Topics

قیامت

 

 

رات دو بج کر دو منٹ دو سیکنڈگزر نے پر شعور کی سطح پر یہ خیال ابھر ا کہ گھنٹے ،دن، مہینے ،سال اور صدیاں کیا ہیں ۔؟اگر ان کی کو ئی حقیقت ہے تو گزار ہوا لمحہ کہاں چلا جا تا ہے؟

عام مشاہدہ بھی یہ ہے کہ جب کو ئی مر جا تا ہے تو واپس نہیں آتا ۔ مر نے کا مفہوم یہ لیا جا تا ہے وقت کی زنجیروں میں سے ایک کڑی نکل گئی ، اس طر ح نکل گئی کہ پھر اسے زنجیر قبول نہیں کر تی یا وہ کڑی وقت کی زنجیر سے اپنا رشتہ منقطع کر لیتی ہے ۔

خاندان کے افراد کی طر ح شب و روز اور ہمہ وقت کی زرّیت سمجھ لیا جا ئے تو ا س کے علا وہ ہر گز کوئی بات اپنے اندر وزن نہیں رکھتی  کہ لمحات پر موت وارد ہو تی ہے تو منٹ کی تخلیق ہو تی ہے اور جب منٹ اور گھنٹے موت کی وادی میں سفر کر تے ہیں تو شب روز کا وجود ظاہر ہو جا تا ہے ۔ رات اور دن جب لقمہ اجل بن جا تے ہیں تو وقت کی کوکھ ہمہ سال کو جنم دیتی ہے ۔ مہینے اور سال عمرِ طبعی کو پہنچتے ہیں تو صدیوں کی پیدا ئش عمل میں آتی ہے ______ ایک آدمی کے مر نے کے بعد جس طر ح ہمیں  کچھ پتا نہیں چلتا کہ وہ کہاں گیا  وقت کے بارے میں بھی  ہمار ے لبوں پر مہر سکوت لگی ہو ئی ہے ۔

شماریات کا تعلق بھی وقت کے ساتھ براہ راست ہے اس لئے کہ زندگی بجا ئے خود شماریات کے تا نے بانے پر رواں دواں ہے ۔ پیدا ئش سے مر تے دم تک ہم شماریات کے مختلف خانوں میں منتقل ہو تے رہتے ہیں ۔اس وقت تک ہم گو نگے بہرے ہیں جب تک ایک اورایک دو کے مفروضہ تعین کو تسلیم نہ کر یں ۔ایک اس لئے ایک ہے ہمیں بتا دیا گیا ہے کہ ایک ہے ۔دو۲ اس لئے دو۲ ہے کہ خبر متواتر کی حیثیت سے ہمارے لیے یہ لازم کر دیا گیا ہے کہ ہم دو۲ کو دو۲ کہیں نوع انسانی اس مفروضہ ورثے کے جو ئے کو اپنے کاندھوں سے اتار کر پھینک دے تو حساب و کتاب کے سارے فا رمولے زمیں دوز ہو جا ئیں گے ۔

آدم زاد کی ذاتی اور صفا تی حیثیت کا تعین اس کے نام سے ہو تا ہے نا م بھی جب اپنی جگہ منجمد نظر آتا ہے تو ہمارے اوپر حیرت کے باب کھل جا تے ہیں ۔ چند گھنٹوں کی جا ن کا جو نام رکھ دیا جا تا ہے وہ زندگی بھر ہر ہر لمحہ بدلتے ہو ئے اعضا ئے جسمانی کے ساتھ اس طر ح چپکا رہتا ہے کہ کسی طر ح ا س سے فرار ممکن نہیں ۔ یہ کیسی نا دانی اور کم فہمی ہے ایک دن کا بچہ وقت اور زمانے کی چکی میں پس کر ساٹھ سال میں سر سے پیر تک تبدیل  ہو جاتاہے لیکن نام وہی رہتا ہے جو پیدا ئش کے وقت رکھا گیا تھا۔

بات اختیار کی آتی ہے تو مجبوری کا یہ عالم کہ آدم زاد کو خود پیدا ئش پر اختیار حاصل نہیں ہے سونا ، جا گنا ، کھا نا ، پینا ، بڑھنا ، گھٹنا آدمی کا اپنا اختیار نہیں لیکن آدم زاد پھر بھی با اختیار ہے ۔ کو ئی فر د واحد مر نا نہیں چا ہتا لیکن مر نا ایک لا زم امرہے ۔ کل نفسہ ذائقۃ الموت  ایک مخصوص نظام کے تحت سورج نکلتا ، غروب ہو جا تا ہے ، دھو پ دھر تی کو انر جی فراہم کر تی ہے ، ہوا تیز اور سبک چلتی ہے اور چلتی رہتی ہے ۔ تخلیق کے اندر آٹو میٹک مشین کے ذریعے ہوا جسم میں دوڑنے والے خون کو زندگی عطا کر تی ہے لیکن اس پر بھی ہمیں کو ئی اختیار نہیں ہے ۔

اس لئے کہ سانس بھی ہمارا اختیاری نہیں ہے۔

آئیے اس مسئلے کو الہامی طر زوں میں سمجھنے کی کوشش کر یں ۔

اللہ تعالیٰ فر ما تے ہیں:

جہاں تم ایک ہو وہاں دو سرا اللہ ہے ، جہاں تم دو ہو وہاں تیسرا اللہ ہے ، اللہ تعالیٰ رگ جان سے زیادہ قریب ہے۔ اللہ ابتدا ہے ، اللہ انتہا ء ہے اللہ ظا ہر ہے ، اللہ با طن ہے ۔ اللہ ہر چیز پر محیط ہے ۔

شعور ہمیں بتا تا ہے کہ پہاڑ انتہا ئی سخت ٹھوس اور جمی ہو ئی شئے کا نام ہے لیکن اللہ تعالیٰ فر ماتے ہیں :

’’تم گمان کر تے ہو کہ پہاڑ جمے ہو ئے ہیں حالاں کہ یہ بادلوں کی طر ح اڑ رہے ہیں ۔‘‘

جب ہم قیامت کا تذکرہ کر تے ہیں تو لا کھوں کروڑوں کا ماضی اس کے ساتھ ہمیں چپکا نظر آتا ہے مگر قرآن فر ما تا ہے :

’’جتنی دیر پلک جھپکنے میں لگتی ہے ،قیامت کا وقفہ اس سے بھی کم ہے ۔ ‘‘

اے میرے بھا ئیو ، میرے بزرگو، میری ما ؤ ں، بہنواور بیٹیو ! کیا ہم یہ سو چنے پرمجبور نہیں ہیں کہ یہ سب کیا ہے ، کیوں ہے ؟


*****


Awaze Dost

خواجہ شمس الدین عظیمی



ان روشن ضمیر دوستوں کے نام جنہوں نے میری آواز پر روحانی مشن کے لئے خود کو وقف کردیا۔