Topics
علامات
اس مرض میں مریض پر اچانک
دہشت طاری ہو جاتی ہے۔ دہشت میں اس کا دل تیز تیز دھڑکنے لگتا ہے۔ جسم پسینے سے شرابور
ہو جاتا ہے۔ دم گھٹتا ہے سانس رک رک کر آتا ہے۔ سینے میں درد ہوتا ہے، متلی ہوتی ہے،
پیٹ میں درد ہو سکتا ہے۔ مریض بے ہوش ہونے لگتا ہے ہاتھ پیر سن ہو جاتے ہیں۔ سردی یا
گرمی لگتی ہے ہاتھ پیر کانپنے لگتے ہیں۔ مریض مذکورہ کیفیات سے گزرتا ہے تو سمجھتا
ہے کہ وہ پاگل ہو رہا ہے یا مر رہا ہے۔
یہ کیفیت بار بار ہوتی ہے۔
دوروں کے درمیانی وقفہ میں مریض بالکل صحیح ہوتا ہے لیکن اس کے دل میں یہ خوف آتا ہے
کہ پھر دورہ پڑ جائے گا۔ مریض پر موت کا خوف مسلط ہو جاتا ہے بہت زیادہ پریشانی کی
وجہ سے یا کسی سبب کے بغیر بھی دورہ پڑ جاتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ دن میں چار پانچ
مرتبہ مریض دورہ کی زد میں آ جاتا ہے۔
علاج
۱۔ فیروزی رنگ پانی صبح دوپہر
رات
۲۔ سبز رنگ پانی ناشتہ کے بعد
۳۔ نظام ہضم بحال کرنے کے لئے
زرد پانی دونوں وقت کھانے سے پہلے
۴۔ رات کو کھلے کمرہ میں جہاں
ہوا ہو دس سے پندرہ منٹ سر پر نیلی روشنی ڈالیں
۵۔ مریض جس کمرے میں سوتا ہو
وہاں سرخ نیلے اور سبز رنگ کے کاغذ یا ریشمی کپڑے کی دو دو انچ پٹیاں اس طرح
لٹکائیں کہ سوتے وقت ان پر
مریض کی نظر پڑتی رہے اور مریض اپنے ارادے سے انہیں دیکھے۔
اسباب و علامات
یہ ایک ایسی بیماری ہے جس
میں مریض کو عام زندگی میں پیش آنے والے واقعات اور عام زندگی میں کئے جانے والے اعمال
میں سے کسی ایک یا ایک سے زیادہ اعمال سے خوف آنے لگتا ہے۔ مریض یہ سمجھتا ہے کہ اگر
میں یہ عمل کروں گا تو لوگ مجھ پر ہنسیں گے اور جب مریض سے کہا جاتا ہے کہ تم یہ کام
کرو تو وہ پریشان ہو جاتا ہے۔ مریض کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ میری پریشانی غیر
ضروری ہے لیکن اس کے باوجود ڈرتا رہتا ہے اور سوشل زندگی سے دور ہو جاتا ہے۔
یہ مرض مخصوص چیزوں (مثلاً
لال بیگ چھپکلی سانپ) مخصوص اعمال( مثلاً لفٹ میں سفر کرنا، اسکوٹر یا جہاز کی سواری،
اونچی جگہوں پر جانا) اور مخصوص صورت حال(مثلاً زور دار دھماکہ ہونا، لڑائی جھگڑا دیکھنا،
بہتا ہوا خون دیکھنا) کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔
اس مرض کا تعلق دل کی کمزوری
سے بھی ہوتا ہے۔ ماحول میں بے یقینی اور شک زیادہ ہونے سے بھی فوبیا ہو جاتا ہے۔ بے
یقینی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ مریض ہر چیز کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے اور ہر بات کا
منفی پہلو سامنے آتا ہے۔ وہ قریب ترین لوگوں کو اپنا مخالف اور دور پرے کے لوگوں کو
اپنا ہمدرد سمجھنے لگتا ہے۔
علاج
۱۔ نارنجی رنگ پانی صبح و
شام
۲۔ نارنجی رنگ روشنی دن میں
ایک بار سر پر پندرہ منٹ تک ڈالیں
۳۔ سرخ رنگ پانی رات کو سوتے
وقت
۴۔ فیروزی رنگ پانی دوپہر و
رات
۵۔ ایک چھوٹی ٹوکری میں نارنگیاں
بھر کر کمرے میں ایسی جگہ رکھیں جہاں بار بار نگاہ پڑتی رہے۔ روزانہ صبح اٹھ کر نارنگیوں
کو دس منٹ تک دیکھیں۔ اس کے بعد ایک بڑے آئینہ کے سامنے تن کر کھڑے ہو جائیں اور اپنے
سراپا پر ٹکٹکی باندھ کر دیکھیں۔ دو تین منٹ تک آہستہ آہستہ دل میں یہ الفاظ اس طرح
دہرائیں کہ اس کی Echoدماغ میں سنائی دے۔
’’ہر چیز دلفریب اور خوشگوار
ہے۔ میں کسی سے کمتر نہیں ہوں جو چاہوں وہ کر سکتا ہوں۔‘‘
یہ عمل کرنے کے بعد چند منٹ
تک کمرے میں چہل قدمی کریں اور آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر پھر یہی عمل دہرائیں۔
اگر نارنگیوں کا موسم نہ ہو
تو چھوٹی Ping Pongگیند پر نارنجی رنگ پینٹ کرا کے ٹوکری میں بھر لیں۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
حضرت لقمان
علیہ السلام کے نام
جن کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی
وَ لَقَدْ اٰ
تَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ اَن اشْکُرْ لِلّٰہِ
(لقمٰن۔۔۔۔۔۔۱۲)
اور ہم
نے لقمان کو حکمت دی تا کہ وہ اللہ کا شکر کرے۔
اور جو بکھیرا ہے تمہارے واسطے زمین میں کئی رنگ کا اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیںo
اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمان زمین کا بنانا اور بھانت بھانت بولیاں تمہاری اور رنگ اس میں بہت پتے ہیں بوجھنے والوں کوo
تو نے دیکھا؟ کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح ان کے رنگ اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح ان کے رنگ اور بھجنگ کالےo
نکلتی ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے کئی رنگ ہیں اس میں آزار چنگے ہوتے ہیں لوگوں کے اس میں پتہ ہے ان لوگوں کو جو دھیان کرتے ہیںo
(القرآن)