Topics

رنگوں کی روحانی تھیوری

 

عظیم روحانی سائنس دان حضور قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں کہ

انسان اب تک رنگوں کی تقریباً ۶۰ قسمیں دریافت کر چکا ہے لیکن ان ساٹھ رنگوں میں امتیاز بہت ہی زیادہ تیز نگاہ رکھنے والے کر سکتے ہیں۔ نگاہ جس چیز کو محسوس کرتی ہے انسان اس کو رنگ روشنی جواہرات اور آخر میں پانی کا نام دیتا ہے۔ آدمی جب خلاء میں دیکھتا ہے اور خلاء سے ٹکرا کر نظر واپس دماغ کی اسکرین پر آتی ہے اور دماغ پر جو تاثر ہوتا ہے وہ تاثر آسمانی رنگ نظر آتا ہے۔

بارش کے بعد جب فضا گرد و غبار سے صاف ہو جاتی ہے تو آسمانی رنگ کی شعاعیں اپنے مقام کے اعتبار سے رنگ بدلتی ہیں۔ یہاں مقام سے مراد وہ فضا ہے جس کو انسان بلندی پستی وسعت اور زمین سے قربت یا دوری کا نام دیتا ہے۔ یہی حالات آسمانی رنگ کو ہلکا گہرا اور زیادہ گہرا، زیادہ ہلکا یہاں تک کہ مختلف رنگوں میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ حد نگاہ سے زمین کی طرف لوٹیئے تو آسمانی رنگ کی لاتعداد رنگین شعاعیں ملیں گی۔ یہاں اس لفظ رنگ کو قسم کہا جا سکتا ہے۔ دراصل قسم ہی وہ چیز ہے جو ہماری نگاہوں میں رنگ کہلاتی ہے۔ یعنی رنگ کی قسمیں صرف رنگ ہی نہیں بلکہ رنگ کے ساتھ فضا میں اور بہت سی چیزیں ملی ہوئی ہیں۔ جو اس میں تبدیلی پیدا کر دیتی ہیں۔ رنگ کا جو منظر ہمیں نظر آتا ہے اس میں روشنی آکسیجن گیس نائٹروجن گیس اور قدرے دیگر گیسیں (Gases) بھی شامل ہیں۔ ان گیسوں کے علاوہ کچھ سائے (Shades) بھی ہوتے ہیں جو ہلکے ہوتے ہیں یا دبیز، کچھ اور اجزاء بھی اسی طرح آسمانی رنگ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ان ہی اجزاء کو ہم مختلف قسمیں کہتے ہیں ۔

جس فضا سے ہمیں رنگ کا فرق نظر آتا ہے اس فضا میں نگاہ اور حد نگاہ کے درمیان باوجود مطلع صاف ہونے کے بہت کچھ موجود ہوتا ہے۔

روشنیوں کا سرچشمہ کیا ہے۔ اس کا بالکل صحیح علم انسان کو نہیں ہے۔ قوس و قزح کا جو فاصلہ بیان کیا جاتا ہے وہ زمین سے تقریباً نو کروڑ میل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو رنگ ہمیں اتنے قریب نظر آتے ہیں وہ نو کروڑ میل کے فاصلے پر ہیں۔ اب یہ سمجھنا مشکل کام ہے کہ سورج کے اور زمین کے درمیان علاوہ کرنوں کے اور کیا کیا چیزیں موجود ہیں جو فضا میں تحلیل ہوتی رہتی ہیں۔ جو کرنیں سورج سے ہم تک منتقل ہوتی رہتی ہیں ان کا چھوٹے سے چھوٹا جزو فوٹان (Photon) کہلاتا ہے۔

تصوف میں فوٹان کو جو نام دیا گیا ہے وہ ’’عارض‘‘ ہے۔ عارض کے معنی فوٹان پورے نہیں کرتا مگر مثال کے لئے مجبوراً فوٹان کا نام استعمال کیا گیا ہے۔ عارض کے خواص میں سے ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس میں ڈائیمینشن نہیں ہوتے اور وہ اتنے تیز رفتار ہوتے ہیں کہ جہاں سے روانہ ہوتے ہیں پل بھر میں کائنات کا چکر لگا کر واپس وہیں آ جاتے ہیں۔ فوٹان کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ سائنس دانوں نے کیا فیصلہ کیا ہے مگر عارض کے بارے میں یہ بات یقینی ہے کہ وہ جس جگہ سے جس پل چلتا ہے اسی پل کائنات کا دورہ پورا کر کے اپنی جگہ پہنچ جاتا ہے۔ عارض کی تعداد سے پوری کائنات بھری پڑی ہے۔ عارض میں چونکہ Dimensionsنہیں ہوتے اس لئے جب یہ کرنوں کی شکل میں پھیلتے ہیں تو نہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں اور نہ ایک دوسرے کی جگہ لیتے ہیں۔

دوسرے رنگ کو پھر سمجھیں۔

فضا میں جس قدر عناصر موجود ہیں ان میں سے کسی عنصر سے عارض کا ٹکراؤ ہی دراصل اسپیس (Space) ہے۔

فضا کیا ہے؟ رنگوں کی تقسیم ہے۔ رنگوں کی تقسیم جس طرح ہوتی ہے وہ اکیلے عارض کی رو سے نہیں ہوتی بلکہ ان حلقوں سے ہوتی ہے جو عارض سے بنتے ہیں۔ جب عارض ان حلقوں سے ٹکراتے ہیں تو اسپیس (Space) یا رنگ وغیرہ کئی چیزیں بن جاتی ہیں۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کرنوں میں یہ حلقے کیسے پڑے؟

ہمیں یہ تو علم ہے کہ ہمارے کہکشانی نظام میں بہت سے اسٹار یعنی سورج ہیں۔ وہ کہیں نہ کہیں سے روشنی لاتے ہیں ان کا درمیانی فاصلہ کم از کم پانچ نوری سال بتایا جاتا ہے۔ جہاں ان کی روشنیاں آپس میں ٹکراتی ہیں وہ روشنیاں چونکہ قسموں پر مشتمل ہیں اس لئے حلقے بنا دیتی ہیں۔ جیسے ہماری زمین یا دوسرے سیارے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سورج سے یا کسی اور اسٹار(Star) سے جن کی تعداد ہمارے کہکشانی نظام میں ۲(دو) کھرب بتائی جاتی ہے اور جن کی روشنیاں سنکھوں کی تعداد پر مشتمل ہیں، جہاں ان روشنیوں کا ٹکراؤ ہوتا ہے وہیں ایک حلقہ بن جاتا ہے جسے سیارہ کہتے ہیں۔

آدمی سب سے پہلے آسمانی رنگ کا مخلوط یعنی بہت سے ملے ہوئے رنگوں کو اپنے بالوں اور سر میں قبول کرتا ہے اور اس رنگ کا مخلوط پیوست ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ جتنے خیالات، کیفیات اور محسوسات وغیرہ اس مخلوط سے اس کے دماغ کو متاثر کرتے ہیں وہ اتنا ہی متاثر ہوتا ہے۔

دماغ میں کھربوں خانے ہوتے ہیں اور ان میں سے برقی رو گزرتی رہتی ہے۔ اس برقی رو کے ذریعہ خیالات شعور اور تحت الشعور سے گزرتے رہتے ہیں اور اس سے بہت زیادہ لاشعور میں۔ دماغ میں مخلوط آسمانی رنگ آنے سے اور پیوست ہونے سے خیالات، کیفیات، محسوسات وغیرہ برابر بدلتے رہتے ہیں۔ اس کی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ اس رنگ کے سائے ہلکے بھاری یعنی طرح طرح سے اپنا اثر کم و بیش پیدا کرتے ہیں اور فوراً اپنی جگہ چھوڑ دیتے ہیں تا کہ دوسرے سائے ان کی جگہ لے سکیں۔ بہت سے سائے جو جگہ چھوڑ دیتے ہیں محسوسات بن جاتے ہیں اس لئے کہ وہ گہرے ہوتے ہیں، ان کے علاوہ بہت سی خیالات کی صورتیں منتشر ہو جاتی ہیں۔ رفتہ رفتہ انسان ان خیالات کو ملانا سیکھ لیتا ہے۔ ان میں سے جن خیالات کو بالکل کاٹ دیتا ہے وہ حذف ہو جاتے ہیں اور جو جذب کر لیتا ہے وہ عمل بن جاتے ہیں۔ انہی سایوں کے ذریعہ انسان رنج و راحت حاصل کرتا ہے کبھی وہ رنجیدہ اور بہت رنجیدہ ہو جاتا ہے، کبھی وہ خوش اور بہت خوش ہو جاتا ہے۔ یہ سائے جس قدر جسم سے خارج ہو سکتے ہیں ہو جاتے ہیں لیکن جتنے جسم کے اندر پیوست ہو جاتے ہیں وہ اعصابی نظام بن جاتے ہیں۔

آدمی دو پیروں سے چلتا ہے اس لئے سب سے پہلے ان سایوں کا اثر اس کا دماغ قبول کرتا ہے۔ دماغ کی چند حرکات معین ہیں جن سے وہ اعصابی نظام میں کام لیتا ہے۔ سر کا پچھلا حصہ یعنی ام الدماغ اور حرام مغز اس اعصابی نظام میں خاص کام کرتا ہے۔ رنج و خوشی دونوں سے اعصابی نظام متاثر ہوتا ہے۔ رنج و خوشی دراصل بجلی کی ایک رو ہے جو دماغ سے داخل ہو کر تمام اعصاب میں سما جاتی ہے۔ یہ لہریں دو پیروں سے چلنے والے جانور کے دماغ میں داخل ہوتی ہیں۔ ان لہروں کا وزن، تجزیہ، فضا میں ہر جگہ بالکل یکساں نہیں ہوتا بلکہ جگہ جگہ تقسیم ہوتا ہے اور اس تقسیم کاری میں دماغ کچھ سائے زیادہ جذب کرتا ہے اور کچھ سائے کم۔ انسان کے دماغ میں لاشمار خلئے (Cells) بھی کام کرتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ان لاشمار خلیوں میں سائے کی لہریں جو فضا سے بنتی ہیں وہ اپنے اثرات کو برقرار رکھیں۔ کبھی ان کے اثرات بہت کم رہ جاتے ہیں اور کبھی ان کے اثرات بالکل نہیں رہتے لیکن یہ واضح رہے کہ یہ تمام خلئے جو دماغ سے تعلق رکھتے ہیں کسی وقت خالی نہیں رہتے کبھی ان کا رخ ہوا کی طرف زیادہ ہو جاتا ہے کبھی پانی کی طرف کبھی غذا کی طرف اور کبھی تنہا روشنی کی طرف۔ اس روشنی سے رنگ اور رنگ کی ملاوٹی شکلیں بنتی ہیں اور خرچ ہوتی رہتی ہیں۔ اگر انسان دماغ سے کام لے تو چہرہ پر طرح طرح کے رنگ نظر آتے ہیں۔ ان رنگوں میں سب سے نمایاں رنگ آنکھوں کا رنگ اور حواس کی رو کا رنگ ہوتا ہے۔ اگرچہ آنکھیں بھی حواس میں شامل ہیں لیکن یہ ان چیزوں کا جو باہر سے دیکھتی ہیں زیادہ اثر قبول کرتی ہیں۔ بہت سے باہر کے عکس آنکھوں کے ذریعہ اندرونی دماغ کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کی شکل یہ ہوتی ہے کہ حواس تازہ ہو جاتے ہیں یا افسردہ کمزور ہو جاتے ہیں یا طاقتور۔

انہی باتوں پر دماغی کام کا انحصار ہے۔ رفتہ رفتہ یہ کام اعصاب میں سرایت کر جاتا ہے جو صحیح بھی کام کرتا ہے اور غلط بھی۔

دماغی لہروں سے چہرہ پر اتنے زیادہ اثرات آ جاتے ہیں کہ ان سب کا پڑھنا مشکل ہے پھر بھی ایک فلم چہرہ میں چلتی رہتی ہے جو اعصاب میں منتقل ہونے والے تاثرات کا پتہ دیتی ہے۔

Topics


Color Theraphy

خواجہ شمس الدین عظیمی

حضرت لقمان علیہ السلام کے نام

جن کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی 

 

وَ لَقَدْ اٰ تَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ اَن اشْکُرْ لِلّٰہِ

(لقمٰن۔۔۔۔۔۔۱۲)

اور ہم نے لقمان کو حکمت دی تا کہ وہ اللہ کا شکر کرے۔

اور جو بکھیرا ہے تمہارے واسطے زمین میں کئی رنگ کا اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیںo 

اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمان زمین کا بنانا اور بھانت بھانت بولیاں تمہاری اور رنگ اس میں بہت پتے ہیں بوجھنے والوں کوo 

تو نے دیکھا؟ کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح ان کے رنگ اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح ان کے رنگ اور بھجنگ کالےo

نکلتی ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے کئی رنگ ہیں اس میں آزار چنگے ہوتے ہیں لوگوں کے اس میں پتہ ہے ان لوگوں کو جو دھیان کرتے ہیںo

(القرآن)