی گواہی دی کیونکہ وہ ان کا ذکر اس مقدار سے کرتا ہے جو خود اس میں موجود ہیں۔

                شیخ سے تب تک کوئی علمی گفتگو نہیں کرنی چاہئے جب تک کہ وہ خود اس پر تفکر مکمل نہ کر لے اگر پھر بھی بات سمجھ میں نہ آئے تو اپنے اہل بیعت کی محفل میں سوال اٹھائے۔ اگر پھر بھی سمجھ میں نہ آئے تو شیخ سے عرض کرے۔ بلاوجہ اور بغیر سوچے سمجھے سوال کرنا ہرگز مناسب نہیں ہوتا۔

                مرید کو چاہئے کہ وہ مرشد کے سامنے بہت زیادہ باتیں نہ کرے خاص طور پر جو اس کے دین اور دنیا کے لئے مفید نہ ہوں۔ مرشد کے سامنے کسی کی غیبت نہ کرے اور نہ کسی کی شکایت کرے۔ مرشد کے سامنے ہرگز اس طرح کی بات نہ کرے جس سے اس کو غم ہو یا غصہ آئے۔

Topics


Adab e Mureeden

میاں مشتاق احمد عظیمی

حضور قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں:

"ذہن کو آزاد کر کے کسی بندے کی خدمت میں پندرہ منٹ بیٹھیں۔ اگر بارہ منٹ تک ذہن اللہ کے علاوہ کسی اور طرف متوجہ نہ ہو تو وہ بندہ استاد بنانے کے لائق ہے۔ انشاء اللہ اس سے عرفان نفس کا فیض ہو گا۔"
                اس کتاب کی تیاری میں مجھے بیشمار کتابوں سے اچھی اچھی باتیں حاصل کرنے میں کافی وقت لگا۔ آپ کو انشاء اللہ میری یہ کاوش بہت پسند آئے گی اور سلوک کے مسافروں کو وہ آداب حاصل ہو جائیں گے جو ایک مرید یا شاگرد کے لئے بہت ضروری ہوتے ہیں۔                اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ مجھے سلسلہ عظیمیہ کے ایک ادنیٰ سے کارکن کی حیثیت سے میری یہ کاوش مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی کی نظر میں قبول ہو اور ان کا روحانی فیض میرے اوپر محیط ہو اور مجھے تمام عالمین میں ان کی رفاقت نصیب ہو۔ (آمین)


میاں مشتاق احمد عظیمی