Topics

باب نمبر۱۸۔

 

نفسیاتی بیماریاں

شیزوفرینیا

اسباب

غلط ماحول، جنسی دباؤ، نفسیاتی الجھنیں، خاندانی جھگڑے، ذہنی پریشانی، دماغی کشمکش، ٹینشن، احساس کمتری یا احساس برتری اور کم خوابی سے یہ مرض لاحق ہو جاتا ہے۔

سائنس دانوں کی ریسرچ کے مطابق ایک کیمیاوی مادہ Dopamineدماغ میں جب زیادہ ہو جاتا ہے یا دماغ کے مخصوص حصے اس مادہ کو معمول سے زیادہ محسوس کرتے ہیں تو شیزوفرینیا ہو جاتا ہے۔ اس بیماری کی وجوہات میں Geneticsکا کردار بھی بہت اہم ہے۔

علامات

عام طور پر شیزوفرینیا بیس (۲۰) سے تیس (۳۰) سال کی عمر میں شروع ہوتا ہے لیکن یہ بڑی عمر کے لوگوں کو بھی ہو سکتا ہے۔ شیزوفرینیا شروع ہونے سے پہلے مریض کئی ہفتوں اور کئی مہینوں تک ڈپریشن اعصابی تناؤ اور بے چینی میں مبتلا رہتا ہے۔ ایک ہی خیال دماغ میں گردش کرتا رہتا ہے۔

مریض رفتہ رفتہ لوگوں سے دور ہو جاتا ہے۔ روزمرہ کام کرنے سے جی چراتا ہے۔ ذہن میں عجیب عجیب خیالات آتے ہیں۔ یہاں تک کہ شدید قسم کا دورہ پڑتا ہے۔ مریض کو عجیب عجیب شکلیں دکھائی دیتی ہیں اور ماورائی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ شدید قسم کا وہم ہو جاتا ہے اور سوچ میں خلل پڑ جاتا ہے۔ مریض متضاد باتیں کرتا ہے۔ کوئی بات زمین کی ہوتی ہے اور کوئی آسمان کی۔ دورہ ختم ہونے کے بعد مریض ڈپریشن میں چلا جاتا ہے۔

بعض مریضوں کو زندگی میں صرف ایک بار دورہ پڑتا ہے مگر اکثر کو بار بار دورے پڑتے ہیں اور ہر دورے میں علامات کی شدت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

شیزوفرینیا مریض میں مندرجہ ذیل علامات پائی جاتی ہے۔

ایسا مریض گفتگو طویل کرتا ہے۔ گفتگو بے معنی ہوتی ہے اور باتوں میں کوئی ربط نہیں ہوتا۔ ایک خاص بات یہ ہے کہ مریض گفتگو کے دوران نئے نئے الفاظ بولتا ہے۔ شکوک و شبہات اور وسوسوں میں مبتلا رہتا ہے۔ مثلاً اسے یقین ہو جاتا ہے کہ لوگ یا خاندان کے افراد اس کو قتل کرنا چاہتے ہیں، اس کے کھانے میں زہر ملا رہے ہیں، اس پر جادو تعویذ کر رہے ہیں۔ وہ چھپ چھپ کر لوگوں کی باتیں سنتا ہے۔ اس کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ لوگ میرے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں۔ میرے خلاف کوئی سازش کی جا رہی ہے۔ کبھی وہ کہتا ہے کہ میری سوچ ساری دنیا میں سنی جا رہی ہے۔ کبھی وہ اس بات پر یقین کرتا ہے کہ میں ساری دنیا کا صدر ہوں۔ وہ سوچتا ہے کہ ٹیلی پیتھی کے ذریعے مجھے معمول بنایا جا رہا ہے۔ ایسا مریض ٹی وی پروگرام یا اخبار کے آرٹیکل کو اپنے لئے اسپیشل پیغام سمجھنے لگتا ہے۔ شیزوفرینیا کے اکثر مریض یہ سمجھتے ہیں کہ شوہر یا بیوی ان کے ساتھ وفادار نہیں ہیں۔ اس بات کا انہیں اتنی شدت سے یقین ہوتا ہے کہ وہ راتوں کو پہرہ دینا شروع کر دیتے ہیں اور الزام تراشی اور مار پیٹ پر اتر آتے ہیں۔ شیزوفرینیا کا مریض بیان کردہ تمام باتوں کو وہم یا شک نہیں سمجھتا۔ آپ دلائل سے ان کو قائل نہیں کر سکتے۔

مریض کو فریب تصور (Hallucination) ہوتا ہے جو کہ بصارت سماعت لمس اور سونگھنے سے متعلق ہو سکتے ہیں۔ مثلاً مریض کو اپنے مرے ہوئے رشتہ دار نظر آتے ہیں۔ مریض کو خوشبو یا بدبو آتی ہے جب کہ ماحول میں دوسرے لوگوں کو نہیں آتی۔ مریض خوشی کا اظہار کرتے کرتے رونے لگتا ہے۔ مریض جذبات سے بالکل عاری ہو جاتا ہے۔ موت کی خبر سن کر یا میت کو دیکھ کر ہنسنے لگتا ہے۔ مریض میں کام کرنے اور مقصد حاصل کرنے کی صلاحیت میں کمی ہو جاتی ہے اور خود اپنی ذات میں گم رہتا ہے۔

کیس ہسٹری

جب مسز oاٹھارہ سال کی تھی۔ اس میں شیزوفرینیا کی پہلی علامت ظاہر ہوئی۔ وہ اس احساس میں مبتلا ہو گئی کہ لوگ اسے گھور رہے ہیں۔ پھر اسے یہ خوف اور وسوسہ لاحق ہوا کہ لوگ اس کے متعلق باتیں کرتے ہیں اور اسے نقصان پہنچانے کے در پے ہیں۔ پہلے پہل تو مسز oپر شیزوفرینیا کے حملے وقفے وقفے سے ہوتے تھے اور حملوں کے درمیانی وقفہ میں اس کی ذہانت گرم جوشی آرزوئیں اور امنگیں واپس آ جاتی تھیں۔ اس نے جامعہ سے فارغ التحصیل ہو کر شادی کی اور تین بچوں کی ماں بھی بن گئی۔ تیسرے بچے کی پیدائش کے بعد اسے وسوسوں نے پھر آ گھیرا اور ۲۸ سال کی عمر میں اسے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔

۴۵ سال کی عمر میں اس کی بیماری نے طول پکڑا۔ اسے ہر جگہ جانور نظر آنے لگے۔ کبھی کبھی اس کو فرشتے نظر آتے تھے۔ ماورائی آوازیں اسے ڈراتی رہتی تھیں۔

علاج

۱۔       Oliveرنگ پانی صبح دوپہر شام استعمال کرایا گیا

۲۔      نیلا رنگ پانی صبح وشام کھانے سے پہلے

۳۔      سفید رنگ پانی دن میں ایک بار

۴۔      دن میں ایک بار مریض کے سر کے پچھلے حصے پر نیلی شعاعوں کے تیل کی مالش کی گئی

۵۔      دن میں ایک بار مریض کے سر پر پندرہ منٹ کے لئے نیلے رنگ کی روشنی ڈالی گئی

چار ماہ کے علاج سے مریضہ ٹھیک ہو گئی۔ دوران علاج کھانوں میں میٹھی چیزیں زیادہ دی گئیں۔ پہلے سے یہ اطمینان کر لیا گیا تھا کہ مریضہ کو شوگر کی بیماری نہیں ہے۔ مریضہ کو  9X12 انچ شیشے پر نیلا رنگ پینٹ کرا کر وقفہ وقفہ سے دکھایا گیا۔ مریضہ کو چونکہ لو بلڈ پریشر کی شکایت نہیں تھی اس لئے کھانوں میں نمک کی مقدار کم سے کم کر دی گئی۔

ڈپریشن

اسباب

ڈپریشن کی کئی وجوہات ہیں۔ اس میں نشہ آور ادویات کا استعمال اور ان کا اچانک چھوڑ دینا، مسلسل بیمار رہنا، غم اور پریشانی شامل ہیں۔ سائیکارٹسٹ کہتے ہیں کہ مریض اگر مسلسل تقریباً دو ہفتوں تک اس کیفیت میں رہے تو ڈپریشن کا مریض ہے ورنہ یہ مرض ڈپریشن نہیں ہے۔

علامات

اس بیماری میں مریض افسردہ رہتا ہے۔ افسردگی اور یاسیت کی وجہ سے زندگی میں دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔ تنہا ہو جاتا ہے، وزن کم یا زیادہ ہوتا رہتا ہے۔ طبیعت میں بے چینی رہتی ہے۔ سوچنے اور غور کرنے کی صلاحیتوں میں کمی ہو جاتی ہے۔ خود کشی کو جی چاہتا ہے۔

علاج

مرض کی شدت میں

۱۔       Appleرنگ پانی صبح و رات کھانے کے بعد

۲۔      آسمانی رنگ پانی دوپہر کھانے سے پہلے

۳۔      زرد رنگ پانی شام کھانے کے بعد

مرض میں شدت نہ ہو تو

۱۔       نیلا رنگ پانی صبح و شام کھانے سے پہلے

۲۔      نارنجی رنگ پانی دوپہر رات کھانے کے بعد

۳۔      زرد رنگ پانی عصر کے بعد

جنون

اسباب

جنون کے بارے میں بہت ساری روایات ہیں لیکن کلر تھراپی کے مطابق جب آدمی پر دیوانگی اور جنون کے دورہ کا آغاز ہوتا ہے تو اس میں ہمیشہ ام الدماغ کے اندر ’’رو‘‘ کا ہجوم ہو جاتا ہے اور چونکہ رو کے ہجوم کے لئے نکلنے کا راستہ نہیں ہوتا اس لئے دباؤ کی بنا پر خلیوں کے اندر کی دیواریں ٹوٹ جاتی ہیں اور راستہ کہیں کہیں سے کھل جاتا ہے۔ اس طرح خلیوں کے اندر رو کی جو ترتیب متعین ہوتی ہے وہ قائم نہیں رہتی۔

جنون کے دورہ میں جینیٹکس غیر صحت بخش غذائیں بھاری ماحول نشہ آور ادویات غلط تربیت پرورش کے غلط طریقے اور نفسیاتی الجھنوں کا عمل دخل زیادہ ہوتا ہے۔ چاند کو زیادہ دیکھنا بھی آدمی کے اندر جنون پیدا کر دیتا ہے۔ زیادہ وظیفے پڑھنے سے بھی شعوری گرفت کمزور ہو جاتی ہے اور رفتہ رفتہ آدمی جنون کی کیفیت میں چلا جاتا ہے۔

علامات

مریض کا موڈ ہیجانی ہوتا ہ۔ زندگی کے کام نہایت عجلت اور جلد بازی سے پورے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انتہا پسند ہوتا ہے خود کو بڑی شخصیت سمجھنے لگتا ہے۔ کبھی خود کو بادشاہ اور خدا سمجھتا ہے کبھی کروڑ پتی بن جاتا ہے اور خود کو لاکھوں کروڑوں کی جائیداد کا مالک بتاتا ہے۔ خود کو سپرمین کہتا ہے جب کہ بزدل بھی ہوتا ہے۔ بہت زیادہ باتونی ہو جاتا ہے اور بلند آواز میں تیز تیز بولتا ہے۔ بعض اوقات اتنی جلدی جلدی بولتا ہے کہ سمجھنے میں دقت ہوتی ہے۔ مریض کے ذہن میں نئے نئے نظریات آتے ہیں۔ مریض میں ایک نکتہ پر غور کرنے کی صلاحیت بہت کم ہو جاتی ہے۔ مریض خوشی اور دلچسپی کے کاموں کو انتہائی درجہ پر اسرار طور پر انجام دینے کی کوشش کرتا ہے۔ جس کے نتائج کافی برے ہوتے ہیں۔ مثلاً مریض ایک دن میں لاکھوں روپے کی شاپنگ کر لیتا ہے۔ مریض شوخ قسم کے کپڑے پہنتا ہے۔ ہر بندے سے ہاتھ ملانا اور گلے ملنا شروع کر دیتا ہے۔ کوشش کرتا ہے کہ ہر جگہ نمایاں رہے۔ مریض کے اندر جنسی رجحان بڑھ جاتا ہے نیند کم ہو جاتی ہے۔

مرض کی تشخیص کے لئے اس بات پر توجہ دینا ضروری ہے کہ مندرجہ ذیل علامات کم سے کم ایک ہفتہ تک موجود رہیں۔ ایسا ممکن ہے کہ مریض میں کسی وقت جنون اور دوسرے وقت میں یاسیت کی کیفیت کا غلبہ ہو۔ ایسی صورت کو ’’دو رخی بیماری‘‘ کہا جاتا ہے۔ جنون کے دورہ کی مدت تین مہینے تک قائم رہ سکتی ہے۔

کیس ہسٹری

۲۰ سال کا ایک طالب علم بہت زیادہ باتونی ہو گیا۔ ہر وقت لوگوں کے ہجوم میں رہنا پسند کرنے لگا۔ اس کی نیند کم ہو گئی، کہتا تھا کہ میں بادشاہ ہوں۔ ساری کائنات میرے اشارے پر ناچتی ہے۔ مجھے پیغمبری سے نوازا گیا ہے۔ میرے پاس لاکھوں روپے ہیں اگر کوئی اسے ٹوکتا تو لڑنے مرنے پر آمادہ ہو جاتا تھا۔ سخت سردی میں زیر جامہ پہن کر گھومتا تھا۔ بازار میں ہر ایک کو سلام کرتا اور گرم جوشی کے ساتھ گلے لگا لیتا تھا۔ جیب سے زیادہ خریداری کرتا اور ادھار بھی لے آتا تھا۔ تیز آواز میں گاتا تھا یا ہر وقت گانے سنتا رہتا تھا۔ شعر و شاعری کی طرف بھی اس کا بڑا رجحان تھا۔ گھنٹوں شطرنج کھیلتا، خود کو ہر فن میں ماہر سمجھنے لگا۔ وہ سمجھتا تھا کہ اس کی آواز دنیا میں سب سے اچھی ہے۔ پوچھنے پر بتایا کہ امریکہ اور پاکستان کے بڑے بڑے لوگوں سے اس کے تعلقات ہیں اور وہ صرف ایک ٹیلی فون پر اس کا کام کر دیتے ہیں۔

علاج

۱۔       فیروزی رنگ پانی صبح دوپہر شام

۲۔      سفید رنگ پانی دن میں ایک بار

۳۔      زرد رنگ پانی دونوں وقت کھانے سے پہلے

۴۔      سر پر روزانہ پندرہ منٹ کے لئے آسمانی رنگ کی روشنی ڈالی گئی

۵۔      سر کے پچھلے حصہ پر آسمانی تیل کی مالش کرائی گئی

۶۔      مریض کے کمرے میں نیلے رنگ کا بلب روشن رکھنے کی ہدایت کی گئی

۷۔      مریض کو نیلے رنگ کے ریشمی کپڑے پہنائے گئے

۸۔      تین وقت خالص شہد کھلانے کی تاکید کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ یونانی طب کا سہارا لیا گیا۔

Topics


Color Theraphy

خواجہ شمس الدین عظیمی

حضرت لقمان علیہ السلام کے نام

جن کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی 

 

وَ لَقَدْ اٰ تَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ اَن اشْکُرْ لِلّٰہِ

(لقمٰن۔۔۔۔۔۔۱۲)

اور ہم نے لقمان کو حکمت دی تا کہ وہ اللہ کا شکر کرے۔

اور جو بکھیرا ہے تمہارے واسطے زمین میں کئی رنگ کا اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیںo 

اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمان زمین کا بنانا اور بھانت بھانت بولیاں تمہاری اور رنگ اس میں بہت پتے ہیں بوجھنے والوں کوo 

تو نے دیکھا؟ کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح ان کے رنگ اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح ان کے رنگ اور بھجنگ کالےo

نکلتی ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے کئی رنگ ہیں اس میں آزار چنگے ہوتے ہیں لوگوں کے اس میں پتہ ہے ان لوگوں کو جو دھیان کرتے ہیںo

(القرآن)