Topics

لو بلڈ پریشر

 

اسباب

بعض اشخاص میں خون کا دباؤ فطری طور پر کم ہوتا ہے۔ یہ کوئی بیماری نہیں ہے۔ خون کا زیادہ بہہ جانا، دل کی بیماری، خون میں جراثیم کا نفوذ، اعصابی تناؤ، جذباتی ہیجان اور دست اور قے کی زیادتی سے اکثر لو بلڈ پریشر ہو جاتا ہے۔

علامات

بلڈ پریشر اگر نارمل سے ۵ یا ۱۰ درجے نیچے ہو جائے تو سر چکرانے لگتا ہے۔ سر خالی اور ہلکا محسوس ہوتا ہے۔ بلڈ پریشر اگر اس سے زیادہ نیچے ہو جائے تو آدمی Shockمیں چلا جاتا ہے۔ اس پر غنودگی طاری ہو جاتی ہے، ایسی حالت میں مریض کو فوراً ہسپتال لے جانا چاہئے۔

علاج

۱۔       اصل سبب کے علاج کے ساتھ ساتھ سرخ شعاعوں کا پانی صبح و شام دیا جائے۔

۲۔      پندرہ منٹ تک مریض کو سرخ روشنی میں لٹایا جائے۔

ہائی بلڈ پریشر

فشار یا خون کا دباؤ ایک نارمل مقدار میں برقرار رکھنے میں دل گردے، شریانیں، خون کا حجم اور اعصابی نظام کا اپنا اپنا کردار ہے۔ جب دل سکڑ کر خون کو شریانوں میں پھینکتا ہے اس وقت شریانوں میں خون کا دباؤ ناپا جائے تو اس کو اوپر کا بلڈ پریشر (Systolic B.P) کہتے ہیں۔ جب دل پھیلتا ہے اس وقت اگر شریانوں میں خون کا دباؤ ناپا جائے تو اس کو نچلا بلڈ پریشر (Diastolic B.P) کہتے ہیں۔ بلڈ پریشر عمر کے ساتھ ساتھ عموماً بڑھتا ہے۔

۲۰ سال کی عمر میں بلڈ پریشر ۸۰ /۱۴۰ نارمل ہوتا ہے۔

۵۰ سال کی عمر میں بلڈ پریشر ۶۵ /۱۶۰ نارمل ہوتا ہے۔

۷۵ سال کی عمر میں بلڈ پریشر ۱۰۵/۱۷۰ نارمل ہوتا ہے۔

بلڈ پریشر اگر دیئے گئے پیمانے سے بڑھ جائے تو اس کو کئی مرتبہ مسلسل ایک ہفتے کے لئے چیک کرنا چاہئے۔ اگر پھر بھی نارمل سے مسلسل اوپر آئے تو اس شخص کو ہائی بلڈ پریشر کا مریض قرار دیا جاتا ہے۔

اسباب و علامات

غصہ، پریشانی، اجنبی ماحول اور بے آرامی وقتی طور پر عام آدمی کا بلڈ پریشر بڑھا دیتی ہے۔ لیکن یہ مرض میں شمار نہیں ہوتا۔ ہائی بلڈ پریشر کے مریض کو عموماً سر درد کی شکایت ہوتی ہے۔ پانچ سے دس فیصد مریضوں میں بلڈ پریشر بڑھنے کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے جب کہ اکثر کوئی وجہ نہیں ہوتی۔ بلڈ پریشر ہائی ہونے کی وجوہات یہ ہیں:

۱۔       گردوں کے امراض

۲۔      شہ رگ (Aorta) کا پیدائشی سکڑاؤ

۳۔      الکوحل

۴۔      دواؤں اور ہارمونز کی زیادتی

۵۔      منفی خیالات کی یلغار

۶۔      مستقبل کے خدشات

۷۔      مسلسل نادیدہ خوف اور غم و فکر

ہائی بلڈ پریشر ایک عذاب ہے۔ مسلسل بلڈ پریشر ہائی رہنے سے تقریباً جسم کا ہر حصہ متاثر ہوتا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے مندرجہ ذیل پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں:

۱۔       دماغ کی رگ کا پھٹ جانا

۲۔      آنکھ کے پردے پر خون جم جاتا ہے۔ کبھی اندھا پن بھی ہو سکتا ہے۔

۳۔      گردے فیل ہو سکتے ہیں

۴۔      دل پر اضافی دباؤ پڑتا ہے یہاں تک کہ دل فیل ہو جاتا ہے۔

علاج

۱۔       سبز رنگ پانی صبح و رات

۲۔      سفید رنگ پانی کھانے سے پہلے دونوں وقت

۳۔      فیروزی رنگ پانی دوپہر و شام

۴۔      مریض کو روزانہ پندرہ منٹ تک سبز روشنی میں رکھا جائے

Topics


Color Theraphy

خواجہ شمس الدین عظیمی

حضرت لقمان علیہ السلام کے نام

جن کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی 

 

وَ لَقَدْ اٰ تَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ اَن اشْکُرْ لِلّٰہِ

(لقمٰن۔۔۔۔۔۔۱۲)

اور ہم نے لقمان کو حکمت دی تا کہ وہ اللہ کا شکر کرے۔

اور جو بکھیرا ہے تمہارے واسطے زمین میں کئی رنگ کا اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیںo 

اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمان زمین کا بنانا اور بھانت بھانت بولیاں تمہاری اور رنگ اس میں بہت پتے ہیں بوجھنے والوں کوo 

تو نے دیکھا؟ کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح ان کے رنگ اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح ان کے رنگ اور بھجنگ کالےo

نکلتی ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے کئی رنگ ہیں اس میں آزار چنگے ہوتے ہیں لوگوں کے اس میں پتہ ہے ان لوگوں کو جو دھیان کرتے ہیںo

(القرآن)