Topics

سیاہ نقطہ

اگر کسی طرح اصل وجود اور اس کی حرکات و سکنات کا علم حاصل ہو جائے تو آدمی موت کے بعد کی زندگی سے واقف ہو جاتا ہے، اسے اس بات کا علم ہو جاتا ہے اور مخصوص مشقوں سے اس بات کا مشاہدہ ہو جاتا ہے کہ مرنے کے بعد کی دنیا بھی زمین کی طرح ہے۔ مردہ آدمی کو قبر میں اتارنے کے بعد مادی جسم زمین کا حصہ بن جاتا ہے یعنی جسم پانی کی شکل اختیار کر کے مٹی میں جذب ہو جاتا ہے کچھ عرصے کے بعد ہڈیاں بھی راکھ بن جاتی ہیں۔

رات دن کا مشاہدہ ہے کہ قبر کے اندر مادی جسم یا ہڈیوں کے ڈھانچے پر گوشت پوست، رگ پٹھوں اور کھال سے بنا ہوا جسم پانی میں تبدیل ہو کر زمین میں جذب ہو جاتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مادی جسم فنا ہونے کے بعد انسان نیست و نابود ہو گیا۔ مادی جسم تو مٹی کے ذرات میں تبدیل ہو جاتا ہے لیکن انسان موجود رہتا ہے اور انسان کے اعمال و افعال جاری رہتے ہیں۔ اس حقیقت کو سامنے رکھ کر یہ نتیجہ مرتب ہوا کہ انسان احسن تقویم ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ

’’تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو احسن تقویم پھر ڈال دیا اس کو اسفل السافلین میں۔‘‘(سورۃ التین۔ آیت 4،5)

مرنے کے بعد آدمی کے لئے قرآن خوانی کی جاتی ہے اور ایصال ثواب کیا جاتا ہے۔ کھانا تقسیم کیا جاتا ہے، غریبوں کو لباس پہنایا جاتا ہے۔ اور اس کی ایک بڑی شہادت یہ ہے کہ جب سیدنا حضورﷺ کا بدر کے میدان سے گزر ہوا۔ حضورﷺ نے اپنے صحابیوںؓ کے ساتھ قیام فرمایا اور بدر کے مقام پر کھڑے ہو کر مرنے والوں کی ارواح سے باتیں کیں اور ارشاد فرمایا:

’’اے قبر میں رہنے والو جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا وہ تم نے دیکھ لیا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا وہ میں نے دیکھ لیا۔‘‘

وہاں پر موجود صحابہ کرامؓ نے حضورﷺ سے عرض کیا:

’’یا رسول اللہﷺ! یہ تو مر گئے ہیں، کیا یہ سنتے ہیں؟‘‘

حضورﷺ نے فرمایا:

’’یہ اسی طرح سنتے ہیں جس طرح تم سنتے ہو۔‘‘

تفکر طلب بات یہ ہے کہ جب آدمی مر گیا اور اس کا گوشت پوست مٹی بن گیا اور ہڈیاں راکھ بن گئیں تو قبر میں کون سنتا ہے؟

حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ

’’یہ اسی طرح سنتے ہیں جس طرح تم سنتے ہو۔‘‘ (حدیث)

حضورﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ

’’جب تم قبرستان جاؤ تو کہو السلام علیکم یا اہل القبور‘‘

ان تفصیلات سے یہ شہادت فراہم ہوتی ہے کہ انسان نہیں مرتا بلکہ اس کا مادی جسم مرتا ہے اور مرنے کے بعد مٹی کے ذرات میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ لیکن جسم کو سنبھالنے والی ہستی سلطان موجود رہتی ہے۔ ان معروضات کے نتیجے میں یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ آدمی کی حیثیت عارضی اور فکشن ہے۔ اب اس مضمون کو سمجھنے کیلئے دوسری طرح بیان کیا جاتا ہے۔

ایک کھلونا ہے اور اس کھلونے کی شکل و صورت آدمی کی ہے۔ اس کھلونے کے دو ہاتھ ہیں، دو پیر ہیں، سینہ ہے، گردن ہے اور سر ہے۔ یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے، سائنسی دور میں اس طرح کا کھلونا بڑی آسانی سے بن جاتا ہے۔ اس کھلونے (آدمی کے پتلے) میں چابی بھر دی جاتی ہے تو کھلونا زمین پر چلنے لگتا ہے، اچھلتا ہے اور آواز بھی نکالتا ہے۔ کھلونے میں چابی ختم ہو جائے تو کھلونے کے کل پرزے کام نہیں کرتے یعنی کھلونے (آدمی) کی حیثیت Dead Bodyکی ہو جاتی ہے۔

کائنات میں ہر زمین پر موجود آدمی کی ایک ہی حیثیت ہے، اعمال و افعال بھی ایک ہی طرح کے ہیں۔ جس مقام پر، جس دنیا میں، جہاں بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق آباد ہے وہ اس قانون کے پابند ہیں۔ ہر جہاں میں سلطان اپنا جسم بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق معین وقت پورا ہونے کے بعد لباس کو چھوڑ دیتا ہے۔

جب کوئی بندہ اس راز سے واقف ہو جاتا ہے اور اس کے اوپر یقین کی دنیا روشن ہو جاتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ مادی وجود کی حیثیت عارضی ہے اور مرنے کے بعد یہ وجود مٹی کے ذرات میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ انسان مادی وجود کا نام نہیں ہے۔ مادی وجود کو سنبھالنے والا اور اس کو حرکت دینے والا اور راحت و تکلیف کا احساس کرنے والا سلطان ہے۔

ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انسان دو رخ، دو جسم، دو دماغ یا دو پرتوں سے مرکب ہے، ایک رخ پیدائش کے بعد سے بڑھاپے تک، عارضی اور متغیر ہے اور دوسرا غیر متغیر ہے جو مرنے کے بعد بھی زندہ اور متحرک رہتا ہے۔

ایک آدمی نے ایک دن کے بچے کو دیکھا ہے ، سال تک اس بچہ کو نہیں دیکھا۔ ایک سال کے بعد جب اس بچے کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ یہ بچہ کون ہے تو وہ لاعلمی کا اظہار کرے گا۔ اس کے برعکس چند آدمیوں نے بچے کو سال بھر تک دیکھا ہے۔ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ بچہ کون ہے تو وہ بتا دیتے ہیں کہ یہ فلاں کا بیٹا ہے۔

روحانی علوم کے اساتذہ کرام یہ درس دیتے ہیں کہ انسان نہیں مرتا، انسان کا مادی وجود فنا ہوتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ آدمی قدرت کے ہاتھ میں ایک کھلونا ہے۔ جب تک سلطان مادی وجود کو سنبھالے رکھتا ہے مادی وجود حرکت میں رہتا ہے اور جب سلطان مادی وجود سے رشتہ توڑ لیتا ہے تو مادی وجود بے حس و بے حرکت ہو جاتا ہے اور وجود مٹی کے ذرات میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

روحانیت میں جتنے اسباق پڑھائے جاتے ہیں ان سب کا مقصد یہ ہے کہ آدمی اس بات کو سمجھ لے کہ گوشت پوست کا آدمی عارضی ہے اور یہ عارضی جسم قانون قدرت کے تحت پیدا ہوتا ہے، پھیلتا ہے اور معینہ مدت کے بعد سمٹتا ہے، مرتا ہے اور مٹی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ روحانیت میں جتنے اسباق پڑھائے جاتے ہیں یا جتنی ریاضتیں کرائی جاتی ہیں ان کا مقصد یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کے ماہ و سال پر غور کرے اور اس بات کو سمجھ لے کہ پیدائش کے فوراً بعد گٹھنےاور بڑھنے، بڑھنے اور گھٹنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔

زندگی کے پہلے حصے میں آدمی ایک طرف پھیلتا ہے اور دوسری طرف غائب ہو جاتا ہے اور زندگی کے دوسرے حصے میں آدمی سکڑتا اور سمٹتا ہے اور غائب ہو جاتا ہے۔

پھیلنے، سمٹنے اور غائب ہونے کا عمل پیدائش کے پہلے دن سے شروع ہو جاتا ہے اور زندگی کے آخری دن یہ عمل ختم ہو جاتا ہے۔ پھیلنے، سمٹنے، ظاہر ہونے اور غائب ہونے کے عمل کو سمجھنا تصوف ہے۔

’’وہ کون ہے جو ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا آپ کہہ دیجئے وہ ہی جس نے تمہیں پہلے زندہ کیا تھا۔‘‘(سورۃ بنی اسرائیل۔ آیت ۵۱)


تصوف ایک علم ہے جو غیب کو ظاہر کرتا ہے اور غیب میں موجود دنیاؤں کا مشاہدہ کراتا ہے۔ روحانی علوم سیکھنے والے طالبات و طلباء یہ جانتے ہیں کہ مادی وجود مٹی ہے۔ حقیقت سے واقف ہونے کے لئے جتنے اسباق پڑھائے جاتے ہیں یا جتنی ریاضتیں کرائی جاتی ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ انسان ذہنی طور پر یکسو ہو جائے۔ جیسے جیسے انسان یکسو ہوتا ہے اس کے اوپر حقائق منکشف ہوتے رہتے ہیں اور بتدریج وہ غیبی دنیا سے مانوس ہوتا رہتا ہے۔

زیادہ وضاحت اس بات سے ہوتی ہے کہ انسان کے اوپر خواب کے حواس غالب ہو جاتے ہیں یعنی وہ بیدار رہتے ہوئے خواب کی زندگی میں سفر کرتا ہے اور خواب کے اندر کیے ہوئے اعمال و حرکات کو دیکھتا ہے۔

ہم وضاحت کر چکے ہیں کہ انسان دو شعبوں میں زندگی گزارتا ہے۔ زندگی کا ایک شعبہ یا ایک رخ بیداری ہے اور شعوری حواس ہیں جبکہ زندگی کا دوسرا شعبہ وہ کیفیات اور اعمال و حرکات ہیں جن سے آدمی ماورائی دنیا سے باخبر ہو جاتا ہے۔ ہر انسان دو حواس میں زندگی گزارتا ہے۔

۱۔ حواس پر مکاں کا غلبہ ہوتا ہے۔

۲۔ حواس پر زماں کا غلبہ ہوتا ہے۔

لیکن یہ بات نہایت درجہ  قابل توجہ ہے کہ دن کے حواس میں اور رات کے حواس میں زماں و مکاں دونوں کا عمل دخل ہے۔

مشاہدہ یہ ہے کہ جب ہم سوتے ہیں تب مکاں کا غلبہ تقریباً نفی ہو جاتا ہے جبکہ بیداری کی حالت میں مکاں کا غلبہ رہتا ہے۔ یہ بات انسان کے مشاہدے میں ہے کہ انسان جو کچھ کہتا ہے اس کا ذہن اس طرف نہیں جاتا کہ کون کہتا ہے۔ انسان کہتا ہے کہ میں نے کھانا کھایا، پانی پیا، کتاب پڑھی، میں نے دور دراز کا سفر کیا۔

فکر طلب بات یہ ہے کہ مرنے کے بعد آدمی (Dead Body) کا پوسٹ مارٹم کیا جائے تو مزاحمت کیوں نہیں ہوتی؟۔۔۔

انسان پر جب موت وارد ہوتی ہے تو اس کے ظاہری وجود میں فوری طور پر کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ زید کہتا ہے کہ میں نے کھانا کھایا، پانی پیا۔۔۔تو مرنے کے بعد زید کھانا کیوں نہیں کھاتا، پانی کیوں نہیں پیتا، اخبار کیوں نہیں پڑھتا، زید خط کیوں نہیں لکھتا، زید کو نشتر چبھو دیا جائے تو تکلیف کیوں نہیں محسوس کرتا؟

تفکر ہمیں آگاہی بخشتا ہے کہ جو کچھ کرتے ہیں۔۔۔کھانا کھایا، پانی پیا، سفر کیا، یہ سب زید کا ذہن ہے۔ ذہن سے مراد یہ ہے کہ ہر بشر میں سلطان کی صلاحیت کام کر رہی ہے۔ سلطان دو طرح کام کرتا ہے۔

۱۔ جسم کو میڈیم بنا کر

۲۔ میڈیم سے آزاد ہو کر

قانون

کچھ کرنے، کھانے پینے، خط لکھنے، خط پڑھنے، ایجادات کرنے یا ایجاد نہ کرنے کی نوعیت اطلاع سے زیادہ نہیں ہے۔ جب ہم جاننے، کچھ کرنے، کھانے پینے، شادی وغیرہ کرنے کا تجزیہ کرتے ہیں تو ادراک ہوتا ہے کہ ان سب کی نوعیت اطلاع کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ جب یہ معلوم ہو گیا کہ کچھ کرنے، جاننے، پہچاننے، بھوک لگنے اور پیاس محسوس ہونے کا تعلق اطلاع (Information) کے علاوہ کچھ نہیں ہے تو یہ تلاش کرنا ضروری ہے کہ زید کون ہے؟

زید کون ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ زید کے ذہن کو اطلاعات موصول ہوئیں اور اس نے ان اطلاعات کو قبول کیا، اطلاع دینے والا اور اطلاع کو قبول کرنے والا زید کا ذہن ہے۔ انسان کے اندر دو شعور کام کرتے ہیں۔۔۔

۱۔ عام شعور

۲۔ عام شعور کے برعکس لاشعور

روحانی طالب علم ابتداء میں عام شعور سے سفر کرتا ہے۔ جتنی زیادہ مشقیں کرتا ہے اسی مناسبت سے شعور کی رفتار بتدریج زیادہ ہوتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ لاشعور سے قریب ہو جاتا ہے۔

اس کی مثال مادی دنیا میں یہ ہے۔۔۔

’’بچے اسکول میں داخل ہوتے ہیں تو انہیں Montessoriپڑھائی جاتی ہے۔ Montessoriکی تین کلاسوں کے بعد پہلی، دوسری، تیسری اور دس تک کلاسیں پڑھائی جاتی ہیں۔ میٹرک کے بعد فرسٹ ائیر، سیکنڈ ائیر اور طالب علم پھر بی۔اے، ایم۔اے کا امتحان پاس کرتا ہے۔ اس کے بعد عالم فاضل ہونے کے لئے وہ پی۔ایچ۔ڈی کرتا ہے۔ ان علوم کو حاصل کرنے کے لئے خواتین و حضرات کی کوئی قید نہیں ہے۔ جو بھی یہ علوم حاصل کرنا چاہتا ہے اساتذہ کی نگرانی میں علوم حاصل کر سکتا ہے۔ علم حصولی یعنی مادی علوم پڑھنے کے لئے کلاسیں ہیں۔

طالب علم پہلی سے دسویں کلاس تک پڑھتا ہے۔ فرسٹ ائیر، سیکنڈ ائیر، بی۔اے، ایم۔اے اور پی۔ایچ۔ڈی کر کے کوئی مرد یا کوئی خاتون دنیاوی علوم کے کسی ایک شعبے کی تکمیل کرتے ہیں۔ اسی طرح روحانی علوم سیکھنے کیلئے درجہ بندی یعنی کلاسیں ہیں۔ کوئی سالک (روحانی طالب عالم) جتنا علم حاصل کرنا چاہتا ہے وہ کر لیتا ہے۔

طالب علم جب سلوک کی راہوں میں سفر کرتا ہے تو پہلی کلاس سے دوسری کلاس میں داخل ہو جاتا ہے اور اسی رح روحانی سفر کرتے ہوئے تئیس کلاسوں کا عالم بن جاتا ہے۔ 

روحانی طالب علم جب اسباق پڑھتا ہے اور مشق کرتا ہے تو ابتداء میں غنودگی طاری ہوتی ہے۔ غنودگی سے مراد یہ ہے کہ طالب علم جب آنکھیں بند کر کے بیٹھتا ہے یعنی مراقبہ کرتا ہے تو اس کے اوپر سونے، جاگنے کی درمیانی کیفیت کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ جب دماغ یکسو ہو جاتا ہے تو اس کے اوپر سونے، جاگنے کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ طالب علم کچھ دیکھتا ہے اور کچھ نہیں دیکھتا، کچھ سمجھتا ہے اور کچھ نہیں سمجھتا۔ کچھ یاد رہتا ہے کچھ یاد نہیں رہتا۔ لیکن وہ جو کچھ دیکھتا یا سنتا ہے اس کے دباؤ سے طالب علم کے اوپر غنودگی طاری ہو جاتی ہے، جس کو ہم سونے جاگنے کی کیفیت کہتے ہیں۔

مشق کرتے کرتے شعور کی مزاحمت کم ہوتی رہتی ہے۔ جب شعور کی مزاحمت کم ہوتی ہے تو طالب علم ’’ورود‘‘ (سونے جاگنے کی کیفیت) میں داخل ہو جاتا ہے۔ ’’ورود‘‘ میں جب شعوری مزاحمت کم ہوتی ہے تو سکت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ صلاحیت اور سکت میں اضافہ کے بعد روحانی طالب علم تیسری کلاس (منزل) میں داخل ہو جاتا ہے، اس منزل کو یا اس مقام کو کشف کہتے ہیں۔

کشف کے بعد چوتھی منزل الہام ہے، پانچویں منزل معانقہ ہے اور چھٹی منزل مشاہدہ ہے۔ مشاہدہ کے بعد سیر ہے اور سیر کے بعد فتح کا مقام ہے۔ فتح کے بعد انسلاخ ہے۔

یہ علوم تیئیس کلاسوں میں پڑھائے جاتے ہیں۔ ایک علم کے کئی شعبے ہوتے ہیں جیسے سائنس میں طبیعیات (Physics)، کیمیاء (Chemistry)، حیاتیات (Biology) وغیرہ۔ ریاضی( Mathematics) میں الجبراء(Algebra) اور علم اقلیدس(Geometry) وغیرہ۔ اسی طرح روحانیت میں بھی ایک شعبہ میں کئی علوم پڑھائے جاتے ہیں۔ یہ مثالیں ہم نے اس لئے بیان کی ہیں تا کہ قاری کے ذہن پر اضافی بوجھ نہ پڑے اور بات آسانی سے سمجھ میں آ جائے۔

روحانیت میں جتنے اسباق پڑھائے جاتے ہیں یا مشقیں کرائی جاتی ہیں ان کا مقصد یہ ہے کہ انسان خالی الذہن ہو جائے۔ جیسے جیسے روحانی طالب علم یکسو ہوتا ہے اسی مناسبت سے وہ لاشعوری زندگی سے واقف ہوتا رہتا ہے اور رفتہ رفتہ وہ غیب کے نقوش معلوم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

لاشعوری زندگی میں داخل ہونے کے لئے خالی الذہن ہونے کا مراقبہ ضروری ہے۔ خالی الذہن ہونے سے مراد یہ ہے کہ آدمی کا ذہن ایک نقطہ پر مرکوز ہو جائے۔ مراقبہ کی قسموں سے واقفیت اور مشق کے بعد سالک (روحانی طالب علم) کے اندر اتنی سکت اور صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ بند آنکھوں سے کائنات کی روشنی کا ایک نقطہ دیکھتا ہے۔

مراقبہ میں سالک دیکھتا ہے کہ دل میں سیاہ رنگ نقطہ ہے۔ نقطہ کے مراقبہ کی کامیابی کا اظہار اس بات سے ہوتا ہے کہ سالک نقطہ کے علاوہ کچھ اور نہیں دیکھتا۔ ذہن صرف روشنی کے نقطہ میں مرکوز ہو جاتا ہے۔ یہ نقطہ جب پوری طرح واضح ہو جاتا ہے تو نقطہ کی سیاہی چمک دمک میں منتقل ہو جاتی ہے پھر اس نقطہ میں پھیلاؤ پیدا ہوتا ہے اور یہ پھیلاؤ اسکرین بن جاتی ہے۔ اسکرین میں سالک دیکھتا ہے کہ نقطہ کے وسیع پھیلاؤ سے اسکرین پر کائنات کا پروگرام نشر ہو رہا ہے۔

Topics


Agahee

خواجہ شمس الدین عظیمی

”آگہی “کے عنوان سے شائع ہونے والی یہ کتاب اُن مضامین پر مشتمل ہے جو ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہوئے ہیں۔ اس کتاب میں چند تقاریر بھی شامل ہیں جو عظیمی صاحب نے ملکی و غیر ملکی تبلیغی دوروں میں کی ہیں۔ ان مضامین کو یکجا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ موتیوں کو پرو کر ایک خوبصورت ہار بنا دیا جائے تا کہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لئے یہ ورثہ محفوظ ہو جائے۔

مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے قلم اور زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ قیمتی موتی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مضامین موجودہ اور آنے والے دور کے لئے روشنی کا مینار ہیں۔