Topics

عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ

جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں اور انسان کی سماجی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں روئے زمین پر بسنے والی ہر قوم اور ہر قبیلے میں مختلف رسم و رواج نظر آتے ہیں۔ جو کسی قوم کے تشخص کا اظہار ہیں۔ رسوم و رواج کی حیثیت گو کہ ہر قوم میں جداگانہ ہے لیکن ان کی موجودگی انسانی معاشرت کے ساتھ لازم و ملزوم ہے۔ ان رسوم و رواج میں تہواروں کو ایک مخصوص اہمیت حاصل ہے۔

زمین پر آباد ہر قبیلہ، ہر قوم کسی نہ کسی نام سے جشن یا تہوار مناتی ہے اور یہ اس قوم کے قومی تشخص کا آئینہ ہوتے ہیں۔ اس آئینے میں قومی شعار کا چہرہ صاف اور واضح نظر آتا ہے۔ قوموں میں تہوار منانے کے طریقے جداگانہ ہیں۔ بعض قومیں یہ تہوار صرف کھیل کود، راگ رنگ اور سیر و تفریح کے ذریعے مناتی ہیں۔

ان تقاریب کے پس منظر میں قوموں کو ان کے اسلاف سے جو روایات یا اخلاق منتقل ہوا ہے اس کی نمایاں طور پر منظر کشی ہوتی ہے۔ تہوار ایک ایسی کسوٹی ہے جس پر کسی قوم کی تہذیب کو پرکھا جا سکتا ہے۔

یہ مسلمہ امر ہے کہ قوم کی اخلاقی اور روحانی طرز فکر جتنی بلند یا پست ہوتی ہے اس کا اظہار ماحول میں رائج روایات اور طریقوں سے ہوتا ہے۔ ان روایا ت اور طریقوں کے اظہار کا سب سے بڑا ذریعہ تہوار منانے میں اختیار کردہ طریقے ہوتے ہیں۔ یہ طریقے اعلیٰ مقاصد اور بنیادی اصولوں سے اخذ شدہ ہوتے ہیں جن سے اس قوم کی بقا اور قیام وابستہ ہے۔

ہر قوم اپنے ماضی پر زندہ ہے۔ اگر کسی قوم کے پاس ماضی نہیں ہے تو اس کی حیثیت قوم کی نہیں ہے۔ مسلمانوں کا بھی ایک ماضی ہے اور اس ماضی کو یاد رکھنے اور ماضی کے تاثرات کو آنے والی نسلوں میں پختہ کرنے کے لئے مسلمان دو تہوار مناتے ہیں۔

پہلا تہوار عیدالفطر ہے جس کی نورانیت اور پاکیزگی اس امر پر قائم ہے کہ یہ تہوار اس وقت منایا جاتا ہے جب من حیث القوم ہر فرد اپنا تزکیۂ نفس کر کے پاک صاف اور مصفیٰ و مجلیٰ ہو جاتا ہے۔ تیس دن اور تیس رات وقت کی پابندی، غذا اور نیند میں کمی سحر و افطار میں اجتماعیت، عمل میں ہم آہنگی، ایسی یکسوئی پیدا کر دیتی ہے کہ جس یکسوئی کے ذریعے انسان اپنے نفس سے واقف ہو جاتا ہے۔ یہ واقفیت آدمی کے اندر بسنے والے انسان کو متحرک کر دیتی ہے۔

جب تزکیۂ نفس کے بعد انسان بیدار ہو جاتا ہے تو صلاحیتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ اضافہ دراصل ذہن کی رفتار ہے۔ آدمی کے اندر بسنے والے انسان کی رفتار پرواز عام آدمی کی نسبت ساٹھ ہزار گنا زیادہ ہوتی ہے۔ تیس روزے رکھنے کے بعد آدمی کے اندر انسان انگڑائی لے کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف فرشتوں کو دیکھتا ہے بلکہ فرشتوں سے ہم کلام ہوتا ہے۔ یہی وہ عید (خوشی) ہے جو انسان کے لئے قلبی سکون کا باعث بنتی ہے۔ یہی وہ عمل ہے جو قوم کی فکر و نظر میں ایسی تبدیلی لے آتی ہے جو بندے کو اللہ سے قریب کر دیتی ہے۔

رمضان المبارک کا مہینہ مسلمانوں کے لئے ایک تربیتی پروگرام ہے۔ اس مہینے میں ہر مسلمان کو اطاعت خداوندی کا خوگر بنایا جاتا ہے۔

نفسیات کا مسلمہ اصول ہے کہ ذہنی مرکزیت سے قوتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور ذہن کو کسی ایک نقطہ پر مرکوز کر دینے سے روشنیوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ جب یہ روشنیاں ذخیرہ ہو جاتی ہیں تو آدمی مادی پستیوں سے نکل کر روحانی رفعتوں کو چھونے لگتا ہے۔

رمضان المبارک کے بیس روزوں کے بعد ایک رات ایسی آتی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ

لیلتہ القدر ہزار مہینوں سے افضل ہے اور اس کی فضیلت یہ ہے کہ اس میں فرشتے اور روح اترتے ہیں اور یہ پوری رات اللہ کی طرف سے خیر اور سلامتی کی رات ہے۔

اللہ تعالیٰ کے ہر فرمان میں حکمت مخفی ہے۔

شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ ہزار مہینوں میں تیس ہزار دن اور تیس ہزار راتیں ہوتی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایک رات کی عبادت و ریاضت ساٹھ ہزار دن اور رات کی عبادت اور ریاضت سے افضل ہے۔

سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد عالی مقام ہے:

’’شب قدر میں فرشتے اور حضرت جبرائیل ؑ اپنے رب کے حکم سے سلامتی کے ساتھ اترتے ہیں اور جو بندے شب قدر میں اپنے خالق کی یاد اور محبت میں اور اس کی قربت کے حصول کیلئے جاگتے ہیں۔ فرشتے اور حضرت جبرائیل ؑ ان سعید بندوں سے مصافحہ کرتے ہیں۔ یہ اتنی بڑی سعادت اور خوشی ہے کہ اس پر جتنا شکر کیا جائے اور جس قدر خوشی کا اظہار کیا جائے وہ کم ہے۔ عید دراصل اسی سعادت اور اسی نعمت کا شکر ادا کرنے کا نام ہے۔‘‘

دین فطرت

اسلام دین فطرت ہے۔نبی مکرمﷺ نے اس فطری خوشی کے اظہار کے لئے ایسے ضابطے بنائے ہیں جن میں غیر فطری اعمال و حرکات نہیں ہیں بلکہ متانت اور برد باری ہے۔ اسلام نے دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح عید کی خوشی کے لئے بھی میانہ روی کی تعلیم دی ہے۔

اسلام اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ دوسری اقوام کی طرح مسلمان غیر اخلاقی اور غیر فطری حرکات کے مرتکب ہو کر عید کے بنیادی مقاصد کو نظر انداز کر دیں۔

اسلام دین فطرت ہے اور فطرت کا مطلب ہے اعتدال۔ اعتدال میں عبادت اور عمل دونوں کو مساوی حیثیت حاصل ہے۔ اسلامی طرز زندگی جہاں روحانی خوشی کا سرچشمہ ہے وہاں کردار اور افعال کی تعمیر کا بھی وسیلہ ہے۔

قرآن و سنت کی پیروی کا مطلب یہ ہے کہ ہر فرد میں آدمیت کا احترام پیدا ہو جائے اور ہر مسلمان بحیثیت مسلمان اپنے بھائی کا سہارا بنے۔ ہر مسلمان ایک قوم کی حیثیت میں بلا تخصیص مذہب و ملت اس اخلاق و کردار کا مظاہرہ کرے جو ہمارے نبی برحق حضورﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’مسلمان کی زبان اور ہاتھ سے اگر کسی کو فائدہ نہیں پہنچے تو کسی کو نقصان بھی نہ پہنچے۔‘‘

رمضان المبارک کا پورا مہینہ ہمیں یہی درس دیتا ہے۔

عید

عید خوشیوں کا گہوارہ ہے۔ عید کے روز اُجلے کپڑے پہننا خوشبو اور عطر لگانا، فطرہ دینا، دوسروں کے ساتھ بیٹھ کر لذیذ کھانے کھانا اور اپنے مرحوم اعزا و اقرباء کی قبروں پر جا کر فاتحہ پڑھنا حضور اکرمﷺ کی سنت ہے۔

اس کا فلسفہ یہ ہے کہ مسلمان خوشی و مسرت اور فخر و انبساط کے موقعوں پر بھی ماضی اور مستقبل سے وابستہ رہے۔ اسے یہ یاد رہے کہ یہاں سے جانا ہے اور ماضی میں کئے ہوئے اعمال کا حساب دینا ہے۔ اس کے ذہن میں دوسروں کے لئے برادرانہ جذبات ہوں وہ مسکینوں، محتاجوں، بے کسوں، یتیموں، بیواؤں اور معذوروں کی طرح دست گیری کرے کہ انہیں اپنی کم مائیگی کا احساس نہ ہو۔ اسلامی معاشرے کا منشاء ہی یہ ہے کہ قابل رحم افراد اور ضعیف طبقہ کو اس بات کا یقین ہو جائے کہ وہ جس ماحول میں رہ رہے ہیں وہاں کے لوگ ان کے دکھ سکھ میں برابر کے شریک ہوں۔

عیدالفطر جہاں عطر بیز ہواؤں سے مہکتا ہوا خوشی کا ایک دن ہے وہاں قوم کے ہر فرد کے لئے ایک آزمائش اور امتحان بھی ہے۔ ہم رمضان المبارک کا پورا مہینہ اتحاد و تنظیم اور یقین محکم کے پروگرام پر عمل کرکے اعلیٰ اخلاق اور روحانی تعلیم و تربیت حاصل کرتے ہیں اور جب یہ تعلیم و تربیت ہمارے اوپر غیب و شہود کی دنیا کو روشن کرتی ہے تو ہم انفرادی اور اجتماعی مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔

اسلام کا یہ تہوار جسے عید کہا جاتا ہے ایثار، قربانی، یتیموں اور مسکینوں کی دلجوئی، اجتماعیت، صلۂ رحمی، آپس میں الفت و یگانگت، احترام انسانیت اور عظمت دین کا آئینہ دار ہے۔ عید کے دن کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ مسلمان صبح بیدار ہونے کے بعد ہی ذکر الٰہی میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ جب کہ عید اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کا اقرار ہے۔ اسلام سے پہلے عرب اپنی تقریبات بازاروں میں منعقد کرتے تھے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس قوم کے بتوں کو توڑا تھا۔ وہ ہر سال ایک مقررہ دن شہر سے باہر چلے جاتے تھے۔ آج کی دنیا میں بھی اعلیٰ تہذیب یافتہ ہونے کا دعویٰ کرنے والی اقوام اپنے تہوار پارکوں، کلبوں، سڑکوں اور عیش و نشاط کی دیگر مخصوص جگہوں پر مناتی ہیں لیکن مسلمان اس بات کا پابند ہے کہ عید کی پرمسرت گھڑیوں کی ابتداء اور انتہاء عید گاہوں اور مساجد میں جمع ہو کر کرے اور اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ

’’روزہ میرے لئے ہے‘‘۔ (حدیث قدسی)

اس جملے کے بہت سے معنی نکلتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ روزہ میرے لئے ہے۔ روزہ اللہ اور بندے کے درمیان معاہدہ ہے۔ جس پر بندہ عمل کرتا ہے۔ فکر طلب یہ بات ہے کہ روزے میں دکھاوا نہیں ہوتا۔

اب ذرا ان اصولوں کو سمجھ لیجئے جن اصولوں پر روزے کی بنیاد قائم ہے اور جن اصولوں سے روزے کا مقصد حاصل ہوتا ہے۔ انسان تین وقفوں میں زندگی گزارتا ہے۔

۱۔ حصول معاش میں آٹھ گھنٹے۔

۲۔ حقوق اللہ، حقوق العباد کو پورا کرنے میں آٹھ گھنٹے۔

۳۔ آرام کرنے اور زندگی کے لئے توانائی حاصل کرنے کے لئے آٹھ گھنٹے۔

ان حصوں میں سے ایک حصے میں کھانا پینا، کاروبار معاش اور زندگی کی تمام ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ ان سولہ گھنٹوں میں آٹھ گھنٹے میں ’’من عرفہ نفسہ فقد عرفہ ربہ‘‘ (جس نے خود کو پہچان لیا پس تحقیق اس نے اپنے رب کو پہچان لیا) کے زیر اثر آتے ہیں۔ یہ وہ عرصہ ہے جس عرصے میں انسان غور و فکر کرتا ہے کہ 

میں کون ہوں؟

کہاں سے آیا ہوں؟

مجھے کس نے پیدا کیا ہے؟

کیوں پیدا کیا ہے اور میری تخلیق کا منشاء کیا ہے؟

اس طرح انسان کو آٹھ گھنٹے باطن کا تزکیہ کرنے کے لئے مل جاتے ہیں اور اسے اللہ تعالیٰ توفیق عطا کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذات کو پہچان لے۔

قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ

’’ہم تمہاری رگ جان سے زیادہ قریب ہیں۔‘‘

(سورۃ ق۔ آیت ۱۶)

انسان کے پاس آٹھ گھنٹے سونے آرام کرنے، صحت مند اور بیمار رہنے کے لئے باقی رہتے ہیں۔

عام زندگی کے برعکس رمضان المبارک کے مہینے میں غور و فکر کا وقفہ بڑھ جاتا ہے۔ نیند کا وقفہ کم ہو جاتا ہے۔ غذا کم ہو جاتی ہے۔ رمضان المبارک میں اللہ کے لئے بھوکے پیاسے رہنے سے اور عبادت سے دماغ میں آہستہ آہستہ بیس دن میں اتنی پاکیزگی آ جاتی ہے کہ اندرونی احوال کا دل پر عکس پڑنے لگتا ہے۔

آخری میں تیسرا عشرہ آتا ہے اس عشرے میں ہر رات زیادہ سے زیادہ جاگنا اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہنا فضول باتوں اور خرافات سے محفوظ رہنا دل کو جلا بخشتا ہے اور یہ تمام اعمال انسان کو اتنا نورانی کر دیتے ہیں کہ وہ خود کو لطیف محسوس کرتا ہے اور جس نورانی کیفیت سے وہ عید کا چاند دیکھتا ہے یہ کیفیت اس کا احاطہ کر لیتی ہے۔

وہ اسی خوش کن کیفیت میں صبح بیدار ہوتا ہے، نہاتا ہے، کپڑے بدلتا ہے، خوشبو لگاتا ہے۔ شیر خرمہ کھاتا ہے اور عید گاہ کی طرف جاتا ہے تا کہ اس نورانی کیفیت کے شکرانے میں دو نفل ادا کرے۔

نمازی اللہ تعالیٰ کے حضور خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ ریز ہو جاتا ہے۔ جب ضمیر کے مطابق عمل کرنے والا بندہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جاتا ہے تو وہ اس حالت میں خود کو اللہ کے قریب محسوس کرتا ہے۔ یہ عمل انفرادی طور پر نہیں اجتماعی طور پر ہوتا ہے۔ عید کی نماز ادا کرتے وقت تمام افراد اجتماعی طور پر خود کو ایک فرد محسوس کرتے ہیں اور یہی اہم بات ہے کہ پورا عالم اسلام اجتماعی طور پر اللہ سے قریب ہو جاتا ہے۔

ملائکہ اعلان کرتے ہیں

اہل مدینہ دو مخصوص دن تفریح کیا کرتے تھے۔

رسول اللہﷺ نے دریافت فرمایا۔ ’’یہ دو روز کیا ہیں؟‘‘

اہل مدینہ نے عرض کیا۔

’’یا رسول اللہﷺ! زمانہ جاہلیت کے وقت ہم ان دنوں میں کھیل کود اور تفریح کیا کرتے تھے۔‘‘

آپﷺ نے فرمایا۔

’’اے اہل یثرب اللہ تعالیٰ نے تم کو ان دونوں کی بجائے ان سے بہت اعلیٰ و ارفع دن عیدالفطر اور عیدالضحیٰ عطا فرمائے ہیں۔‘‘

اور ارشاد فرمایا۔

’’جب عید کا دن ہوتا ہے تو فرشتے عید گاہ کے راستے میں انتظار کرتے ہیں اور پکارتے ہیں۔‘‘(حدیث)

’’اے مسلمانوں کے گروہ چلو رب کریم کی طرف جو احسان کرتا ہے بھلائی کے ساتھ اور اجر عطا فرماتا ہے اور تم کو عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس تم نے قیام کیا اور تم نے روزے رکھے اور اپنے رب کریم کی اطاعت کی۔ اب تم انعام حاصل کرو اور جب نمازی عید کی نماز سے فارغ ہو جاتے ہیں تو ملائکہ اعلان کرتے ہیں۔‘‘

’’آگاہ ہو جاؤ بے شک تمہارے رب نے تمہیں اجر عطا فرمایا اور تم آئے اپنے گھر کی طرف کامیاب ہوکر۔‘‘(حدیث)

بچے اور رسول اللہﷺ

عیدالفطر کا دن تھا۔ صبح سویرے تمام مسلمان عید کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ مسرت و شادمانی کی فضا مدینہ پر چھائی ہوئی تھی۔ عید کی نماز کا وقت جیسے جیسے قریب آ رہا تھا، بوڑھے اور جوان اپنے اچھے اور پاکیزہ لباس میں ملبوس عید گاہ کی طرف جوق در جوق جا رہے تھے۔ بچے اپنے بزرگوں کے ساتھ تھے۔ فضا خوشبو سے معطر تھی اور بچوں کی آوازیں خوشنما روح پرور، فرحت انگیز اور دلکش تھیں عید کی نماز ختم ہوئی۔ لڑکے اچھلتے کودتے شاداں اور فرحاں اپنے اپنے گھروں کی جانب واپس ہونے لگے۔

ہمارے پیارے نبیﷺ نے دیکھا کہ عید گاہ میں ایک طرف بچہ کھڑا ہوا ہے۔ جس نے پرانے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور وہ رو رہا ہے۔ نبی کریمﷺ اس لڑکے کے قریب تشریف لے گئے شفقت و محبت سے لڑکے کے سر پر ہاتھ رکھا۔ لڑکے نے رسول اللہﷺ سے کہا۔ ’’خدا کے واسطے مجھے تنہا چھوڑ دو۔‘‘

حضورﷺ نے اس کے بالوں میں شفقت سے انگلیاں پھیریں اور فرمایا:

’’میرے بچے۔۔۔مجھے بتاؤ تمہارے ساتھ ہوا کیا ہے؟‘‘

بچے نے روتے ہوئے کہا۔

’’میری ماں نے دوسری شادی کر لی ہے اور ابا نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے۔ آج سب لڑکے نئے نئے کپڑے پہن کر خوشی خوشی کھیل رہے ہیں اور میرے پاس نہ کھانے کی کوئی چیز ہے اور نہ پہننے کو کپڑے ہیں۔‘‘

لڑکے کی داستان سن کر آپﷺ نے فرمایا کہ

’’اگر میں تمہارا باپ ہو جاؤں اور عائشہؓ تمہاری ماں اور فاطمہؓ تمہاری بہن بن جائیں تو میرے بچے کیا تم خوش ہو جاؤ گے؟‘‘

لڑکے نے فوراً ہاں میں سر ہلا دیا اور آنحضرتﷺ سے لپٹ گیا۔ آپﷺ اس کو اپنے ساتھ گھر لے گئے۔

حضرت عائشہؓ سے فرمایا:

’’عائشہؓ یہ تمہارا بیٹا ہے۔‘‘

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بچے کو کپڑے دیئے اور کہا جاؤ غسل کر کے کپڑے پہن لو اور کھانا کھلانے کے بعد فرمایا۔

’’بیٹے! اب تم باہر جاؤ اور بچوں کے ساتھ کھیلو، مگر دیکھو تھوڑی دیر کے بعد اپنے گھر واپس آ جانا۔‘‘

Topics


Agahee

خواجہ شمس الدین عظیمی

”آگہی “کے عنوان سے شائع ہونے والی یہ کتاب اُن مضامین پر مشتمل ہے جو ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہوئے ہیں۔ اس کتاب میں چند تقاریر بھی شامل ہیں جو عظیمی صاحب نے ملکی و غیر ملکی تبلیغی دوروں میں کی ہیں۔ ان مضامین کو یکجا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ موتیوں کو پرو کر ایک خوبصورت ہار بنا دیا جائے تا کہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لئے یہ ورثہ محفوظ ہو جائے۔

مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے قلم اور زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ قیمتی موتی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مضامین موجودہ اور آنے والے دور کے لئے روشنی کا مینار ہیں۔