Topics

باب نمبر۴۔

 

رنگ اور صحت

ضوفشانی لہروں میں روشنی حرارت اور رنگ انسانوں کی طرح جانوروں کی بافتوں (Tissues) میں بھی موثر تھرتھراہٹ پیدا کرتے ہیں۔ اس تھرتھراہٹ سے بافتوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

مخصوص غدود پر مخصوص رنگ اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

غدود                                  رنگ

قلب                                 سرخ

جگر                                   زرد

تھائی رائیڈ گلینڈ                      نیلا

پھیپھڑے                             نارنجی

آنکھ                                   آسمانی

لبلبہ                                  بنفشی

بلغم کا غدود                          گہرا نیلا

دماغ کے زیریں حصہ کا غدود        بنفشی

تلی                                   بینگنی

مثانہ                                  بنفشی

خصیہ                                  بنفشی

بیضہ دانی                              بنفشی

رنگوں کے ذریعے ہر اس بیماری کا علاج کیا جاتا ہے جو ابتدائے آفرینش سے اب تک انسان کو ورثہ میں ملی ہے۔

بچوں کے خون کی بیماری (Haemolytic Disease) کی وجہ سے سرخ خلیے زیادہ مقدار میں ٹوٹنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے خون میں ایسے مادہ کا اضافہ ہو جاتا ہے جس کا رنگ زرد ہے۔ بچے کے خون میں اس مادے کے بڑھنے سے ان کو یرقان ہو جاتا ہے۔ اگر یہ مادہ دماغ میں پہنچ جائے تو ذہنی نشوونما متاثر ہو جاتی ہے۔ اس سے بچنے کے دو طریقے ہیں۔

۱۔       خون کی تبدیلی

۲۔      رنگ کے ذریعہ علاج

رنگ کے ذریعے علاج میں بچے کو نیلی روشنی میں رکھا جاتا ہے۔ تجربہ میں یہ بات آئی ہے کہ نیلی روشنی اس بیماری اور اس بیماری کی پیچیدگیوں کا علاج ہے۔

رنگوں کے مناسب استعمال سے مریضوں میں قوت مدافعت بحال ہو جاتی ہے۔ پیدائشی طور پر جب بچہ کمزور ہوتا ہے مثلاً ایک پونڈ دو پونڈ یا تین پونڈ کا ہوتا ہے تو اسے Incubatorمیں آکسیجن اور بنفشی رنگ میں رکھا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے بچہ کی نشوونما پوری ہو جاتی ہے۔

رنگ اور غذا

سورج کی روشنی میں معدنی عناصر اور گیسس (Mineral + Gases) شامل ہیں جو انسانی غذا کا اہم جزو ہیں۔ غذا ہمیں قوت اور توانائی فراہم کرتی ہے۔ روشنی اور غذا دونوں کو استعمال کیا جائے تو توانائی دوگنی ہو جاتی ہے۔

مثال:

مجھے (خواجہ شمس الدین عظیمی کو) ایک روز انسپائر (Inspire) ہوا کہ سورج کی شعاعوں میں سب رنگ موجود ہیں اور ان رنگوں سے ہماری ساری غذائی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ سورج کی روشنی کو اپنے حیاتیاتی سسٹم میں اگر ذخیرہ کر لیا جائے تو غذا کی ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔ پروگرام کے مطابق صبح سورج کے نکلنے سے پہلے میں مشرق کی طرف منہ کر کے بیٹھ جاتا تھا اور سانس کے ذریعہ غذا کا تعین کر کے سورج کی کرنوں کو اپنے معدہ میں ذخیرہ کر لیتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پانی کے علاوہ کسی قسم کی غذا کی ضرورت پیش نہیں آئی اور نہ کمزوری محسوس ہوئی البتہ کھڑے ہو کر چلنے میں زیادہ لطافت محسوس ہوتی تھی اور خلاء میں چہل قدمی کا تاثر قائم ہوتا تھا۔ ٹھوس دیواریں کاغذ کی بنی ہوئی نظر آتی تھیں۔

سورج وٹامن ڈی کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ سورج کی روشنی میں وٹامن ڈی کے علاوہ دوسرے وٹامن بھی شامل ہیں اور ہر وٹامن کسی رنگ سے متعلق ہے۔

۱۔       وٹامن اے        پیلا رنگ

۲۔      وٹامن بی                    سبز رنگ

۳۔      وٹامن سی         لیمن رنگ

۴۔      وٹامن ڈی        بنفشی رنگ

۵۔      وٹامن ای         بنفشی رنگ

۶۔      وٹامن کےگہرا نیلا رنگ

رنگ جذب کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ رنگوں کے مطابق سبزیاں، پھل اور رس دار چیزیں زیادہ استعمال کی جائیں۔ پھل اور سبزیوں میں سورج کی روشنی کا انجذاب براہ راست ہوتا ہے لیکن خوراک میں رنگوں کے تناسب کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ بہت زیادہ پکانے اور بھوننے میں غذائیت میں موجود رنگ ضائع ہو جاتے ہیں۔

Topics


Color Theraphy

خواجہ شمس الدین عظیمی

حضرت لقمان علیہ السلام کے نام

جن کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی 

 

وَ لَقَدْ اٰ تَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ اَن اشْکُرْ لِلّٰہِ

(لقمٰن۔۔۔۔۔۔۱۲)

اور ہم نے لقمان کو حکمت دی تا کہ وہ اللہ کا شکر کرے۔

اور جو بکھیرا ہے تمہارے واسطے زمین میں کئی رنگ کا اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیںo 

اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمان زمین کا بنانا اور بھانت بھانت بولیاں تمہاری اور رنگ اس میں بہت پتے ہیں بوجھنے والوں کوo 

تو نے دیکھا؟ کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح ان کے رنگ اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح ان کے رنگ اور بھجنگ کالےo

نکلتی ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے کئی رنگ ہیں اس میں آزار چنگے ہوتے ہیں لوگوں کے اس میں پتہ ہے ان لوگوں کو جو دھیان کرتے ہیںo

(القرآن)