Topics

روشنی سے علاج

قرآن پاک کے بیان کردہ حقائق یہ ہیں کہ ہر شئے الگ الگ معین مقدار کے ساتھ تخلیق ہوئی ہے۔ ہر شئے کی لہریں ہمیں وجود کی اطلاع بخشتی ہیں۔ اس وقت ہمیں سوچنا ہے کہ لوہا، تانبا، سونا، لکڑی، انسان اور حیوانات، نباتات اور جمادات میں کون سی لہریں کام کرتی ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ نے تخلیقی فارمولے بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے۔ 

’’وہ خالق جس نے تم کو نفس واحدہ سے تخلیق کیا۔‘‘(سورۃ الاعراف۔ آیت۱۸۹)

یعنی نوع انسانی کی تخلیق میں بنیادی چیز ’’نفس‘‘ ہے۔

یہ نفس کیا ہے؟

اس کی وضاحت میں کافی وقت اور کاغذ درکار ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہ بات منکشف ہوتی ہے کہ کائنات میں موجود ہر شئے مقرر کردہ بنیاد پر قائم ہے۔ مظاہراتی اشیاء (Visible Objects) میں درخت اپنی جڑوں پر، مکان اور بلڈنگیں بنیادوں پر قائم ہیں۔ غیب کی دنیا (Invisible World) میں ہر شئے کی بنیاد روشنی ہے۔

روشنی کا عمل

موجودہ سائنس کی دنیا کسی حد تک واقف ہے کہ کہکشانی اور شمسی نظاموں سے ہماری زمین ہم رشتہ ہے اور ان نظاموں کی روشنی زمین کی نوعوں (انسان، حیوانات، نباتات، جمادات) کوہر لمحہ متاثر کرتی ہے۔ 

سائنس دان ابھی تک یہ سمجھنے پر قادر نہیں ہوئے کہ شمسی نظاموں کے اندر، حیوانات کے اندر، نباتات کے اندر اور جمادات کے اندر روشنی کس طرح اور کیا عمل کرتی ہے۔ کس طرح جانوروں، انسانوں، نباتات اور جمادات کی کیفیات میں رد و بدل کرتی رہتی ہے؟

ہم جب کسی پتھر، لوہے یا لکڑی کو دیکھتے یا چھوتے ہیں تو ہمیں اس چیز کی ساخت کا علم ہو جاتا ہے۔ حالانکہ ہمارے دماغ کے اوپر وہ سخت چیز ٹکراتی نہیں ہے۔ سائنس کے نقطۂ نظر اور علوم کی روشنی میں ہر شئے دراصل شعاعوں یا لہروں کے مجموعے کا نام ہے۔

جب ہم لکڑی,لوہے یا پتھر سے کسی بھی طریقہ سے متوجہ ہوتے ہیں تو لکڑی یا لوہے کی شعاعیں ہمارے دماغ کو باخبر کر دیتی ہیں کہ میں لکڑی ہوں، لوہا پتھر یا مٹی ہوں۔ ہم پانی کو دیکھتے یا چھوتے ہیں تو ہمیں فوراً یہ اطلاع مل جاتی ہے یہ پانی ہے حالانکہ ہمارا دماغ بھیگا نہیں ہے۔ جب دماغ کے اوپر پانی کا کوئی اثر نہیں ہوا ہے ہم یہ کیسے کہہ دیتے ہیں کہ یہ پانی ہے۔

قرآن پاک کے بیان کردہ حقائق یہ ہیں کہ ہر شئے معین مقدار کے ساتھ تخلیق ہوئی ہے۔ لہروں یا شعاعوں کی معین مقداریں ہی ہر شئے کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہیں اور ہر شئے میں یہ لہریں ہمیں اپنے الگ الگ وجود کی اطلاع فراہم کرتی ہیں۔

ہر موجود شئے دراصل لہروں یا شعاعوں کا دوسرا نام ہے اور شئے کی لہر یا شعاع الگ الگ اور معین ہے۔ یہ بات وضاحت طلب ہے کہ لوہا، تانبا، سونا، لکڑی، انسان، حیوانات، جمادات اور نباتات میں کس کس قسم کی لہریں کام کرتی ہیں جو ہر شئے کو ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہیں پیش نظر مضمون میں ہم صرف انسان اور انسان کی نوع پر گفتگو کریں گے۔

چھ نقطے

روحانی علوم میں یہ بات سکھائی جاتی ہے کہ نوع انسانی کی بنیاد پر ایک نفس پر قائم ہے جس کو ہم ایک نقطہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس نقطہ کے چھ رخ ہیں۔ ان کو چھ دائرے بھی کہا جا سکتا ہے۔

دائرہ نمبرایک:جب لہریں ٹوٹ کر بکھرتی ہیں تو واہمہ تخلیق پاتا ہے جب یہی لہریں نمبر ۲ دائرہ میں داخل ہوتی ہیں تو خیال بن جاتا ہے۔ خیال کی روشنیاں جب دائرہ نمبر۳ میں داخل ہوتی ہیں تو تصور بن جاتا ہے اور تصور دائرہ نمبر۴ میں نزول کرتا ہے تو احساس بن جاتا ہے اور جب احساس کی لہریں دائرہ نمبر۵ میں داخل ہوتی ہیں تو مظاہراتی خدوخال کا روپ دھار لیتی ہیں۔

دائرہ نمبر۶ مظاہراتی خدوخال کا یہ روپ جب حرکت میں آتا ہے تو ہم احساس کے اس مرحلے میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں ہم کسی چیز کو پہچان کر اس کا نام رکھ دیتے ہیں۔

جب ہم یہ کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی ’’بنیاد‘‘ پر قائم ہے تو یہ بات بھی طے شدہ ہے کہ انسان کی زندگی میں کام کرنے والے عوامل بھی کسی نہ کسی بنیاد پر قائم ہیں۔ الجھن، اضطراب، پریشانی، بیماری، غم کی بھی ایک بنیاد ہے۔ اسی طرح سکون، راحت، آرام، صحت بھی اسی اصول پر قائم ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’ہم نے اپنی امانت سماوات اور ارض اور پہاڑ کو پیش کی انہوں نے کہا ہم اتنی استطاعت نہیں رکھتے کہ اس امانت کو قبول کر لیں۔ (ہم نے اگر قبول کر لیا تو ہم ریزہ ریزہ ہو جائیں گے) انسان نے اس امانت کو اٹھا لیا بے شک وہ ظالم اور جاہل ہے۔‘‘

(سورۃ الاحزاب۔ آیت ۷۲)

آیت مقدسہ پر غور کرنے کے بعد یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ سماوات، ارض اور پہاڑ بھی شعور رکھتے ہیں۔ کیونکہ کسی چیز کے اقرار یا انکار میں شعور کی کارفرمائی لازمی ہے۔ اس قانون کے تحت زمین بھی باشعور ہے۔ لہٰذا زمین کی کوکھ سے جنم لینے والی ہر چیز باشعور ہے۔ غم، خوشی، سکون، راحت و آرام، اضطراب، الجھن، پریشانی، دماغی کشمکش، اعصابی کشاکش بھی کسی بنیاد پر قائم ہیں۔

چونکہ زمین کی فضا (Atmosphere) سے تعلق رکھتی ہے اس لئے یہ سب چیزیں بھی شعور کے دائرے میں مقید ہیں۔

دائرہ نمبر۵ اور دائرہ نمبر۶ میں اگر لہروں کا توازن برقرار نہ رہے تو سکون کی جگہ اضطراب، خوشی کی جگہ غم، صحت کی بجائے بیماریاں وجود میں آ جاتی ہیں۔

یہ جاننا ضروری ہے کہ کائنات میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے ہم جو کچھ بھی دیکھ رہے ہیں وہ باہر نہیں دیکھ رہے ہیں۔ ہر شئے کا مظہر ہمارے اندر ہے ہم سمجھتے یہ ہیں کہ ہم جو کچھ دیکھتے ہیں ہمارے سامنے ہے۔ حالانکہ کسی شئے کا خارج میں موجود ہونا کافی نہیں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم ہر چیز کا مشاہدہ اپنے اندر کرتے ہیں اور یہ سب کا سب ہمارا علم ہے۔ وہ علم جو ہمارے اندر کام کرنے والے چھ دائروں سے گزر کر ہمیں اطلاع بخشتا ہے اگر ہمیں کسی شئے کا علم حاصل نہ ہو تو ہم اس چیز کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے یا اس کا ادراک نہیں کر سکتے۔

علم لہر یا شعاع سے باخبر انسان یہ بات سمجھنے پر قدرت حاصل کر لیتا ہے کہ لہروں میں کیا تغیر واقع ہو گیا ہے جس کی وجہ سے اضطراب یا کوئی بیماری انسان کے اوپر مسلط ہو گئی ہے۔ علاج کے مختلف طریقے رائج ہیں۔

معالج اس حقیقت کو سمجھتے ہوں یا ان کی نظر اس طرف نہ گئی ہو لیکن یہ مسلمہ امر ہے کہ وہ ہی دوائیں آرام پہنچاتی ہیں جو لہروں کے نظام میں معاون ہوں۔

اگر کسی مریض کو ایسی دوائیں دی جائیں جو اس کی کٹی ہوئی بکھری ہوئی ٹوٹی ہوئی متحرک لہروں کے توازن کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوں تو مریض شفا حاصل کر لیتا ہے بصورت دیگر مریض صحت یاب نہیں ہوتا۔

قانون

قانون قدرت کے تحت دواؤں کا قیام یا عمل پذیری بھی لہروں اور صرف لہروں پر ہے۔ 

ہر علاج میں یہی اصول کارفرما ہے منجملہ تمام مروجہ طریقۂ علاج کے علاوہ ایک طریقۂ علاج یہ بھی ہے جو علم سینہ سے تعلق رکھتا ہے۔ جس میں معالج کو ایسے علم سے روشناس کرایا جاتا ہے، جس میں لہروں کے نظام سے بحث کی جاتی ہے۔

معالج تعلیمی اور تربیتی نصاب کی تکمیل کے بعد اس بات سے باخبر ہو جاتا ہے کہ کون کون سی لہروں میں تغیر یا کمی بیشی ہونے کی وجہ سے امراض لاحق ہوتے ہیں اور لہروں کو اگر متوازن کر دیا جائے تو مریض صحت یاب ہو جاتا ہے۔

امراض کا روحانی علاج

معالج کو یہ مشق کرائی جاتی ہے کہ اس کے اندر لہروں کا ذخیرہ اس قدر ہو جاتا ہے کہ زندگی میں کام کرنے والی لہر معالج کے اندر متحرک ہو جاتی ہیں۔ معالج مشق کے بعد جب اس قدر (Magnetized) ہو جاتا ہے تو وہ صحت مند لہریں مریض کے اندر ذخیرہ کر دیتا ہے اور مریض میں لہروں کا بکھرا ہوا نظام بحال ہو جاتا ہے۔ 

ایک طرف لہریں مریض میں جذب ہو جاتی ہیں تو دوسری طرف معالج کے اندر سے صحت مند لہریں مریض کے اندر ذخیرہ ہو جاتی ہیں۔ نتیجہ میں مریض صحت مند ہو جاتا ہے۔

مشق کا طریقہ

مشق نمبر ۱: 

وقت مقرر کر کے کسی گوشہ میں بیٹھ جائیں آلتی پالتی مار کر یا اس طرح جیسے نماز میں بیٹھتے ہیں۔ منہ شمال کی طرف کر کے ناک کے نتھنوں سے آہستہ آہستہ بہت آہستہ سانس اندر کھینچیں جتنی دیر سانس اندر لے سکیں۔ گھڑی دیکھ کر پندرہ سیکنڈ سانس روکے رکھیں اور پھر آہستہ آہستہ منہ کھول کر سانس باہر نکال دیں جس وقت سانس باہر نکالیں، منہ اس طرح کھلنا چاہئے جس طرح سیٹی بجاتے وقت ہونٹ گولائی میں کھلتے ہیں۔

اس عمل کو پچیس مرتبہ دہرائیں اگر دماغ کے اوپر زیادہ دباؤ محسوس ہو تو گیارہ دفعہ سے شروع کر کے بتدریج ۲۵ مرتبہ تک اس مشق کو معمول بنا لیں چالیس روز کی صبح شام مشق کے بعد کوئی بھی شخص ۱۵ سیکنڈ تک سانس روکنے پر قدرت حاصل کر لیتا ہے۔ اس مشق کے بعد اندھیرا کر لیں آنکھوں پر ہلکا روئیں دار تولیہ باندھ لیں گرفت ایسی ہونی چاہئے کہ آنکھوں پر دباؤ نہ پڑے۔ آنکھوں پر تولیہ باندھنے سے مقصد یہ ہے کہ پپوٹوں کی حرکت معطل ہو جائے۔

مراقبہ میں بیٹھ جائیں اور بائیں طرف متوجہ ہو کر بند آنکھوں سے اپنے دل کے اندر دیکھنے کی کوشش کریں۔ تصور یہ ہونا چاہئے کہ میں خیالات و تصورات اور احساسات کے ساتھ اپنے دل کے اندر موجود ہوں اور میں روشنیوں کا بنا ہوا ہوں۔

چالیس روز کی مشق پوری ہونے کے بعد انسان اپنے اندر خود کا مشاہدہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے جب آپ خود کو اپنے مثالی پیکر کو یا روشنیوں کے تانے بانے سے بنے ہوئے اپنے جسم کو دل کے اندر دیکھ لیں تو یہ تصور کریں کہ میرے دل کے اندر ایک دنیا آباد ہے اور میں اس دنیا میں چل پھر رہا ہوں۔

یاد رہے کہ مراقبہ کے وقت پیٹ خالی ہونا چاہئے۔ مراقبہ اور سانس کی مشق کم از کم کھانے کے تین گھنٹے بعد کریں۔

زیادہ مناسب ہے کہ صبح صادق کے وقت ۲x۲فٹ خالص سیسہ کی پلیٹ پر دونوں ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں۔ سفید پلاسٹک پر ایک انچ کے برابر ایک دائرہ بنا کر اس میں سیاہ چمکدار روشنی بھر دیں۔ یہ پلاسٹک سامنے دیوار پر لٹکا دیں۔ اس دائرے اور آپ کے درمیان تین سے پانچ فٹ کا فصلہ ہونا چاہئے۔ سیسہ کی پلیٹ پر ہاتھ رکھے رکھے اس سیاہ دائرے پر نظر جما دیں اس طرح کہ پلک نہ جھپکے۔

شروع میں آنکھوں سے پانی نکلے گا اور آنکھوں میں جلن بھی ہو گی۔ ناک سے بے تحاشہ پانی بہے گا۔ اگر مزاج صفراوی ہے تو منہ سے کھٹا اور بدبو دار لعاب بھی خارج ہو سکتا ہے۔ کانوں میں سماعت کے پردہ میں تناؤ اور تشنج کی کیفیت رونما ہو گی لیکن ان تمام باتوں میں سے کسی کی پروا نہ کریں اور یہ مشق ۱۵ منٹ سے شروع کر کے ایک گھنٹے کے وقفے تک لے جائیں۔

نوٹ: اس مشق کے لئے استاد کی رہنمائی ضروری ہے۔

مشق نمبر۲:

دو چلے پورے کرنے کے بعد نظر کے اندر اتنا ٹھہراؤ پیدا ہو جاتا ہے کہ نظر آپ کے ارادے کے زیر اثر آپ کے اندر مشاہدہ کرنے لگے گی (بشرطیکہ مشق میں ذہنی یکسوئی ہو) ان ۸۰ دنوں کی مشقوں اور مراقبے کے نتیجے میں الجھن، اکتاہٹ، بیزاری اور شدید مایوسی کے دورے پڑ سکتے ہیں۔ شعور اپنی پوری صلاحیت اس بات کے لئے صرف کر دے گا کہ جس طرح بھی ہو آپ ان مشقوں کو ترک کر دیں آپ کا کام یہ ہے کہ آپ شعور کی اس بغاوت کو نہایت بے دردی سے کچل دیں۔

یاد رکھئے! شعور کی مزاحمت کو ختم کرنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ آپ کسی مزاحم خیال کو رد کر دیں۔ شعور کو مغلوب کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مزاحمت کرنے والے خیالات کو آنے دیں اور اپنے عمل میں مشغول رہیں۔

اگر شعور کے باغیانہ خیالات کی تردید میں ذہن گرفتار ہو گیا تو ہر وقت اس کے پست (Inactive) ہونے کا امکان ہے۔ مشق کرتے وقت خیالات کو آنے دیجئے خود گزر جائیں گے اس چکر میں نہیں پڑنا چاہئے کہ یہ خیال کیوں آ رہا ہے یا اس قسم کے خیالات نہ آئیں۔


ان مشقوں کے نتیجے میں جب ذہن کے اندر اتنی استعداد پیدا ہو جائے کہ نظر ارادہ کے تحت مشاہدہ کرنے لگے تو مراقبہ میں کھلی آنکھوں سے، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے یہ محسوس کریں کہ آپ کے ہر طرف نور کا دریا ہے۔

نور کا دریا

یہ تصور قائم کریں کہ نور کا دریا میرے اندر جذب ہو رہا ہے۔ کچھ عرصہ مشقوں کے بعد آپ دیکھیں گے کہ آپ کو ہر چیز دریا میں ڈوبی ہوئی نظر آ رہی ہے اور آپ جب یہ مشاہدہ کر لیں کہ آپ تصوراتی طور پر دریا میں ڈوب گئے ہیں تو یہ مشق مکمل ہو جائے گی۔

اس مشق کی تکمیل کے بعد چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، کھلی، بند آنکھوں سے اور مراقبہ میں نور کی بارش اس طرح برستے دیکھیں جس طرح کہ ہم بارش کو دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں۔ تصور یہ ہونا چاہئے کہ ہمارے اوپر نور کی بارش ہو رہی ہے۔ مشق کی کامیابی کے نتیجے میں مشق کرنے والا بندہ دیکھ لیتا ہے کہ اس کے اوپر نور کی بارش ہو رہی ہے اور جب آپ بوندوں کی لطافت محسوس کرنے لگیں اس مرحلے پر یہ مشق تکمیل کو پہنچ جائے گی۔

مشق نمبر ۳

مراقبے میں اٹھتے بیٹھتے، بند اور کھلی آنکھوں سے یہ محسوس کریں کہ میں ایک گنبد میں بند ہوں جس میں نور کی شعاعیں اور لہریں نکل رہی ہیں۔ اپنے اندر نور کی شعاعیں جذب ہونے کا تصور کریں۔ معمولی سی کوشش کے بعد یہ مشق بھی پوری ہو جائے گی۔

مشق نمبر۴

چوتھی مشق یہ ہے کہ پارہ کا ایک حوض ہے جس میں آپ ڈوبے ہوئے ہیں جب حوض آپ کے مشاہدہ میں آ جائے گا اور آپ اس کے اندر ڈوب جائیں گے تو مشق مکمل ہو جائے گی۔

مشق نمبر۵

پانچویں مشق یہ ہے کہ ان چاروں مشقوں کو ایک ساتھ دہرائیں اور کامیابی ہونے تک دہراتے رہیں۔ ان تمام مشقوں کے ساتھ ساتھ سانس کی مشق، حلقہ بینی یعنی نظر جمانے کی مشق اور مراقبہ بدستور جاری رکھنا ضروری ہے۔

اس عمل کے بعد آپ کے اندر اتنی سکت پیدا ہو جائے گی کہ آپ کسی بھی بیماری کی تصویر اپنے اندر دیکھ لیں گے۔ ارادہ کے تحت یہ حکم دیں کہ بیماری ختم ہو گئی۔ کمزوری دور ہو گئی، درد رفع ہو گیا، مریض صحت مند ہے۔ وغیرہ

نوٹ: عرض ہے کہ مشق کرنے سے پہلے کامل استاد کی رہنمائی ضروری ہے۔

Topics


Agahee

خواجہ شمس الدین عظیمی

”آگہی “کے عنوان سے شائع ہونے والی یہ کتاب اُن مضامین پر مشتمل ہے جو ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہوئے ہیں۔ اس کتاب میں چند تقاریر بھی شامل ہیں جو عظیمی صاحب نے ملکی و غیر ملکی تبلیغی دوروں میں کی ہیں۔ ان مضامین کو یکجا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ موتیوں کو پرو کر ایک خوبصورت ہار بنا دیا جائے تا کہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لئے یہ ورثہ محفوظ ہو جائے۔

مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے قلم اور زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ قیمتی موتی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مضامین موجودہ اور آنے والے دور کے لئے روشنی کا مینار ہیں۔