Topics

رنگوں کے مراکز

 

شمالی امریکہ میں پائے جانے والے ریڈ انڈین قبیلہ ہوپی کی کتاب ’’ہوپی‘‘کے مطابق جسم انسانی اور کرہ زمین ایک ہی طرز بنائے گئے ہیں۔ دونوں کا ایک محور ہے۔ جسم انسانی کا محور ریڑھ کی ہڈی ہے جس پر انسانی حرکات و سکنات کا انحصار ہے۔ اس محور میں چند ایسے مراکز ہیں جن پر صحت کا دارومدار ہے۔

پہلا مرکز سر کے اوپری حصہ میں واقع ہے۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو یہ حصہ نرم ہوتا ہے گویا یہ ایک دروازہ ہے جس کے ذریعہ بچہ زندگی قبول کرتا ہے۔

اس کے نیچے دوسرا مرکز ’’دماغ‘‘ ہے جس کے ذریعے اس نے سوچنا سیکھا۔ تیسرا مرکز حلق ہے جو منہ اور ناک کے سوراخوں کو آپس میں ملاتا ہے۔ اس مرکز کی وساطت سے چکھنے اور بولنے کی حس پیدا ہوئی۔ چوتھا مرکز دل ہے جس کے ذریعہ Vibrationکا نظام قائم ہے۔ آخری مرکز ناف کے نیچے ہے۔ اس مرکز سے جسمانی حرکات و سکنات کنٹرول ہوتی ہیں۔

ان مراکز میں اور ان کے درمیان توانائی کا بہاؤ مناسب طور پر قائم رہے تو جسمانی صحت ٹھیک رہتی ہے۔ تمام مراکز توانائی کی مقداروں سے معمور ہیں۔ ہر مرکز ایک خاص وصف پر قائم ہے اور اس وصف کا اظہار رنگوں کی شکل میں ہوتا ہے۔

ہر شئے میں درجہ بندی ہے چنانچہ رنگ کے بھی کئی درجات ہیں۔ گرم توانائی جسم کو متحرک رکھتی ہے جو جسم کے نچلے حصہ میں پیدا ہوتی ہے جو توانائی کھانا ہضم کرتی ہے۔ اس کا مزاج گرم اور رنگ زرد ہے۔ اس مرکز کے عدم توازن کی بناء پر معدہ لبلبہ اور جگر کے افعال متاثر ہو جاتے ہیں۔

قلبی مرکز کا رنگ سرخ ہے۔ اس مرکز کے عدم توازن کی بناء پر تھائی رائیڈ گلینڈ اور جنسی نظام کے افعال متاثر ہوتے ہیں۔ قوت مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے۔ اگر سرخ رنگ میں عدم توازن پیدا ہو جائے تو غصہ بڑھ جاتا ہے اور آدمی جلد بازی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

حلق میں بھی ایک مرکز ہے جس کا رنگ نیلا ہے۔ اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنے جذبات کا اظہار الفاظ میں کس طرح کرتا ہے۔ جسمانی طور پر چونکہ یہ گلے میں واقع ہے اس لئے گلے کی جملہ کمزوریاں اس مرکز کے ذریعہ دریافت کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً اگر تھائی رائیڈ گلینڈ خراب ہو جائیں تو جسم متاثر ہو سکتا ہے۔

بھنوؤں کے درمیان میں جو مرکز ہے اس کا قدرتی رنگ گہرا نیلا ہے۔ اس کا تعلق دماغ کے اس حصے سے ہے جو لاشعوری تحریکات کا حامل ہے۔

سر کے بیچ میں مرکز کا رنگ بنفشی ہے۔ اس رنگ سے کسی شخص کے اندر فنکارانہ صلاحیتوں، مذہب سے لگاؤ اور حسن پرست ہونے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اگر ہم صحت مند رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم تمام مراکز کے رنگوں سے مکمل طور پر واقف ہوں۔

Topics


Color Theraphy

خواجہ شمس الدین عظیمی

حضرت لقمان علیہ السلام کے نام

جن کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی 

 

وَ لَقَدْ اٰ تَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ اَن اشْکُرْ لِلّٰہِ

(لقمٰن۔۔۔۔۔۔۱۲)

اور ہم نے لقمان کو حکمت دی تا کہ وہ اللہ کا شکر کرے۔

اور جو بکھیرا ہے تمہارے واسطے زمین میں کئی رنگ کا اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیںo 

اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمان زمین کا بنانا اور بھانت بھانت بولیاں تمہاری اور رنگ اس میں بہت پتے ہیں بوجھنے والوں کوo 

تو نے دیکھا؟ کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح ان کے رنگ اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح ان کے رنگ اور بھجنگ کالےo

نکلتی ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے کئی رنگ ہیں اس میں آزار چنگے ہوتے ہیں لوگوں کے اس میں پتہ ہے ان لوگوں کو جو دھیان کرتے ہیںo

(القرآن)