Topics

سونے کے آداب


                نیند ایک ایسی چیز ہے جس کو بندہ ختم نہیں کر سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بنیادی تقاضوں میں سے ایک اہم تقاضہ ہے مگر اس کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ ایسے ایسے لوگ بھی ہیں جو سولہ سولہ گھنٹے سوتے ہیں مگر ان کی کمر نہیں دکھتی یعنی انہوں نے اپنی نیند بڑھا لی اور ایسے لوگ بھی ہیں جو تین گھنٹہ سوتے ہیں اور تین گھنٹہ سونے کے بعد بڑے چاق و چوبند رہتے ہیں اور حاضر دماغ بھی ہوتے ہیں۔

                میرے مرشد حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب فرماتے ہیں:

                ‘‘جب میں کالم لکھا کرتا تھا تو عموماً ۹۱ گھنٹہ روز کام کرتا تھا۔ سارے خطوط کے میں خود ہی جواب دیا کرتا تھا۔ ۹۱ گھنٹے میں، میں کبھی نہیں تھکا۔ اس میں ذوق و شوق کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ میرے پیر و مرشد حضور قلندر بابا اولیاءؒ نے مجھ سے فرمایا کہ اللہ سے دوستی کرنی ہے تو مخلوق سے محبت کرو خدمت کرو۔ تو اس ذوق و شوق میں نیند کا مجھ پرکوئی غلبہ نہ ہوتا تھا۔’’

                اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں:

                اے پیغمبر! رات کو آدھی رات گزر جائے یا آدھی رات سے کم گزر جائے یا تھوڑی زیادہ گزر جائے تو اٹھو اور اٹھ کر قرآن پڑھو۔

                اگر نیند پر قابو پانا چاہیں تو جس طرح انسان زیادہ سونے سے بیمار ہو جاتا ہے اسی طرح اگر ایک دم نیند کم کر دی جائے تو انسان بیمار پڑ جاتا ہے۔ ایک انسان کی نیند کا وقفہ ۵ گھنٹہ ہے اور وہ کم کر کے ۴ گھنٹے کر دے گا تو بیمار نہیں ہو گا اگر وہ ایک دم کرم کر کے ۲ گھنٹے کر دے تو بیمار ہو جائے گا۔ ۵ گھنٹے کی نیند انسان کے لئے کافی ہے انسان چست بھی رہتا ہے، صحت بھی اچھی رہتی ہے اور بھوک بھی لگتی ہے۔ اگر کسی چیز کو اعتدال میں رہ کر آہستہ آہستہ کیا جائے اور اس کے پیچھے کوئی رہنما بھی ہو استاد بھی ہو تو اس میں کوئی نقصان نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی تکلیف ہوتی ہے۔ نیند میں کمی سے بلاشبہ لاشعور بیدار ہوتا ہے۔

                علماء اکرام کا کہنا ہے کہ سالک کو اللہ سے غافل ہو کر نہیں سونا چاہئے۔ اسے اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ ان کی نیند اللہ کے لئے ہو۔ اللہ تعالیٰ رات کے آخری حصے میں عبادت کرنے والے کو پسند کرتا ہے۔ کم کھانا، کم بولنا اور کم سونا سالکین طریقت کے لئے نہایت مفید عمل ہے۔ سوتے وقت سیدھے پہلو سونا چاہئے اور اللہ کی یاد میں سونا چاہئے اور صبح اٹھ کر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے وقتی موت سے انسان کو پھر زندگی دی۔ کہا گیا ہے کہ دن کلنے کے بعد سونا خلاف عادت ہے اور دن کے درمیان سونا فطری بات ہے اور دن کے آخر میں سونا حماقت ہے۔

                حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ ‘‘نیند موت کا بھائی ہے۔’’

                طالب حق کے لئے ضروری ہے کہ اس وقت تک سوئے جب غلبہ نیند کی حالت زیادہ ہو کیونکہ اگر غنودگی اور غفلت میں زیادہ رہے گا تو اس حالت میں اس کا مقصود اس سے کھو جائے گا۔ اور اپنے آپ سے اور اپنے معاملہ میں غافل اور حق تعالیٰ سے دور رہ جائے گا۔

                طالب حق کے لئے ضروری ہے کہ وہ سونے سے پہلے اپنے تمام دن کا احتساب کرے اور اگر کہیں زیادتی ہو گئی ہو تو خدا تعالیٰ سے معافی مانگے اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرے۔ راہ حق میں جب سالک اس درجے پر پہنچ جائے کہ اس کا اپنا اختیار ختم ہو جائے تو وہ نیند یا بیداری جس حالت میں بھی ہو عزیز ہی ہوتا ہے۔ پس طالب حق کی نیند کے لئے شرط ہے کہ اپنی ابتدائی عمر کی نیند کو اپنے آخری دور کی نیند کی طرح سمجھے۔ اپنے گناہوں سے توبہ کرے، ناراض لوگوں کو راضی کرے، اچھی طرح وضو کرے، داہنے پہلو پر قبلہ رخ ہو کر سوئے۔ دنیا میں کئے ہوئے اچھے کاموں اور اسلام کی نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرے اور عہد کرے کہ اگر بیدار ہوا تو گناہوں کا ارتکاب نہ کروں گا۔ پس جس شخص نے بیداری میں یہ کام کر لئے اسے نیند یا موت سے کوئی خوف نہیں ہوتا۔ طالبان حق کے لئے دوسری نیند اچھی تصور نہیں کی جاتی اس لئے صرف ایک بار ہی سونا چاہئے۔ بے کاری اور نیند بندے کے لئے فراموشی پیدا کرتی ہے۔

            

Topics


Adab e Mureeden

میاں مشتاق احمد عظیمی

حضور قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں:

"ذہن کو آزاد کر کے کسی بندے کی خدمت میں پندرہ منٹ بیٹھیں۔ اگر بارہ منٹ تک ذہن اللہ کے علاوہ کسی اور طرف متوجہ نہ ہو تو وہ بندہ استاد بنانے کے لائق ہے۔ انشاء اللہ اس سے عرفان نفس کا فیض ہو گا۔"
                اس کتاب کی تیاری میں مجھے بیشمار کتابوں سے اچھی اچھی باتیں حاصل کرنے میں کافی وقت لگا۔ آپ کو انشاء اللہ میری یہ کاوش بہت پسند آئے گی اور سلوک کے مسافروں کو وہ آداب حاصل ہو جائیں گے جو ایک مرید یا شاگرد کے لئے بہت ضروری ہوتے ہیں۔                اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ مجھے سلسلہ عظیمیہ کے ایک ادنیٰ سے کارکن کی حیثیت سے میری یہ کاوش مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی کی نظر میں قبول ہو اور ان کا روحانی فیض میرے اوپر محیط ہو اور مجھے تمام عالمین میں ان کی رفاقت نصیب ہو۔ (آمین)


میاں مشتاق احمد عظیمی